جب مٹی پکارے – فتح بلوچ

0

جب مٹی پکارے

تحریر: فتح بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

وہ نوجوان شہر کی پرانی گلیوں میں ایک خاموش کتاب کی طرح رہتا تھا، جسے ہر کوئی دیکھتا تو تھانمگر کم ہی لوگ پڑھ پاتے تھے۔ اس کا نام عدنان (سبزو) تھا۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ، تاریخ اور فلسفے کا طالبِ علم، اور لفظوں کا ایسا امین کہ اس کی تحریر میں مٹی کی خوشبو اور آسمان کی وسعت ساتھ ساتھ سانس لیتی تھیں۔ لوگ اسے ادیب کہتے، دوست اسے شاعر سمجھتے، اور وہ خود کو محض اپنے وطن کا ایک قرض دار مانتا تھا۔

عدنان کی آنکھیں اکثر تھکی ہوئی دکھائی دیتیں، یہ تھکن راتوں کی جاگنے سے نہیں، بلکہ خوابوں کی کثرت سے تھی۔ اس نے اپنی جوانی کتابوں کے اوراق میں گزاری تھی، جہاں قوموں کے عروج و زوال کے قصے تھے، جہاں آزادی کی قیمت خون سے ادا کی جاتی تھی، اور جہاں قلم کبھی کبھی تلوار سے زیادہ کاٹ رکھتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ لفظوں میں طاقت ہوتی ہے، مگر وہ یہ بھی سمجھتا تھا کہ کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب لفظوں کو لہو کی گواہی درکار ہوتی ہے۔

اس کی آواز نرم تھی، لیکن جب وہ بولتا تو یوں محسوس ہوتا جیسے صدیوں کی صداقت اس کے لہجے میں بسی ہو۔ اس کی گفتگو میں دلیل تھی، مگر دلیل سے زیادہ یقین تھا۔ دوست اکثر کہتے، “عدنان ! تمہاری آنکھوں میں عجیب سی امید ہے، جیسے تم ہار ماننے کے لیے پیدا ہی نہیں ہوئے۔” وہ مسکرا دیتا۔ اس کی مسکراہٹ میں اداسی کی ہلکی لکیر ضرور ہوتی، مگر اس کے پیچھے ایک اٹل عزم بھی چھپا ہوتا۔

وطن اس کے لیے محض جغرافیہ نہیں تھا؛ وہ اس کی ماں کی دعا تھا، باپ کی پیشانی کا پسینہ تھا، اور ان گلیوں کی خاموشی تھی جہاں بچے بے خوف کھیلنا چاہتے تھے۔ عدنان نے کئی شعر اور افسانے لکھیں، ظلم کے خلاف، ناانصافی کے خلاف، ان گمشدہ آوازوں کے لیے جنہیں سننے والا کوئی نہ تھا۔

مگر حالات نے جلد ہی اس کے لفظوں کو امتحان میں ڈال دیا۔

شہر میں خوف کی ایک دبیز چادر پھیل گئی۔ گلیوں میں سرگوشیاں تھیں، دروازوں پر دستکیں تھیں، اور لوگوں کے چہروں پر سوال۔ عدنان کے کئی دوست خاموش کرا دیے گئے۔ کچھ نے جلاوطنی اختیار کی، کچھ نے قلم توڑ دیا۔ اس کے سامنے بھی راستے کھلے تھے، خاموشی، ہجرت، یا مزاحمت۔

ایک رات وہ اپنی میز پر جھکا بیٹھا تھا۔ سامنے ادھوری نظم پڑی تھی۔ مصرعہ کچھ یوں تھا:

“جب مٹی پکارے، تو لفظوں کا قرض ادا کرنا پڑتا ہے

اس نے قلم رکھ دیا۔ کھڑکی سے باہر دیکھا۔ دور کہیں اذان کی مدھم آواز آ رہی تھی۔ اس لمحے اسے محسوس ہوا کہ وطن کی پکار محض نعرہ نہیں، ایک امانت ہے، جو اس کے سینے میں دھڑک رہی ہے۔

عدنان ہمیشہ کہتا تھا کہ اگر ہم خاموش رہے تو ہماری آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ علم ہمیں بزدلی نہیں سکھاتا، علم ہمیں ذمہ داری سکھاتا ہے۔”

سبزو کا کمرہ کتابوں سے بھرا رہتا تھا۔ الماریوں میں سجی ہوئی جلدیں، میز پر بکھرے ہوئے اوراق، اور بستر کے کنارے رکھی ادھ کھلی کتابیں، گویا اس کی دنیا انہی لفظوں میں سمٹی ہوئی تھی۔

وہ ہمیشہ کتابوں میں یوں ڈوبا رہتا تھا جیسے برسوں کا بھوکا اچانک دسترخوان پر ٹوٹ پڑے۔ علم اس کے لیے محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھا؛ وہ اسے سانس کی طرح لیتا تھا، اور ہر صفحہ پلٹتے ہوئے یوں محسوس کرتا جیسے اپنی قوم کے ماضی، حال اور مستقبل سے مکالمہ کر رہا ہو۔

کبھی وہ تاریخ کے اوراق میں کھو جاتا، جہاں غلامی کی زنجیریں جھنکارتی تھیں؛ کبھی فلسفے کی گہرائیوں میں اتر جاتا، جہاں سوالوں کی آگ جلتی رہتی تھی۔ اور پھر انہی آگ کے شعلوں سے وہ اپنے اشعار تراشتا، نرم، مگر کاٹ دار۔

کبھی کھبار دوست کہتے تھے سبزو کبھی دنیا کو بھی دیکھ لیا کرو، صرف کتابیں ہی کافی نہیں ہوتیں۔”

وہ مسکرا کر جواب دیتا،
“میں دنیا ہی تو پڑھ رہا ہوں… فرق صرف یہ ہے کہ تم اسے آنکھوں سے دیکھتے ہو، اور میں لفظوں سے۔”

مگر کتابوں میں ڈوبے رہنے والا وہ نوجوان آج خود تاریخ کا باب بن جانا ہے۔ وہ جن انقلابات کو پڑھتا تھا، جن قربانیوں پر اشک بہاتا تھا، ایک دن وہی داستان اس کے اپنے نام سے لکھی جائے گی۔

اس کی تھکی آنکھوں میں امید ابھی زندہ تھی۔ اور اس کی تھکی آواز میں یقین اب بھی قائم تھا۔

ایک شام وہ عظیم دوستوں کے ساتھ ایک اہم اور تاریخی مشن آپریشن ہیرف کے لئے نکلا، اور اور تاریخ میں امر ہوا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔