بلوچستان سے متصل علاقوں میں افغان اور پاکستانی فورسز کی جھڑپیں، پوسٹوں قبضہ و ہلاکتیں

25

افغان سرحد پر جھڑپوں کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے جہاں بلوچستان کے ضلع نوشکی کی تحصیل ڈاک کے علاقے گزنلی سمیت سرلٹ اور شوراوک میں گذشتہ شب پاکستانی فوج کے پوزیشنز پر افغان فورسز نے شدید نوعیت کے حملوں کا آغاز کیا جس کے بعد طویل جھڑپیں جاری رہیں۔

اسی طرح قلعہ عبداللہ اور سپین بولدک کے مقامات پر بھی جھڑپیں جاری رہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ افغان فورسز پاکستانی فوج کی پوسٹوں پر قبضہ کررہے ہیں جبکہ پاکستانی ہلاک اہلکاروں اور اسلحہ گولہ بارود بھی ان مناظر میں دیکھے گئے ہیں۔

مقامی سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان فورسز نے کندھار صوبے میں سرحدی لائن کے ساتھ پاکستانی فورسز کے چوکیوں پر “جوابی کارروائی” کے طور پر حملے کیے۔ افغان ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملے کندھار کے اضلاع معروف اور ارغستان میں کیے جا رہے ہیں، جن کا آغاز رات تقریباً بارہ بجے ہوا۔

ذرائع کے مطابق کارروائیاں افغان فوج کی ففتھ بریگیڈ، 205ویں 205ویں البدر کور کی جانب سے کی جا رہی ہیں۔

زمینی اطلاعات کے مطابق دونوں جانب سے فائرنگ اور بھاری ہتھیاروں کے استعمال کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ سرحدی علاقوں میں رہائشی آبادی میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔

افغان وزارتِ دفاع نے منگل کی صبح پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سرحد کے مختلف مقامات پر کم از کم 25 جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ حملے دراصل حالیہ سرحدی واقعات کے ردعمل میں کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب کابل میں اسلامی امارت افغانستان کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی سفارتی رابطے جاری ہیں۔ ان کے مطابق چین، روس، یورپی یونین اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک نے افغان حکومت سے رابطہ کیا ہے تاکہ تنازع کے پرامن حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔

حمداللہ فطرت کا کہنا تھا کہ افغان حکومت نے متعلقہ ممالک کو اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلامی امارت نے اس تنازع کا آغاز نہیں کیا۔ ان کے بقول اب یہ پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ جھڑپیں روکنا چاہتا ہے یا انہیں جاری رکھنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا،“ہم دونوں صورتِ حال کے لیے تیار ہیں، چاہے دفاع جاری رکھنا پڑے یا مذاکرات کی میز پر آنا ہو۔”