بی ایل اے نے آپریشن ھیروف میں حصہ لینے والے مزید تین سرمچاروں کے تفصیلات شائع کردئے

45

تنظیم کی جانب سے گذشتہ ماہ آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلے میں شامل جانبحق اور فدائین سرمچاروں کے تصاویر و تفصیلات جاری کئے جارہے ہیں، تنظیم نے مزید تین سرمچاروں کے تفصیلات شائع کئے ہیں۔

بی ایل اے نے اپنے آفیشل چینل ہکل پر بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے زہری کند کاشمی سے تعلق رکھنے والے سرمچار کی شناخت فدائی لیاقت زہری عرف وسیم بلوچ، عبدالرحمان زہری سے کی ہے جنھوں نے سال 2024 میں تنظیم میں شمولیت کی اور ستمبر میں مجید برگیڈ کو حصہ بنیں۔

بی ایل اے نے کہا ہے کہ فدائی لیاقت زہری جنگِ آزادی کا ایسا باعمل سپاہی تھا جس نے محاذ کی سختیوں کو اپنی تربیت کا حصہ بنا لیا تھا، اس کے لیے جدوجہد ایک منظم اور مسلسل عمل تھا جسے وہ پوری سنجیدگی سے نبھاتا رہا۔ 

اس کی جنگی طریقہ کار میں جلدبازی کے بجائے ٹھہراؤ، مشاہدہ اور درست وقت پر ضرب لگانے کی حکمت نمایاں تھی، وہ طویل گھات، خاموش نقل و حرکت اور دشوار راستوں پر پیش قدمی میں مہارت رکھتا تھا اس کی استقامت اور نظم نے نہ صرف اسے خود مضبوط رکھا بلکہ اس کے ساتھ لڑنے والوں کے حوصلے بھی بلند کیے، وہ آخر تک اسی یقین کے ساتھ ڈٹا رہا کہ آزادی کی راہ میں ثابت قدمی ہی اصل قوت ہوتی ہے اور اسی یقین کے ساتھ اس نے اپنی جدوجہد کو انجام تک پہنچایا۔

فدائی لیاقت زہری کو 9 جون 2021 کو خضدار سے براہوئی زبان کے نوجوان شاعر تابش وسیم کے ہمراہ جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، دو سال بعد وہ دشمن کے عقوبت خانوں سے رہا ہوا، اور کچھ عرصے بعد اس نے دشمن کے ہاتھوں خاموشی سے مرنے کے بجائے مسلح مزاحمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی۔ 

تنظیم نے بتایا ہے کہ شہید لیاقت کے کزن شہید تابش وسیم تابش کو 17 اکتوبر 2022 کو قابض پاکستان کے نام نہاد کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے خاران میں ایک جعلی مقابلے میں قتل کر کے لاش پھینک دی تھی۔

شہید لیاقت زہری ناگاہو کے محاذ پر گشتی کمانڈ تھا آپریشن ہیروف کے دوسرے مرحلے میں وہ نوشکی کے محاذ پر موجود تھا وہاں فرنٹ لائن میں لڑتے ہوئے اس نے دشمن کے لیے زمین تنگ کر دی اور آپریشن ہیروف دو کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا شہید لیاقت زہری نے نوشکی کے محاذ پر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے وطن پر قربان ہونے کی عظیم روایت کو برقرار رکھا۔

بلیدہ الندور کے رہائشی عدنان فقیر عرف تلار ولد فقیر محمد جو مزاحمتی صفوں میں تلار کے نام سے جانے جاتے تھے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن “بی ایس او” کے اُن فکری طور پر تربیت یافتہ نوجوانوں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے قلم اور بندوق کے رشتے کو ایک نئی جہت عطا کی۔ 

یونیورسٹی آف بلوچستان سے انگریزی ادب میں بی ایس کرنے والے عدنان محض ایک طالب علم نہیں تھے بلکہ بلوچی زبان کے ایک حساس شاعر اور باشعور ادیب بھی تھے، ان کی تخلیقی حس نے انہیں قومی غلامی کے کرب کو گہرائی سے محسوس کرنے اور اس کے خلاف عملی مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کیا 2019 میں بی ایس او کے پلیٹ فارم سے طلبہ سیاست سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والے عدنان نے ثابت کیا کہ جب شعور عمل میں ڈھلتا ہے تو وہ خاموش نہیں رہتا بلکہ انقلابی قوت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

اگست 2024 میں انہوں نے باقاعدہ طور پر مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا اور اپنی فکری پختگی اور تکنیکی مہارت کے باعث بی ایل اے کے انٹیلیجنس ونگ “زراب” کا حصہ بنے، اور 2025 میں پہاڑی محاذ پر منتقل ہوئے جس کے بعد وہ تنظیم کے ہر اول دستہ “فتح اسکواڈ” میں شامل ہوئے۔ 

محاذ پر ان کی پیش قدمی، بہادری اور حوصلہ ناقابلِ شکست تھے عدنان کا سیاسی شعور، انقلابی مزاج اور فوجی نظم ساتھیوں کے لیے اعتماد کی علامت سمجھے جاتے تھے، اور وہ ہر ذمہ داری کو پیشہ ورانہ سنجیدگی اور انقلابی عزم کے ساتھ نبھاتے رہے۔

تنظیم نے کہا ہے کہ عدنان فقیر کا کردار اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ بلوچ جنگِ آزادی اب پڑھے لکھے اور باشعور نوجوانوں کے اس اٹل فیصلے کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اپنی مٹی کی آزادی کو ہر مصلحت پر مقدم رکھتے ہیں۔ 

انہوں نے ثابت کیا کہ فکر جب مزاحمت سے جڑتی ہے تو وہ تاریخ کا رخ موڑنے کی صلاحیت پیدا کر لیتی ہے، عدنان کی عاجزی اور خود کو قومی تحریک کے لیے مکمل وقف کرنے کے فیصلے نے انہیں موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے مزاحمت، شعور اور عملی جدوجہد کی ایک روشن علامت بنا دیا۔

عدنان فقیر آپریشن ہیروف کے دوسرے مرحلے میں رودبُن کے محاذ پر موجود تھے، جہاں وہ اپنے فتح اسکواڈ کے ساتھیوں کے ساتھ فرنٹ لائن پر دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے، عدنان فقیر، شہید فدائی یاسمہ بلوچ کے بھانجے اور شہید زربار بلوچ کے کزن تھے، شہید فدائی یاسمہ اور شہید فدائی زربار بلوچ آپریشن ہیروف فیز دو میں کوسٹ گارڈ ہیڈکوارٹرز پسنی کے محاذ پر شہید ہوئے تھے۔

تنظیم نے مزید کہا ہے کہ نوشکی کلی جمالدینی کے رہائشی سہیل احمد گرگناڑی عرف فیصل ولد محمد یونس گرگناڑی نے سال 2022 میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی اور فتح اسکواڈ کے رکن کے طور پر شور پارود، نوشکی کے محاذ پر موجود رہے۔

سہیل گرگناڑی جنہیں ساتھیوں میں “فیصل” کے نام سے پکارا جاتا تھا، نوشکی کی اس مٹی کا بیٹا تھا، جس نے ہمیشہ مزاحمت کی نئی جہتوں کو جنم دیا ہے 2022 میں جب انہوں نے مسلح جدوجہد کا راستہ چنا، تو یہ محض ایک جذباتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک گہرا شعوری انتخاب تھا۔ 

ان کی خداداد جنگی صلاحیتوں اور نظم و ضبط کی بدولت انہیں بی ایل اے کے انتہائی متحرک یونٹ ‘فتح اسکواڈ’ کا حصہ بنایا گیا، جہاں انہوں نے قلیل عرصے میں اپنی بہادری کے انمٹ نقوش چھوڑے۔

سہیل نے شور پارود اور نوشکی کے کٹھن محاذوں پر دشمن کے خلاف متعدد معرکوں میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا، ان کی شخصیت عزمِ مصمم اور نظریاتی پختگی کا مرقع تھی جب ‘آپریشن ہیروف’ کا آغاز ہوا، تو سہیل احمد نے اپنے آبائی علاقے نوشکی میں دشمن کے خلاف اس فیصلہ کن معرکے میں اپنی تمام تر عسکری مہارت کا لوہا منوایا۔ 

شدید جھڑپوں کے دوران انہوں نے دشمن کی پیش قدمی کو روکتے ہوئے اور اپنے ساتھیوں کو دفاعی برتری فراہم کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا سہیل احمد کی قربانی اس بات کی گواہی ہے کہ جب قوم کے نوجوان اپنے ذاتی آرام پر قومی آزادی کو ترجیح دیتے ہیں، تو تاریخ انہیں فتح کے استعارے کے طور پر یاد رکھتی ہے۔