دشت: کُڈان میں فورسز مرکزی کیمپ پر حملہ، بکتر بند تباہ، لیویز تھانہ و نادرا آفس پر کنٹرول

0

کیچ کے علاقے دشت، کڈان میں پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کو ایک حملے میں نشانہ بنایا گیا جبکہ فورسز کی کمک کیلئے پہنچنے والے قافلے پر حملہ کیا گیا۔ مسلح افراد نے لیویز تھانے اور نادرا آفس کا بھی کنٹرول حاصل کیا۔

گذشتہ شب مغرب کے وقت کڈان کے علاقے میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آواز کا آغاز ہوا جو تقریباً رات دس بجے تک جاری رہی۔

ذرائع نے ٹی بی پی کو بتایا مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد نے فورسز کے مرکزی کیمپ کو حملے میں نشانہ بنایا جبکہ فورسز کی کمک کیلئے پہنچنے والے قافلے پر بھی حملہ کیا گیا جہاں بم دھماکے میں فورسز کی بکتر گاڑی تباہ ہوگئی۔

علاقائی ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے لیویز تھانے اور نادرا آفس کو بھی کنٹرول میں لیا اور اہلکاروں کا اسلحہ تحویل میں لیا گیا۔

حکام نے اس حوالے سے تاحال کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہے۔

گذشتہ شب کوئٹہ سے متصل لکپاس کے مقام پر پاکستانی فورسز کے پوسٹ کو مسلح افراد نے حملے میں نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں فورسز کو جانی نقصانات کی اطلاعات ہیں جبکہ حملے کے دوران پہاڑ پر نصب ریڈار سسٹم کو بھی حملہ آوروں نے نذر آتش کرکے تباہ کیا۔

اس سے قبل ضلع واشک میں واقع شمسی ایئربیس پر بی ایم 12 راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔

گذشتہ روز جھل مگسی میں پولیس اسٹیشن کو کنٹرول میں حاصل کرنے کے بعد علاقے میں پہنچنے والی فوج کے قافلے کو حملے میں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں فوج کی تین گاڑیاں تباہ ہوگئی جبکہ متعدد اہلکار ہلاک ہوئیں۔

اٹھائیس مارچ سے جاری ان سلسلہ وار حملوں کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے گذشتہ شب ایک مختصر بیان میں کہا کہ بلوچستان کے طول و عرض میں پاکستانی فوج کے خلاف ہمارے مربوط حملوں کا سلسلہ پوری قوت سے جاری ہے۔

ترجمان کے مطابق اب تک جھل مگسی، کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، واشک، دالبندین، خاران، پنجگور اور کیچ سمیت مختلف علاقوں میں پاکستانی فوج کے کیمپوں، عسکری تنصیبات اور قابض فوج کے “ڈیتھ اسکواڈز” کے ٹھکانوں پر 30 سے زائد حملے کیئے جاچکے ہیں۔