دشمن کی فوجی مہم جوئی اور بدعہدی پر گرفتار سات اہلکاروں کی سزائے موت پر عملدرآمد کردیا گیا – بی ایل اے

56

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ تنظیم کی سینئر کمانڈ کونسل کے فیصلے کے مطابق، “آپریشن ہیروف دوم” کے دوران گرفتار ہونے والے قابض پاکستانی فوج کے سات اہلکاروں کی سزائے موت پر آج مکمل طور پر عملدرآمد کردیا گیا ہے۔ ان اہلکاروں کو، جن کا تعلق دشمن فوج کے ریگولر یونٹس سے تھا، بلوچ قومی عدالت نے جنگی جرائم، بلوچ نسل کشی، جبری گمشدگیوں میں معاونت اور شہری آبادیوں پر مظالم کے ناقابلِ تردید ثبوتوں کی بنیاد پر سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔ تنظیم نے بین الاقوامی جنگی قوانین اور اعلیٰ انسانی اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے، چودہ فروری کو ان قیدیوں کے بدلے بلوچ اسیران کی رہائی کے لیئے ایک ہفتے کی مہلت دی تھی، جسے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مزید چودہ روز تک توسیع دی گئی۔

ترجمان نے کہاکہ اس طویل مہلت کے دوران یہ حقیقت مکمل طور پر آشکار ہوگئی کہ قابض پاکستانی ریاست اور اس کی عسکری قیادت اپنے اہلکاروں کی جانیں بچانے میں قطعاً سنجیدہ نہیں ہے۔ دشمن نے قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے ہونے والے ابتدائی رابطوں کو محض ایک جنگی چال کے طور پر استعمال کیا تاکہ اس دوران مخصوص علاقوں میں نئی فوج کشی اور بڑے پیمانے پر جارحیت کے لیئے وقت حاصل کیا جاسکے۔ ایک طرف ٹال مٹول اور مصنوعی طویل طریقہ کار کے بہانے بنا کر وقت ضائع کیا گیا اور دوسری طرف انہی علاقوں میں گن شپ ہیلی کاپٹروں، ڈرونز اور بھاری عسکری کمک کے ذریعے وحشیانہ آپریشن شروع کردیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ بی ایل اے کی سینئر کمانڈ کونسل اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ دشمن، انسانی بنیادوں پر دی گئی رعایت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے مزید خونریزی اور بلوچ سرمچاروں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے لیئے استعمال کررہا ہے۔ تنظیم نے اخلاقی برتری اور عالمی ضوابط کے تحت دشمن کو محفوظ واپسی کا ہر ممکن راستہ فراہم کیا، مگر قابض کی مسلسل مکارانہ روش اور میدانِ جنگ میں دھوکہ دہی نے ثابت کردیا کہ وہ صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہے۔ لہٰذا، بلوچ قومی عدالت کے حتمی فیصلے کے مطابق ان ساتوں جنگی قیدیوں کی سزا پر آج عملدرآمد کردیا گیا ہے۔ ان ہلاکتوں کی تمام تر ذمہ داری براہِ راست پاکستانی فوج کی ہائی کمانڈ پرعائد ہوتی ہے، جس نے اپنے سپاہیوں کی زندگیوں کو اہمیت دینے کے بجائے اپنی انا، جنگی مہم جوئی اور مکارانہ چالوں کو ترجیح دی۔