کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی کیمپ جاری، جبری لاپتہ زاکر تاج کی لواحقین کا احتجاج میں شرکت

30

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ 6119 ویں روز بھی جاری رہا۔

اس دوران 26 فروری کو بولان میڈیکل کالونی بروری روڈ کوئٹہ سے جبری لاپتہ زاکر تاج کی اہلیہ بی بی آسیہ نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کی اور اپنے شوہر کی جبری گمشدگی کی تفصیلات وی بی ایم پی کو فراہم کیں۔

انہوں نے بتایا کہ زاکر تاج ولد تاج محمد کو 26 فروری کی رات تقریباً پونے 12 بجے ایف سی، سی ٹی ڈی اور دیگر اہلکاروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ ان کے مطابق تاحال نہ انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے باعث خاندان شدید کرب و اذیت کا شکار ہے۔

وی بی ایم پی نے بی بی آسیہ کو یقین دہانی کرائی کہ زاکر تاج کا کیس متعلقہ حکومتی کمیشن اور صوبائی حکومت کے سامنے اٹھایا جائے گا اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے حکومت اور متعلقہ اداروں کے سربراہان سے مطالبہ کیا کہ زاکر تاج کی فوری اور باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے، اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظر عام پر لا کر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ خاندان کو اس اذیت سے نجات مل سکے۔