ھیروفی شہید: چیئرمین قادر کاشانی
تحریر: نوتک بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
چیئرمین قادر بلوچ کی شہادت بلوچ قوم کی آزادی کی جدوجہد میں ایک روشن باب ہے، جو نہ صرف ایک فرد کی قربانی بلکہ ایک مکمل نظریے اور تاریخی تسلسل کی علامت ہے۔
وطن پرستی اور قومیت کا فلسفہ انسانی تاریخ میں ہمیشہ سے مرکزی حیثیت رکھتا آیا ہے۔ جب بھی کوئی قوم استعمار، قبضہ یا ظلم و جبر کی زنجیروں میں جکڑی گئی، تو اس نے اپنے بہادر بیٹوں اور بیٹیوں کو قربان کر کے آزادی کی راہ ہموار کی۔ بلوچستان کے تناظر میں یہ فلسفہ اور بھی گہرا اور شدید ہے کیونکہ یہاں دہائیوں سے وسائل کی لوٹ مار، جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل، ثقافتی استحصال اور شناخت کی کچلی جانے کی منظم کوششیں جاری ہے۔ قابض پاکستان کی طرف سے بلوچستان کو “مقبوضہ” قرار دینے والے بلوچ قوم پرستوں کے نزدیک یہ ایک نوآبادیاتی تسلسل ہے، جہاں بلوچ سرزمین کے قدرتی وسائل (گیس، کوئلہ، سونا، تانبا وغیرہ) کی لوٹ مار ہو رہی ہے، جبکہ مقامی آبادی غربت، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔
چیئرمین قادر بلوچ اسی تاریخی اور شعوری جدوجہد کا ایک زندہ نمونہ تھے۔ وہ ایک باشعور، سیاسی طور پر تربیت یافتہ نوجوان تھے انہوں نے وطن کی آزادی کو نہ صرف ایک سیاسی مقصد بلکہ ایک مقدس عبادت سمجھا۔ ان کا یقین تھا کہ جب تک بلوچستان پر قبضہ جاری ہے، تب تک فرد کی زندگی، مال، وقت اور حتیٰ کہ خاندان کی خوشی بھی اسی آزادی کی خاطر قربان ہو سکتی ہے۔ یہ فلسفہ کوئی جذباتی نعرہ بازی نہیں بلکہ ایک گہرا نظریاتی موقف تھا، جو بلوچ تاریخ کے شہداء جیسے نواب محراب خان، بابو نوروز خان، شیر محمد مری، غلام محمد بلوچ، جنرل اُستاد اسلم بلوچ اور دیگر کی قربانیوں سے مستفید تھا۔
ان کی شہادت صرف ایک واقعہ نہیں تھی بلکہ ایک زندہ پیغام تھی۔ جب انہوں نے اپنی جان راہِ حق میں قربان کی، تو یہ ایک فرد کی موت نہیں ہوئی بلکہ بلوچ نوجوانوں کے دلوں میں ایک نئی آگ بھڑک اٹھی۔ ان کی قربانی نے یہ واضح کر دیا کہ بلوچ جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ یہ ایک تسلسل ہے جو ہر نسل میں نئی توانائی سے جاری رہے گا۔ ان کے خون نے بلوچ سرزمین کی مٹی کو مزید مقدس بنا دیا اور یہ پیغام دیا کہ شہادت موت نہیں بلکہ ایک نئی زندگی کا آغاز ہے۔ جب ظلم انتہا پر پہنچ جائے تو خاموشی گناہ ہے اور مزاحمت فرض بن جاتی ہے۔
یہ فلسفہ انسانی تاریخ کے ابدی اصولوں سے جڑا ہے۔ جیسا کہ ویتنام کی آزادی کی جنگ میں ہو چی منہ کی قیادت میں لاکھوں نوجوانوں نے امریکی قبضے کے خلاف جان دی۔ الجزائر کی آزادی میں فرانسیسی استعمار کے خلاف FLN کے جنگجوؤں نے شہادت کو اپنا شعار بنایا۔ کشمیر، فلسطین اور دیگر جگہوں پر بھی یہی فلسفہ زندہ ہے کہ غلامی کی زندگی سے موت بہتر ہے۔
بلوچستان میں یہ فلسفہ کئی دہایئوں سے تحریک آزادی کی جدوجہد میں نظر آتا ہے، جہاں نوجوان اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر یہ ثابت کر رہے ہیں کہ قبضہ گیر کی طاقت سے زیادہ قوم کی ارادے کی طاقت ہے۔ چئرمین قادر بلوچ کی شہادت نے اس جدوجہد کو مزید شدت بخشی اور یہ ثابت کیا کہ باشعور نوجوان جب وطن کی شناخت اور آزادی کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لے تو موت بھی اسے امر کر دیتی ہے۔
آج بلوچ نوجوانوں کی نئی نسل اسی فلسفے پر چل رہی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آزادی کی راہ آسان نہیں، لیکن قربانیوں کا یہ سلسلہ ایک دن ضرور رنگ لائے گا۔ چیئرمین قادر بلوچ کا خون بلوچ سرزمین میں جذب ہو کر ہر اس نوجوان کے لیے ایک مشعل راہ بن گیا ہے جو وطن کی خاطر جینا اور مرنا سیکھ رہا ہے۔ ان کی قربانی ہمیشہ بلوچ قوم کی آزادی کی جدوجہد کا ایک مقدس باب رہے گی اور یہ پیغام دے گی کہ جب تک بلوچستان آزاد نہیں ہو جاتا، تب تک یہ قربانیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
یہ فلسفہ نہ صرف بلوچ قوم بلکہ ہر اس قوم کے لیے سبق ہے جو اپنی شناخت اور آزادی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے وطن پر قربان ہونا کوئی موت نہیں، بلکہ ابدی زندگی اور عزت کی ضمانت ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































