آپریشن ھیروف فیز ٹو میں بی ایل اے کی منظم، مہلک اور شاندار حکمت عملی کے ساتھ تاریخ ساز کامیابی – دْرپشان بلوچ
آپریشن ھیروف جو کہ جدید بلوچ تاریخ کی سب سے بڑی سکیل پہ ،پُراثر، خون ریز اور ہر حوالے سے بھرپور کامیابی دلانے والا آپریشن ہے۔ اس سے قبل ایک وقت پہ نہ اتنے بڑے سکیل پہ اس قدر زیادہ شہروں میں آپریشن ہوا ہے نہ اتنی بڑی مارجن میں دشمن کی فوجی ہلاکت اور نہ ہی اتنا زیادہ مالی نقصان۔
جغرافیائی حوالے سے اگر دیکھا جائے تو یہ اتنے زیادہ شہروں میں بیک حملہ کرنے سے قابض فوج بوکھلا گئی اور اسے سنھبلنے کا موقع ہی نہیں ملا اور یوں وہ دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پہ مجبور ہوئی۔ بی ایل اے نے فدائین کو کیمپوں میں بھیج کر سرمچاروں کو شہروں میں گشت کرایا، شہروں کے داخلی راستوں، ٹاؤنز، دیہات اور ہائی ویز پہ کنٹرول قائم کیا تاکہ قابض فوج کے لیے کمک نہ آسکے۔ ان سب میں مکُران کوسٹل ہائی پہ طویل ناکہ بندی جغرافیائی حوالے سے بہت کارگر ثابت ہوئی اور اس حوالے سے نوشکی شہر پہ تبصرہ ناگزیر ہے۔ نوشکی شہر میں ایف سی کے دو مین کیمپ اور آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز پہ کئی روز تک حملہ سمیت سارے پیراملٹری فورسز اور انتظامی دفاتر پہ قبضہ، مشرق کی جانب گلنگور، اور جنوب کی جانب احمدوال ٹاؤن پہ کئی کئی گھنٹوں کی جھڑپوں کے بعد مکمل کنٹرول جغرافیائی اور طاقت کے حوالے سے عظیم کامیابی ہے۔
نوشکی میں آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز جہاں بے شمار لاپتہ افراد قید ہیں اس کی عمارت پورے ڈویژن میں سب سے محفوظ و مضبوط تصور کی جاتی تھی اسی عمارت پہ دنوں تک جھڑپ جاری رہنا قابض کے ہوش اڑانے اور بی ایل اے کی طاقت کا شاندار مظاہرہ ہے۔ اسکے علاوہ کوئٹہ میں ریڈ زون سمیت کئی جگہوں پہ جھڑپیں اور گْوادر جیسے حساس شہر میں دنوں تک جاری جنگ بی ایل اے کی طاقت کے حسین مناظر پیش کرتی ہے۔
جنگوں میں نفسیات کی بہت بڑی اہمیت ہے۔ بی ایل اے نے اپنے مشن میں بہت جانکاری، سمجھداری، حکمت اور طریقہ کار سے کام لیا۔ حملہ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا اس سے زیادہ یہ اہم ہے کہ اس حملے سے دشمن پہ کس قدر نفسیاتی دباؤ ڈالا جائے۔ بی ایل اے نے وہی کیا۔ 2022 کے نوشکی، پَنجگُور آپریشن کے بعد دشمن یہی سمجھ بیٹھا تھا کہ اس کے بعد نوشکی میں بڑا حملہ کرنا ناممکن ہے مگر بی ایل اے نے بہت بڑا حملہ کرکے دشمن کے اوسان خطا کر دیئے۔ اس کے علاوہ گْوادر جسے کیمروں کا شہر کہا جائے تو برا نہ ہوگا، میں دنوں تک جاری جنگ نے دشمن کو سوچنے پہ مجبور کیا کہ وہ خطے میں کہیں پہ بھی غیر محفوظ ہے اور کوئٹہ میں ریڈ زون کے حملے نے قوم میں امید کی روشنی جلائی اور دشمن کو ناامیدی کے دلدل میں دھکیل دیا۔ یہاں دشمن فوج، اسکے تجزیہ کاروں اور سیاستدانوں میں نفسیاتی دک دیکھنے لائق ہے جو کہ سرفراز بھٹی اور خواجہ آصف جیسے مکار لوگوں نے جھوٹ بول کر نقصانات چھپانے کی کوشش کی لیکن بعد میں سوشل میڈیا، زمینی حقائق اور خود کے بے دھیانی میں کہے گئے الفاظ سے ظاہر ہوئے۔
اب اگر بات کی جائے جنگجوؤں کی تو اس جنگ میں بی ایل اے کی منظم حکمت عملی جھلکتی ہے۔ جس طرح نے سے بی ایل اے نے آپریشن کے لیے ارکان چنے تھے وہ قابلِ تعریف ہے اور اس سے مختلف طبقہِ فکر کے لوگوں کو مختلف نوعیت کے پیغامات بھیجنے کی کوشش کی گئی ۔
یہاں نوجوان سے لیکر درمیانے اور پختہ عمر کے جنگجوؤں سے جس طرح آپریشن کی تکمیل کی گئی وہ بے مثال ہے۔ مثلاً نوجوان جنگجو جو پُرجوش و جسمانی حوالے سے پُرتیلے ہوتے ہیں انکو مشن کا حصہ بنایا اور یہ باور کرانا کہ جدوجہد کے لیے کوئی مخصوص عمر نہیں ہوتی۔ خواتین کو اس طرح سے مشن کا حصہ بنانا کہ دنیا کو سرپرائز کرنا، جیسے آصفہ بلوچ اور پیران سر ہتمناز بلوچ کا بارود سے بھری گاڑیاں دشمن کے کیمپوں سے ٹھکرانا حوا بلوچ، مریم بلوچ اور بانی بلوچ کا کیمپوں کے اندر دوبدو لڑائی لڑنا، اور ٹرینڈ شیرزال کمانڈو درجان بلوچ کا گراؤنڈ میں دنوں تک لڑ کر غازی بن کے لوٹنا، اس کے علاوہ پیران سر ناکو فضل بلوچ کا فدائی بننا، ( اماں ہتمناز، ناکو فضل بلوچ اور بانی بلوچ کو بی ایل اے نے مشن کا حصہ بنا کر ثابت کردیا کہ ہر عمر کے افراد کو منظم و مضبوط حکمت عملی سے جنگ کا حصہ بنا کر کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔) اس کے نفسیاتی پہلو یہ نکلتے ہیں کہ دشمن کو خوف میں مبتلا کرنا اور اسکا مورال گرانا کہ اب بلوچ قوم کے بچے سے لیکرخواتین و بزرگ تک اس جنگ کو آگے بڑھا رہے ہیں اب جیتنا ناممکن ہے۔ جبکہ قوم کو امید دلانا اور اس کی سوئی ہوئی غیرت کو جگانا کہ خواتین و بزرگ قربانی دے رہے ہیں لہذا اب جنگ کا حصہ بننا لازم ہے۔
اخلاقی اور سیاسی پہلو یہ نکلتے ہیں کہ کہ پنجابی تجزیہ کار و سیاستدانوں اور دنیا کا منہ بند کرنا جو کچھ نوجوان سرمچاروں کی شہادت پہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ بی ایل اے بچوں کو استعمال کررہی ہے۔ اب اگر غور کیا جائے تو ناکو فضل بلوچ، ہتمناز بلوچ اور بانی بلوچ پختہ عمر کے جنگجو ہیں اس عمر میں جسم چست تو نہیں رہتا لیکن تجربہ اور عقل پک چکے ہوتے ہیں جو کہ دونوں ہی بلوچوں کے حق میں فیصلہ دیتے ہیں وہ یوں کہ پختہ عمر افراد کو بنا مکمل علم و جانکاری دیئے فدائی کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا خاص کر وہاں جہاں جنگ مُلائی جنگ نہ ہو، نہ جنت کا لالچ ہو۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان فدائین کی قربانی شعور سے لیس فیصلہ ہے۔ علاوہ از پختہ عمری میں جسم کو بغیر ایک زبردست مقصد کے حرکت میں نہیں لایا جاسکتا جنگ لڑنا اور فدائی بننا تو دور کی بات ہے۔ لہذا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان سرمچاروں کا فدائی بننے کا فیصلہ ایک مکمل قومی شعور سے لیس بہادرانہ فیصلہ ہے ان میں خصوصی طور پہ ہتمناز بلوچ و بانی بلوچ کا لگ بھگ ایک ایک دہائی سے زیادہ تنظیم کا حصہ بنے رہنا اور اس طویل عرصے میں تمام تر مصائب برداشت کرنے کے باوجود قومی کاز میں ثابت قدم رہنا عظمت کی اعلیٰ مثال ہے۔
کم عمر جنگجوؤں پہ اگرچہ دشمن کے تجزیہ کار بہانے ڈھونڈ کر اعتراضات اٹھاتے ہیں تو ان کا جواب یہ ہے کہ ہر مظلوم کو خود پہ یا اپنی قوم پہ کیے گئے ظلم کے خلاف نفرت ہوتی ہے اور جس نوعیت کا ظلم ہوتا ہے اسی نوعیت کا ردِعمل، اور اس ردِعمل کے لیے مناسب پلیٹ کو استعمال کرنے کی مظلوم کو سمجھ ہوتی ہے یہ کوئی اتنا بھی مشکل نہیں۔
اب اگر مشن کے رومانوی پہلو پہ نظر دوڑائے تو ہمارے سامنے وسیم بلوچ عرف زربار اور یسمہ بلوچ عرف زرینہ کی کہانی آتی ہے جو کہ ایک شادی شدہ جوڑا تھا۔ وہ یکجاہ فدائی بنے اور اپنی محبت کے ہمراہ وطن کی محبت پہ قربان ہوگئے۔ اسی طرح مریم بزدار اپنے شوہر رشید بزدار کے سنگ فدائی بننا چاہتی تھی مگر قسمت کو یہ منظور نہ تھا پھر بھی مریم بلوچ نے فدائی بن کر وطن سے عشق کی نئی داستان رقم کردی۔ اب آنے والی نسلیں جنگ اور عشق کی یکجہتی میں وطن پہ امر ہونے والے ان جوڑوں کے ناموں کو استعماروں میں بہادری، شدت اور قربانی کے لیے استعمال کرینگے۔
اگر مالی املاک پہ نظر ڈالی جائے تو معلوم چلے گا کہ دشمن کو اتنا بڑا اور شدید دھچکہ پہلے کبھی بھی نہ لگا ہوگا جو ہیروف ٹو میں عمارات و سارے نظام کے درہم برہم ہونے پہ لگا۔ بلاشبہ دشمن کو اربوں، کھربوں روپے کا نقصان ہوا ہے جس کی برپائی میں اسے سالوں لگیں گے۔
اس کے علاوہ اس ننگ میں عوامی حمایت و یکجہتی کی بھرپور کامیابی بھی شمار ہوگی جہاں غریب عوام نے اپنے دل کھول کر سرمچاروں کے ماتھے چومے، انھیں کھانا دیا، خبریں دی، غرض ہر طرح سے ان کے ساتھ رہے جس سے عالمی میڈیا میں یہ تاثر ابھرا کہ یہ جنگ صرف تنظیموں کی نہیں بلکہ پورے بلوچ قوم کی ہے۔
مجموعی طور پہ اگر بات کی جائے تو بی ایل نے دشمن پہ ہر حوالے سے برتری حاصل کرلی ہے اور ایک حوالے سے یہ جنگ بلوچستان میں بڑے درجے کے شہری جنگوں کی ابتدا ہے اب اس جنگ کی تپش اور تیز ہوگی اور دشمن کی کھال پگلنے کی رفتار بھی۔ حرفِ آخر یہ کہ ہیروف ٹو نے بی ایل اے کو اس خطے کا سب سے منظم و طاقتور تنظیم بنا دیا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































