ترقی کے نام پر دنیا کی نئی غلامی
تحریر: وشڑی بگٹی
دی بلوچستان پوسٹ
“ترقی” (Development) محض ایک معاشی اصطلاح نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سماجی، سیاسی اور فکری تصور ہے جس نے بیسویں صدی کے وسط سے عالمی سیاست، معیشت اور ثقافت کو گہرے طور پر متاثر کیا ہے۔ عام طور پر ترقی کو صنعتی ترقی، اقتصادی نمو، جدید ٹیکنالوجی اور شہری انفراسٹرکچر کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک میں یہ تصور قائم کر دیا گیا ہے کہ جو معاشرے مغربی معیار کے مطابق صنعتی، تکنیکی اور اقتصادی لحاظ سے مضبوط ہیں وہ “ترقی یافتہ” ہیں، جبکہ باقی دنیا کو “ترقی پذیر” یا “پسماندہ” قرار دیا جاتا ہے۔
لیکن اگر اس تصور کا گہرا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ترقی کا موجودہ نظریہ صرف معاشی ترقی کا سادہ سا خیال نہیں بلکہ ایک ایسا فکری اور سیاسی ڈھانچہ ہے جس نے دنیا کے مختلف معاشروں کو ایک مخصوص زاویے سے دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس ڈھانچے کے ذریعے دنیا کو ایک ایسے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے جو بنیادی طور پر مغربی تجربات اور اقدار پر مبنی ہے۔
اسی وجہ سے بہت سے دانشور اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ ترقی کا تصور محض اقتصادی بہتری کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسا نظریاتی بیانیہ ہے جس نے دنیا کے کئی معاشروں کی شناخت، معیشت اور ثقافت کو متاثر کیا ہے۔
تیسری دنیا کی تشکیل
دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا کے سیاسی اور معاشی حالات میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔ اس دور میں عالمی سیاست میں ایک نیا بیانیہ ابھرا جس کے تحت دنیا کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جانے لگا: ایک وہ ممالک جو صنعتی اور اقتصادی لحاظ سے مضبوط تھے، اور دوسرے وہ خطے جنہیں “پسماندہ” یا “ترقی پذیر” قرار دیا گیا۔
یہ تقسیم صرف معاشی حقیقت کی بنیاد پر نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے ایک مخصوص فکری اور سیاسی تصور بھی کارفرما تھا۔ اس تصور کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کو یہ حق حاصل ہو گیا کہ وہ باقی دنیا کے لیے ترقی کے راستے اور ماڈل طے کریں۔ اس طرح دنیا کے بہت سے معاشروں کو ایک ایسے مقام پر رکھ دیا گیا جہاں انہیں مسلسل “ترقی کے سفر” میں پیچھے تصور کیا جاتا تھا۔
اس بیانیے کا ایک اہم اثر یہ ہوا کہ مقامی معاشرتی نظام، روایتی معیشتیں اور ثقافتی طرزِ زندگی کو کم تر یا غیر مؤثر سمجھا جانے لگا۔ صدیوں سے قائم مقامی معاشی ڈھانچوں کو اکثر “پسماندہ” قرار دے کر ان کی جگہ جدید صنعتی اور سرمایہ دارانہ نظام کو فروغ دیا گیا۔ نتیجتاً بہت سے معاشروں کی خود مختاری متاثر ہوئی اور ان کی معیشتیں عالمی منڈی اور بیرونی سرمایہ کاری پر زیادہ انحصار کرنے لگیں۔
ماہرین کا غلبہ اور مقامی علم کی نفی
ترقی کے اس تصور کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے سماجی اور معاشی مسائل کو زیادہ تر “تکنیکی مسائل” کے طور پر پیش کیا۔ اس کے نتیجے میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ ان مسائل کا حل صرف ماہرینِ معاشیات، منصوبہ سازوں اور بین الاقوامی اداروں کے پاس موجود ہے۔
جب کسی خطے میں ترقیاتی منصوبے متعارف کروائے جاتے ہیں تو اکثر مقامی آبادی کے علم، تجربات اور روایتی طریقوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ بیرونی ماہرین اکثر مقامی نظاموں کو غیر مؤثر یا غیر سائنسی قرار دے کر ان کی جگہ جدید منصوبے متعارف کرواتے ہیں۔
اس عمل کے نتیجے میں مقامی معاشروں کی صدیوں پرانی دانش اور تجربہ آہستہ آہستہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ حالانکہ بہت سے مقامی نظام ایسے ہوتے ہیں جو ماحول، ثقافت اور سماجی ڈھانچے کے ساتھ گہری ہم آہنگی رکھتے ہیں۔
اس طرح علم کی ایک ایسی درجہ بندی قائم ہو جاتی ہے جس میں صرف وہی علم معتبر سمجھا جاتا ہے جو جدید اداروں یا بین الاقوامی تنظیموں کے ذریعے پیش کیا جائے، جبکہ مقامی علم کو کم اہمیت دی جاتی ہے۔
بلوچستان کے تناظر میں ترقی
اگر ترقی کے اس تصور کو بلوچستان جیسے خطے پر لاگو کر کے دیکھا جائے تو اس کے کئی اثرات واضح نظر آتے ہیں۔ بلوچستان ایک ایسا علاقہ ہے جہاں صدیوں سے مقامی دانش، روایتی نظامِ معیشت اور سماجی تعاون کے طریقے موجود رہے ہیں۔
مثال کے طور پر بلوچستان میں “کاریز” کا نظام صدیوں سے پانی کی فراہمی کا ایک مؤثر اور پائیدار ذریعہ رہا ہے۔ یہ ایک زیرِ زمین آبپاشی کا نظام تھا جس کے ذریعے پہاڑی علاقوں سے پانی کو زیرِ زمین راستوں کے ذریعے کھیتوں تک پہنچایا جاتا تھا۔ اس نظام کی خاص بات یہ تھی کہ یہ نہ صرف ماحول کے مطابق تھا بلکہ اس کے ساتھ ایک مضبوط سماجی تعاون بھی وابستہ تھا۔
لیکن جب جدید ترقیاتی منصوبے متعارف ہوئے تو ٹیوب ویل اور بڑے ڈیموں کو زیادہ مؤثر حل کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں نمایاں کمی آئی اور کئی علاقوں میں کاریز کا قدیم نظام ختم ہو گیا۔
اس کے ساتھ ساتھ وہ سماجی ڈھانچہ بھی کمزور ہو گیا جو اس نظام کے ساتھ وابستہ تھا، کیونکہ کاریز کی دیکھ بھال اور استعمال ایک اجتماعی عمل تھا جس میں پورا معاشرہ شامل ہوتا تھا۔
ترقی سے آگے کا تصور
آج بہت سے مفکرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمیں صرف “مزید ترقی” کی تلاش میں نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس سوال پر بھی غور کرنا چاہیے کہ کیا ترقی کا موجودہ تصور واقعی تمام معاشروں کے لیے موزوں ہے یا نہیں۔
اس کے بجائے ضروری ہے کہ مختلف معاشرے اپنی ضروریات، ثقافت اور ماحول کے مطابق ترقی کے اپنے راستے تلاش کریں۔ ہر معاشرے کی اپنی تاریخ، روایات اور سماجی ڈھانچہ ہوتا ہے، اس لیے ایک ہی ماڈل کو پوری دنیا پر لاگو کرنا مناسب نہیں ہوتا۔
مقامی خود مختاری اور دیسی علم کی اہمیت
پائیدار اور حقیقی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب مقامی لوگ خود اپنی زندگی کے بارے میں فیصلے کرنے کے قابل ہوں۔ مقامی برادریاں اپنے ماحول، وسائل اور سماجی ضروریات کو سب سے بہتر سمجھتی ہیں، اس لیے ان کی رائے اور تجربے کو ترقیاتی منصوبوں میں بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔
اسی طرح روایتی علم اور دیسی دانش کو بھی دوبارہ اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ بہت سے مقامی طریقے ماحول دوست، پائیدار اور معاشرتی طور پر زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔ اگر انہیں جدید تحقیق کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے تو وہ مستقبل کے مسائل کے بہتر حل فراہم کر سکتے ہیں۔
ترقی کا تصور بظاہر انسانی فلاح اور معاشی بہتری کے لیے پیش کیا گیا تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہ واضح ہوا ہے کہ اس تصور نے دنیا کے کئی معاشروں کو ایک خاص زاویے سے دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں مقامی ثقافتوں، معیشتوں اور علم کو اکثر نظر انداز کیا گیا۔
اس لیے ضروری ہے کہ ترقی کو صرف اقتصادی پیمانوں سے نہ پرکھا جائے بلکہ اسے سماجی انصاف، ثقافتی خود مختاری اور ماحولیاتی توازن کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے۔ دنیا کی اصل خوبصورتی اس کی تکثیریت میں ہے، جہاں مختلف معاشرے اپنے اپنے طریقوں سے زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسی تنوع کو تسلیم کرنا ہی ایک زیادہ منصفانہ اور پائیدار مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































