زامران کا ستارہ – زمرُد بلوچ

1

زامران کا ستارہ

تحریر: زمرُد بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

میں نہیں جانتی کہ کیسے آغاز کروں، کیونکہ میں نے پہلے کبھی کچھ نہیں لکھا اور نہ ہی میں لکھنے کے لیے تیار تھی۔ مجھے یہ بھی احساس ہے کہ میں کبھی اپنے کرداروں کے ساتھ مکمل انصاف نہیں کر سکوں گی۔

اس وقت بلوچ ہونا شاید دنیا کے مشکل ترین حالات میں سے ایک ہے۔ جہاں ایک پنجابی نوجوان کا خواب اچھی ڈگری، اچھی نوکری، بہتر کیریئر اور پرسکون زندگی ہوتا ہے، وہیں ہم بلوچوں کے پاس صرف دو راستے رہ گئے ہیں یا تو ہم اپنے وطن میں ہونے والے حالات سے لاتعلق ہو کر صرف اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں سوچیں، یا پھر جنگ کا راستہ اختیار کریں۔ یہ وہ جنگ ہے جس کا انتخاب بلوچ نے خود نہیں کیا، بلکہ یہ اس پر مسلط کی گئی ہے۔ اس جنگ میں ہم اپنے کتنے ہی لال قربان کر چکے ہیں۔ کاش بلوچوں کو یہ سب نہ دیکھنا پڑتا۔ مگر اب جب جنگ ہم پر تھوپ دی گئی ہے، اور ایک قابض ہماری ہی زمین پر ہمیں ذلیل کرنے آیا ہے، تو ہم پر لازم ہو جاتا ہے کہ ہم اس کا جواب دیں۔

لیکن ہر بلوچ ایسا نہیں ہوتا جو اپنے خواب بیچ کر جنگ کا سودا کرے۔ ہم پر یہ بھی فرض ہے کہ ہم ہر اس پھول کو یاد رکھیں جس نے اپنی زندگی وطن کے لیے قربان کر دی، جس نے اپنے خون سے اس سرزمین میں بہار لانے کی کوشش کی۔

آج میں نے قلم زامران کے ایک ستارے، گہرام بلوچ، کے بارے میں لکھنے کے لیے اٹھایا ہے۔ میں جانتی ہوں کہ میں ان کے ساتھ انصاف نہیں کر پاؤں گی، مگر یہ سوچ کر لکھ رہی ہوں کہ اگر آج نہ لکھا تو شاید آنے والی نسلیں اپنے اس ستارے کو بھول جائیں۔

پہلے دن جب میں یونیورسٹی گئی تو میری ملاقات گہرام سے ہوئی۔ اس کے بعد ہم اکثر دوستوں کے ساتھ اکٹھے بیٹھتے۔ کچھ ہی وقت میں مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ باقی لوگوں سے مختلف سوچتا اور بولتا ہے۔ گہرام جب بات کرتا تھا تو اسے اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی تھی کہ کوئی اسے جج کرے گا یا کیا سوچے گا۔ اسی لیے دوست اکثر اسے “ریڈیکل” کہتے تھے۔ کئی بار مختلف موضوعات پر ہماری بحث ہوتی۔ مجھے زندگی نے صرف تین مواقع دیے کہ میں اس کے ساتھ بیٹھ کر اس کی باتوں سے اختلاف کر سکوں۔

میں جنگ کے خلاف بات کرتی تھی، جبکہ وہ اسے قوم کے لیے آخری راستہ قرار دیتا تھا۔ میں خدا کے وجود کے حق میں بات کرتی تھی، اور وہ کہتا تھا کہ اس نے ابھی تک بلوچوں کے لیے موجود خدا نہیں دیکھا۔ میں نے اس کے ساتھ بیٹھ کر جنگ کے علاوہ ہر ممکن راستے پر بحث کی، کیونکہ میں تشدد کے خلاف تھی۔ مگر ہر بار نتیجہ یہی نکلتا کہ یا تو بلوچ اغوا اور ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو جائے، یا اپنی قوم سے لاتعلق ہو جائے، یا پھر جنگ کرے۔ وہ کہتا تھا کہ حالات نے بلوچ کو ان تین راستوں تک محدود کر دیا ہے۔

ایک بار اس نے کہا کہ موجودہ وقت میں وہ بلوچ نوجوان خوش قسمت ہے جو اپنی موت کا وقت، جگہ اور تاریخ خود منتخب کر سکے۔ رمضان کی ایک صبح، سحری کے بعد ہم بیٹھے اور جنگ پر گفتگو کرنے لگے۔ بحث کے دوران میں رو پڑی اور کہا کہ یہ جنگ بلوچ کے وجود کو ختم کر دے گی۔ اس نے کہا: “کبھی نہیں۔ اتنے سالوں میں بلوچ ختم نہیں ہوا، اب تو بلوچ نے اپنے دشمن کو کمزور کر دیا ہے۔ یہ جنگ اب فیصلہ کن مرحلے میں ہے۔”

اسی دن اس نے کہا کہ اگر کبھی اس کے بارے میں ایسی خبر ملے تو خوش ہونا، کیونکہ اسے وہ مل گیا ہوگا جس کی وہ خواہش رکھتا تھا، اور کبھی دل خفا نہ کرنا۔

بلوچ رہنماؤں میں بابا خیر بخش اس کے پسندیدہ تھے۔ وہ اکثر ان کا حوالہ دیتا اور کہتا کہ انہیں پڑھو تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ بلوچ کی بقا کے لیے جنگ کیوں ضروری ہے۔ زندگی نے ہمیں زیادہ وقت نہیں دیا۔ مگر ہر بار جب میں اس سے ملتی، مجھے یوں لگتا جیسے یہ آخری ملاقات ہو۔ میں جانتی تھی کہ ایک بار وہ چلا گیا تو واپس نہیں آئے گا اور ایسا ہی ہوا۔ اس کے بعد دو بار مختصر رابطہ ہوا۔ میں نے کہا کہ میں تھک گئی ہوں بلوچ کے لیے جنگ کے علاوہ کوئی راستہ تلاش کرتے کرتے۔ اس نے کہا: “تھکنا نہیں، ابھی تمہارے پاس بہت وقت ہے۔” مگر وقت کہاں تھا؟ جنہیں میں روکنا چاہتی تھی، انہیں نہ روک سکی۔ وہ چلے گئے، ہمیشہ کے لیے۔ پھر ایک دن خبر آئی کہ وہ شہید ہو گیا۔ اسے وہ مل گیا جس کی وہ خواہش رکھتا تھا، مگر ہمیں ایک ایسی شرمندگی دے گیا کہ ہم کچھ نہیں کر رہے۔

یہ جنگ ہم سے کتنے گہرام لے گئی ہے، اور نہ جانے کتنے اور لے جائے گی۔ اگر ہم اس جنگ کا براہ راست حصہ نہیں بن سکتے، تو کم از کم ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم اپنے ہر گہرام کو اپنے دلوں میں زندہ رکھیں۔ میں آج بھی یہی کہتی ہوں جنگ ظالم ہے، جنگ کافر ہے، جنگ بے ایمان ہے، جنگ بے دین ہے۔ جنگ کب انسان دوست رہی ہے؟ شاید خدا جنگ اس قوم کے نصیب میں لکھتا ہے جو اسے پسند نہ ہو، اسی لیے یہ بلوچ پر مسلط ہوئی شاید خدا کو بلوچ کبھی پسند ہی نہیں تھا۔ مگر جب جنگ سر پر مسلط کر دی جائے، تو وہی جنگ دین بھی بن جاتی ہے، ایمان بھی، رحم بھی اور انسان دوستی بھی بن جاتی ہے اور جو اس جنگ سے بھاگے، وہ کافر، بے ایمان، بے دین اور قوم دشمن کہلاتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔