بلوچ یکجہتی کمیٹی زہری ،کرفیو اور سوراب کے علاقے میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کی شدید مذمت کرتی ہے۔
تنظیم نے کہاہے کہ گزشتہ چار دنوں سے زہری میں مکمل کرفیو نافذ ہے، جس کی وجہ سے عام لوگوں کی زندگی بہت مشکل ہو گئی ہے۔ رمضان کے بابرکت مہینے میں خاندان خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ چھوٹے بچے بھوک سے روتے ہیں اور بیمار لوگ ہسپتال یا دوا تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔ تمام راستے بند ہونے کی وجہ سے نہ صرف شہر بلکہ قریبی دیہات بھی کٹ گئے ہیں، جس سے ہزاروں لوگ دونوں طرف سے نقل و حرکت سے محروم ہیں۔
جبکہ اسی دوران، پاکستانی فورسز نے سوراب اور آس پاس کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی۔ بڑی تعداد میں فوجی گاڑیوں کے ہمراہ علاقے میں داخل ہوئے اور گھروں میں چھان بین شروع کی۔ کئی گھروں پر چھاپے مارے گئے، اور کئی جگہ دروازے اور کھڑکیاں توڑی گئیں، جس سے لوگوں کی جائیداد کو نقصان پہنچا۔ خواتین اور بچوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا گیا، دھکیل دھکیل کر بدسلوکی کی گئی اور گھریلو سامان و فرنیچر کو نقصان پہنچایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ یہ کارروائیاں مقامی آبادی کے لیے سنگین انسانی بحران پیدا کر رہی ہیں، جو پہلے ہی کرفیو اور فوجی آپریشنز کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ان بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائیں اور پاکستان اور اس کے اداروں کو جوابدہ بنائیں۔
















































