بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے جبری گمشدگی کے دو نئے کیسز رپورٹ ہونے اور نو لاپتہ افراد کی بازیابی کی تصدیق کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق عمران ولد خادم حسین، سکنہ نال، خضدار، سندھ یونیورسٹی میں ایم ایل ٹی کے طالب علم ہیں۔ انہیں 20 دسمبر 2025 کو رات 2 بجے کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ سے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
اسی طرح جمعیت لال ولد لال بخش، سکنہ پسنی، ضلع گوادر، کو 4 فروری 2026 کو رات 11:30 بجے ان کے گھر سے مبینہ طور پر پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔
دوسری جانب، پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ کیے گئے نو افراد بازیاب ہو گئے ہیں۔
بازیاب ہونے والوں میں میران ولد اصغر، سکنہ گوادر شامل ہیں، جنہیں 2 فروری 2026 کو لاپتہ کیا گیا تھا اور 20 مارچ کو گوادر میں بازیاب ہوئے۔
وسیم بلوچ ولد محمد ایوب، سکنہ سریاب روڈ، کوئٹہ، 3 نومبر 2025 کو لاپتہ ہوئے اور 19 مارچ 2026 کو ایئرپورٹ روڈ کوئٹہ پر بازیاب ہوئے۔
عمیر بلوچ ولد عبدالرؤف، سکنہ کلی قمبرانی، کوئٹہ، یکم فروری 2026 کو لاپتہ ہوئے اور 5 مارچ 2026 کو ایئرپورٹ روڈ کوئٹہ پر بازیاب ہوئے۔
سفر خان بلوچ ولد محمد علی، سکنہ کلی قمبرانی، کوئٹہ، 2 مارچ 2026 کو لاپتہ ہوئے اور 17 مارچ 2026 کو عیسیٰ نگری کوئٹہ میں بازیاب ہوئے۔
شعیب احمد قمبرانی ولد محمد بخش قمبرانی، سکنہ کلی قمبرانی، کوئٹہ، 2 مارچ 2026 کو لاپتہ ہوئے اور 17 مارچ 2026 کو عیسیٰ نگری کوئٹہ میں بازیاب ہوئے۔
شمس الدین ولد رستم بلوچ، سکنہ جیوانی، ضلع گوادر، 25 دسمبر 2025 کو لاپتہ ہوئے اور 22 مارچ 2026 کو گوادر میں بازیاب ہوئے۔
عبداللہ ولد حکیم بلوچ، سکنہ پنوان جیوانی، ضلع گوادر، 9 مارچ 2026 کو لاپتہ ہوئے اور 16 مارچ 2026 کو گوادر میں بازیاب ہوئے۔
رمیز ولد نواب، سکنہ کمبرو، ضلع آواران، 12 جنوری 2026 کو لاپتہ ہوئے اور 19 مارچ 2026 کو بازیاب ہوئے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جبری گمشدگیاں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور اس عمل کا فوری خاتمہ ناگزیر ہے۔
















































