ہماری عید کی خوشیاں دونوں بھائیوں کیساتھ زندانوں میں مقید ہیں – ہمشیرہ لاپتہ جنید و یاسر حمید

13

ہماری عید کی خوشیوں کو دونوں بھائیوں جنید حمید اور یاسر حمید کے ہمراہ زندانوں میں مقید کردیا گیا ہے۔ بھائیوں کی جبری گمشدگی کو ایک سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے تاہم ان کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی جارہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار حب سے جبری لاپتہ بھائیوں یاسر اور جنید کی ہمشیرہ یاسمین حمید نے عید کے موقع پر ایک بیان میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی قانون میں جبری گمشدگیاں کسی جرم کے سزا کے طور پر رائج نہیں کی جاسکتی ہے۔ میرے بھائیوں کے جبری گمشدگی کو ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے تاہم نہ حکام ان کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم کررہے ہیں اور نہ ہی ان کا جرم ہمیں بتایا جارہا ہے۔

یاسمین حمید نے کہا کہ جبری گمشدگیوں سے صرف ایک شخص نہیں بلکہ اس کا پورہ خاندان اذیت میں مبتلا ہوتا ہے۔ میرے بھائیوں کیساتھ ہماری گھر کی خوشیاں، عیدیں سب کچھ زندانوں کے نظر ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملکی ادارے خود ہی جبری گمشدگیوں کے ذریعے اس ملک کے قوانین اور عدالتوں کو روند رہے ہیں۔

یاسمین حمید نے کہا کہ اگر بھائیوں پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کرکے قانونی تقاضے پورے کیئے جائیں یا پھر انہیں بازیاب کیا جائے۔

خیال رہے جنید حمید اور یاسر حمید، دونوں بھائی اکتوبر 2024 میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں حب چوکی اور قلات سے جبری گمشدگی کا شکار ہوئے تھے۔ ان کے اہلخانہ کی جانب سے پریس کانفرنسز، مرکزی شاہراہوں پر دھرنوں سمیت حب، کوئٹہ اور اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے کیئے گئے۔

احتجاجی دھرنوں کے دوران دو مرتبہ حکام نے اہلخانہ کو نوجوانوں کی بازیابی کے حوالے سے یقین دہانی کرائی اور اس حوالے سے معاہدوں پر دستخط کیئے گئے تاہم تاحال دونوں نوجوان بازیاب نہیں ہوسکے ہیں۔