ایران کے خلاف امریکی اتحاد میں شمولیت پر شامی کردوں کا ایرانی کردوں کو انتباہ 

1

شمال مشرقی شام کے کرد رہنماؤں نے ایران سے تعلق رکھنے والے کرد مسلح گروہوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ حکومتِ ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے امریکہ کے ساتھ اتحاد کرنے میں احتیاط برتیں، کیونکہ ماضی کے تجربات کے مطابق واشنگٹن اپنے اتحادیوں کو تنہا چھوڑ سکتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شمالی عراق میں مقیم ایرانی کرد مسلح گروہوں کی جانب سے ایران کے مغربی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے حوالے سے حالیہ دنوں میں امریکہ کے ساتھ مشاورت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

اس تناظر میں شمال مشرقی شام کے کرد رہنماؤں نے ایرانی کردوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں امریکہ کے ساتھ اتحاد کے نتائج پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ 

شامی کردوں نے شام میں اپنے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے بعض مواقع پر اپنے اتحادیوں کو سیاسی طور پر تنہا چھوڑ دیا۔

ایک شامی کرد شہری نے اس حوالے سے کہا کہ انہیں امید ہے ایرانی کرد امریکہ کے ساتھ اتحاد نہیں کریں گے کیونکہ واشنگٹن انہیں بھی تنہا چھوڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب ایک ایرانی کرد زرائع نے بتایا کہ کرد رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ اگر وہ ایران کے خلاف کسی بڑی کارروائی میں شامل ہوتے ہیں تو مستقبل میں انہیں بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جیسا شام میں بعض کرد گروہوں کے ساتھ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی کرد رہنماؤں نے امریکہ سے ممکنہ تعاون کے بارے میں کچھ ضمانتیں طلب کی ہیں، تاہم ان ضمانتوں کی نوعیت کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

شام میں کرد پروگریسو ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ احمد برکات نے ایرانی کرد گروہوں کو انتہائی احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حتمی فیصلہ انہی کا ہوگا، تاہم موجودہ حالات میں امریکہ کی پیشکش قبول کر کے ایرانی حکومت کے خلاف ہراول دستہ بننا ایرانی کردوں کے مفاد میں نہیں ہو سکتا۔

واضح رہے کہ کرد مشرق وسطیٰ کا ایک بڑا نسلی گروہ ہیں جو ایران، عراق، ترکیہ اور شام کے سرحدی پہاڑی علاقوں میں آباد ہیں۔ عراق کے شمال میں کردستان ریجن میں ان کی ایک نیم خودمختار علاقائی حکومت قائم ہے، جبکہ دیگر ممالک میں کرد آبادی مختلف سیاسی اور عسکری تحریکوں سے وابستہ رہی ہے۔

حالیہ دنوں بعض امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے ایران کے خلاف ممکنہ بغاوت کو ہوا دینے کے لیے ایرانی کرد مسلح گروہوں سے رابطے میں ہے اور انہیں اسلحہ فراہم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ 

تاہم امریکی حکام نے ان دعوؤں کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی، جبکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا کہ کرد گروہوں کو مسلح کرنے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔  

بعد ازاں امریکی صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کرد جنگجو ایران میں داخل ہو کر جنگ میں شامل ہوں۔  

ان دعوؤں کے بعد عراق کے نیم خودمختار کردستان خطے کی خاتونِ اول نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ کرد قوم کسی بھی ملک کے لیے “کرائے کے سپاہی” نہیں بنے گی۔

یاد رہے کہ داعش کے عروج کے دوران کرد فورسز نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر عراق اور شام میں داعش کے خلاف اہم کردار ادا کیا تھا۔ 

تاہم بعد میں خطے کی سیاسی صورتحال تبدیل ہونے اور مختلف معاہدوں کے بعد امریکہ کی عملی حمایت کم ہونے پر کرد قیادت نے خود کو غیر محفوظ محسوس کیا۔

خصوصاً 2019 میں ترکی کی جانب سے شمالی شام میں فوجی کارروائی کے دوران کرد فورسز نے شکایت کی تھی کہ امریکہ نے انہیں مکمل تحفظ فراہم نہیں کیا، جس کے بعد ترک افواج اور ان کے اتحادی گروہوں نے علاقے میں کارروائیاں کیں جن میں انھیں شدید نقصان پہنچا تھا۔