نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ بلوچ خواتین کو آج کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس منعقد کرنے سے روکا گیا اور انہیں اپنی آئینی و جمہوری آواز بلند کرنے کا حق استعمال کرنے نہیں دیا گیا۔ جمہوری معاشرے میں پریس کلب محض ایک عمارت نہیں بلکہ عوامی آواز کا پلیٹ فارم ہوتا ہے، جہاں شہری اپنے مسائل، خدشات اور مطالبات
ترجمان نے کہاکہ پرامن انداز میں میڈیا اور عوام کے سامنے رکھتے ہیں۔
بلوچ خواتین کو پریس کلب میں داخل ہونے سے روکنا نہ صرف ایک افسوسناک اقدام ہے بلکہ یہ براہِ راست اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن کے مترادف ہے۔ پُرامن سیاسی سرگرمیوں، پریس کانفرنسوں اور احتجاج کو طاقت یا انتظامی ہتھکنڈوں سے روکنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ جب سیاسی کارکنوں کو اپنے مسائل بیان کرنے سے روکا جاتا ہے اور انہیں اظہار رائے کا حق نہیں دیا جاتا بلکہ اس کے بدلے تشدد کا سہارا لیا جاتا ہے تو اس کا رد عمل بھی ریاستی اداروں کے عمل سے متضاد نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہاکہ جب ریاستی رویے مکالمے اور برداشت کے بجائے جبر، خوف اور تشددپر مبنی ہو جائیں تو وہ جمہوری نہیں بلکہ آمرانہ اور فاشسٹ طرزِ سیاست کی عکاسی کرتے ہیں۔ فاشسٹ رجحانات کی پہچان یہی ہے کہ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھا جائے، سیاسی کارکنوں کو خاموش کرایا جائے اور شہری آزادیوں کو سکیورٹی یا انتظامی جواز کے نام پر محدود کیا جائے۔ ایسے اقدامات نہ صرف آئین کی روح سے متصادم ہیں بلکہ معاشرے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیلتے ہیں۔
نام نہاد جمہوریت کے دعوےداروں کو معلوم ہونا چاہئے کہ جمہوریت کی مضبوطی اسی میں ہے کہ اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے اور عوامی آواز کو دبانے کے بجائے سنا جائے کیونکہ جمہوریت طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد، شفافیت اور مکالمے سے مضبوط ہوتی ہے۔ بلوچ خواتین کو پریس کانفرنس سے روکنا دراصل خواتین کی سیاسی شرکت پر قدغن لگانا اور بلوچستان میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کرنے سے روکنا ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔















































