پاکستانی فورسز نے گزشتہ کئی روز سے زہری میں کرفیو نافذ کر دی ہے، بازار اور شاہراہیں بند ہیں۔
بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل زہری گزشتہ کئی روز سے پاکستانی فورسز کے کرفیو کی زد میں ہے، جہاں زہری کے واحد نورگامہ بازار میں تمام دکانیں اور کاروبار بند کرا دیے گئے ہیں، جبکہ پاکستانی فورسز نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا ہے۔
کرفیو کے باعث زہری کا بذریعہ سڑک خضدار اور کوئٹہ سے رابطہ بھی منقطع کردیا گیا ہے، جہاں انجیرہ کراس کے قریب علاقے میں داخل ہونے اور باہر جانے والی گاڑیوں کو روک دیا جاتا ہے۔
زہری کے صحافیوں کے مطابق علاقے میں گزشتہ سال بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد پاکستانی فورسز نے کیمپ قائم کر دیے تھے، جس کے بعد وقفے وقفے سے علاقے میں کرفیو نافذ کیا جاتارہا ہے۔
شہریوں نے شکایت کی ہے کہ مسلسل کرفیو کے باعث رمضان کے مہینے میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ زہری کے عوام اپنی روزمرہ ضروریات اور خوردونوش کا سامان خضدار اور کوئٹہ سے منگواتے ہیں، تاہم کرفیو کے باعث ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
شہریوں نے کئی بار حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ علاقے میں کرفیو ختم کیا جائے، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
واضح رہے کہ زہری کی طرح بلوچستان کا ضلع نوشکی بھی پاکستانی فورسز کے کرفیو کی زد میں ہے، جہاں گزشتہ ماہ بلوچ لبریشن آرمی کے حملوں کے بعد پاکستانی فورسز نے شہریوں کو بازار بند رکھنے اور شام کے بعد سفر کرنے سے منع کردیا ہے۔
نوشکی سے موصول اطلاعات کے مطابق پاکستانی فورسز نے علاقہ عمائدین اور شہریوں کو کہا ہے کہ جب تک وہ پاکستانی فوج کے حق میں اور بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بی ایل اے کے خلاف ریلی نہیں نکالتے کرفیو نافذ رہے گا۔


















































