بلوچستان کے ضلع گوادر کے تحصیل جیونی کے علاقے کنٹانی میں پاکستانی فورسز نے ایک بار پھر سرحدی کاروبار سے منسلک مزدروں کے گھر اور املاک نذرآتش کرددیئے ۔
تیل کے کاروبار سے منسلک افراد نے اسے سنگین زیادتی قرار دیتے ہوئے رمضان المبارک کے مہینے میں محنت کشوں کا معاشی قتل قرار دیا۔
اس سلسلے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 8 مارچ کو گوادر کے ایک دور افتادہ علاقے موچن کپڑ، کنٹانی میں، بہت سے بلوچ لوگ جو سرحدی تجارت سے مزدوری کرکے اپنا گھر چلاتے ہیں، کو ایک اور ناانصافی کا سامنا کرنا پڑاجہاںپاکستانی اداروں نے انہیں بنیادی سہولیات اور مواقع فراہم کرنے کے بجائے وہ ایندھن جلا دیا جو ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ عمل واضح طور پر جاری معاشی جبر کی عکاسی کرتا ہے جس کا بلوچ عوام کئی دہائیوں سے سامنا کر رہے ہیں۔ بلوچ آبادی کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے جیسے وہ کسی کالونی میں رہتے ہوں، جہاں ادارے کی جانب سے زندہ رہنے کے ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل اور ذریعہ معاش کو جرم سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی مطالبہ کرتی ہے کہ انسانی ہمدردی کی تنظیمیں بیانات سے بالاتر ہو کر پاکستان کو اس کی پالیسیوں کے لیے جوابدہ بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں جنہوں نے کئی دہائیوں سے بلوچ عوام کو ان کے بنیادی معاشی حقوق سے منظم طریقے سے محروم رکھا ہے۔



















































