کارزار جو دنیا نے دیکھی
تحریر: وطن زاد
دی بلوچستان پوسٹ
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ آپریشن ہیروف نے قابض ریاست کے دانت کھٹے کر دئیے، ایک دم سے چودہ اضلاع پر آزادی پسندوں کا کنٹرول، عوام کی ان سے محبت، قربت اور باہمی تعلق واضح کرتی ہے کہ بلوچستان میں جدوجہد آزادی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔
اب یہ جنگ محض اک طبقے تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ اک قوم کی ضرورت بن چکی ہے بلوچستان میں اب کوئی ایسا خاندان نہیں جو قابض فوج کے ظلم و ستم سے محفوظ ہو. آپریشن ہیروف نے بلوچ قوم کے دلوں میں امید کی ایسی روشنی جگا دی ہے کہ جس کی چمک سے خوف کا اندھیرا مٹ گیا ہے۔
بلوچستان کے مرکزی شہر شالکوٹ (کوئٹہ) کے ستر فیصد ایریا میں بلوچ آزادی پسندوں کا کنٹرول، کوئٹہ کے گلیوں میں گشت کرنا، اپنے لوگوں سے ملنا، اُن سے مخاطب ہونا ، ہر چورائے پر فدائی جنگجوؤں کا خطاب کرنا، گوادر کے ساحلی پٹی سے لے کر شال ریڈ زون تک مربوط حملوں کے ساتھ ساتھ پولیس تھانوں پر کنٹرول، ریاستی اسلحہ ضبط کرنا فوجی اور نیم فوجی اداروں کے دفاتر اور گاڑیوں کو نظر آتش کرنا اس بات کا واضح دلیل ہے کہ بلوچ آزادی پسند تنظیمیں اپنے قوم کا دل جیت چکے ہیں اور ان کو مکمل عوامی عمایت حاصل ہے۔
جنگ صرف میدان تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کے اثرات دلوں، ذہنوں اور معاشروں پر بھی گہرے نقوش چھوڑ جاتے ہیں. ہیروف دوہم نے بلوچ معاشرے میں مزاحمت کی ایک نئی باب کا آغاز کردیا ہے۔
چند سال قبل جہاں خوف، ہراس و ریاستی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ گروہوں کے ظلم و ستم کا بازار گرم تھا آج اُسی معاشرے میں اک عام بلوچ اپنے سرزمین پر فخر کے ساتھ آزاد بلوچستان کا نعرہ لگاتا ہے، نہ وہ کسی ڈیٹھ اسکواڈ سے خوف محسوس کرتا ہے اور نا ہی کسی ریاستی عقوبت خانے سے۔
وہ جانتا ہے کہ اب وہ بے وارث نہیں ہے، اب اگر کوئی بھی اُسے بلوچ کے نام نقصان پہنچائے گا تو بولان کا ہر پتھر اُس کا محافظ بن کر سامنے آئے گا۔
نا اتفاقی، اختلاف، خوف، گھبراہٹ، یہ تمام عناصر اب دشمن فوج کے صفوں میں داخل ہوچکی ہے اک عام فوج کا سپاہی اچھی طرح سمجھ گیا ہے کہ یہ ریاست اپنے مضموم مقاصد کے لیے اس کا استفادہ کر رہی ہے، اُس کے زندگی کی کوئی اہمیت نہیں ، وہ صرف اک جنگی آلے کے طور پر استعمال ہورہا ہے۔
آپریشن ہیروف میں پکڑے جانے والے اپنے ہی فوج کے اہلکاروں سے لاتعلقی ایک المیہ ہے ، اس مُلک کے فوج میں موجود اک عام سپاہی کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ان کے اعلٰی قیادت کو ان کے جان کی کوئی پرواہ نہیں ، وہ اک لاحاصل خطے کو اپنا کہہ کر ان غریب لوگوں کو بلوچستان میں مروا رہے ہیں ، یہ ملک جنگی ایندھن چاہتی ہے اس کی فوج یہی چاہتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ پنجابی مارے جائیں تاکہ لسانیت کے بنیاد پر اس جنگ کا رخ تبدیل کیا جائے۔
کیا دشمن فوج کے سپائیوں کو نظر نہیں آتا جب اُن کے ساتھی آپریشن ہیروف میں بلوچ راہِ حق کے جنگجوؤں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تو کس طرح اس ریاست نے اپنے ہی فوج کے یرغمال سپائیوں سے روح گردانی کی؟ وہ چاہتا تو اپنے سپائیوں کو زندہ بچا سکتا تھا لیکن اس نے اپنے فسطائیت اور غرور سے پیچھے ہٹنا مناسب ہی نہیں سمجھا اور اُن سات سپائیوں کو مرنے کے لیے بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔
ان قتل شدہ سپائیوں کے ساتھ بھرتی ہونے والے دیگر سپائیوں اور ان کے خاندان کے لوگوں پر حق بنتا ہے کہ وہ ارباب اختیار سے سوال کرے ؟ کہ اس فوج میں ان کے زندگی کی کوئی اہمیت باقی رہ گئی ہے ؟ یا ہمیشہ سے وہ بس کسی کے انا اور زد کی بھینٹ چڑتے آرہے ہیں، اب تو یہاں تک کہ مرنے کے بعد اُنہیں فوجی اعزاز کے ساتھ دفنایا بھی نہیں جاتا، یہ ریاست اپنی ناکامی چھپانے کے لیے ان کو بے نام قبرستانوں کے حوالے کردیتا ہے۔
اس وقت وسط ایشیاء اک نئے عالمی جنگ کا میدان بن چکی ہے، ایران میں خامنہ ئی رجیم کے مکمل خاتمے تک اسرائیل اور امریکہ جیسے سامراجی طاقتیں اس جنگ کو جاری رکھیں گی اور عین ممکن ہے کے آنے والے وقت میں اس جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑھیں ، اس بات کی تصدیق امریکی دفتر خارجہ اور اُن کے اہم دفاعی تجزیہ کار بارہا بالواسطہ طور پہ اپنے بیانات میں ذکر کرتے آ رہے ہیں۔
وہ سمجھتے ہیں کہ اس جنگ کے اثرات پاکستان پر مرتب ہونے کا خدشہ اس لیے زیادہ ہے کیونکہ اس وقت کوئی بھی ہمسایہ ملک ایسا نہیں جو پاکستان کے ساتھ مزید دوستانہ تعلق رکھنے کا خواہشمند ہو، اور مغربی سرحدوں پر مسلسل جنگ کے بادل منڈھلا رہیں ، بلوچستان میں فدائی حملوں کا تسلسل روز بہ روز شدت اختیار کررہا ہے۔
پچھلے ایک سال میں خطے کا سیاسی و جغرافیائی صورت مکمل تبدیل ہوچکا ہے 31 جنوری کا حملہ عالمی قوتوں کا رجحان بلوچستان کی طرف موڑنے میں کامیاب ہوتا دکھاہی دے رہا ہے ، ریاست متحدہ اے امریکہ کے معتبر تجزیہ کار (مائیکل کوگلمین ) نے کچھ روز قبل کہا تھا کہ ایران میں بڑھتی کشیدگی بی-ایل-اے اور دیگر بلوچ آزادی پسند قوتوں کو مزید طاقتور بناسکتی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کی شمال مغربی اور جنوب مغربی سرحدیں غیر محفوظ دکھائی دے رہے ہیں۔
آپریشن ہیروف نا صرف قابض پاکستانی ریاست کے بدصورت چہرے پر اک زور دار تھمانچہ ثابت ہوا بلکہ اُن عالمی سامراجی قوتوں کو بلوچ کی جانب سے ایک کُھلا پیغام ہے کہ ہماری سرزمین ہمارے معدنیات اور ہمارا ساحل کسی بھی بیرونی سرمایہ کاری کے لیے محفوظ نہیں ہے۔
معرکہ 31 جنوری صرف بلوچ کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مشعل راہ ہے، مزاحمتی جدوجہد انسانی حریت، وقار اور حق کے لیے اٹھایا گیا سب سے بڑا قدم ہے، آپریشن ہیروف صرف ایک شخص یا قوم کی نہیں، بلکہ ظلم و جبر کے سامنے ایک مظلوم قوم کی ثابت قدمی اور حوصلے کی زندہ مثال ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































