بلوچستان کے ضلع پنجگور میں بلوچ آزادی پسندوں نے مربوط حملوں میں ‘ڈیتھ اسکواڈز’ کے متعدد ٹھکانوں کو حملوں میں نشانہ بنایا ہے، اہم مقامات پر ناکہ بندی کرکے علاقوں کا کنٹرول حاصل کیا گیا جبکہ فوجی قافلوں کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
گذشتہ شب پنجگور کے مختلف علاقوں خدابادان، گرمکان، چتکان، تسپ، فٹ بال چوک، پسکول سمیت مختلف مقامات کو مسلح افراد کی بڑی تعداد نے بیک وقت حملوں کے بعد کئی گھنٹوں تک کنٹرول میں لیا۔
ان حملوں میں حکومتی حمایت یافتہ مسلح جھتوں، جنہیں حرف عام میں ‘ڈیتھ اسکواڈز’ کے نام سے جانا جاتا ہے، کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق ڈیتھ اسکواڈز کی سربراہی کرنے والے بہرام، شاہدوک، کلیم اللہ، فرحان، سعود اور شاہ زیب کے ٹھکانوں پر مختلف مقامات پر حملہ کیا گیا، گھنٹوں تک جاری رہنے والے حملوں میں متعدد ٹھکانوں پر آزادی پسند مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔
فٹ بال چوک اور پسکول ندی کے مقامات پر پاکستانی فورسز کو جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا جہاں پہلے سے گھات لگائے مسلح افراد نے فورسز قافلوں کو حملوں میں نشانہ بنایا۔
حکام نے تاحال اس حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہے۔ علاقے میں انٹرنیٹ بندش اور آج صبح فورسز کی جانب سے محاصرے اور چھاپوں کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہوچکے ہیں۔
یاد رہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں یہ مسلح گروہ، جنہیں “ڈیتھ اسکواڈ” کہا جاتا ہے، مقامی افراد کے مطابق ریاستی سرپرستی میں چلنے والے یہ ڈیتھ اسکواڈز عام شہریوں، بالخصوص سیاسی و سماجی کارکنوں کی جبری گمشدگیوں اور ان کی لاشیں پھینکنے سمیت ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث ہیں۔
بلوچستان کی سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ گروہ ریاستی اداروں کی سرپرستی میں سرگرم ہیں جنہیں جرائم کے عیوض منشیات فروشی و دیگر سماجی برائیوں کی اجازت دی گئی ہے۔
حالیہ دنوں پنجگور میں بیس سے زائد ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جہاں نوجوانوں کو اغواء کے بعد قتل کیا گیا ہے۔ ان واقعات میں انہی مسلح گروہوں کو ملوث قرار دیا جاتا ہے۔
پنجگور میں گذشتہ شب ہونے والے حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔



















































