بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ پنجگور سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے ایک نوجوان حلیم بلوچ کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوئی ہے۔
بی وائی سی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق حلیم بلوچ ولد محمد صادق، جو پنجگور کے رہائشی اور پیشے کے اعتبار سے ایک دکاندار تھے، کو 19 فروری 2026 کو پنجگور کے علاقے خداآباد مسجد سے ریاستی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ کے مسلح افراد نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کردیا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حلیم بلوچ ایک عام شہری تھے جو اپنی دکان کے ذریعے روزگار کماتے اور اپنے خاندان کی کفالت کرتے تھے۔ مسلح افراد نے انہیں مسجد کے قریب سے بغیر کسی قانونی وارنٹ یا وضاحت کے اپنے ساتھ لے گئے۔
بی وائی سی کے مطابق حلیم بلوچ کے لاپتہ کیے جانے کے بعد ان کے اہلخانہ مسلسل ان کی تلاش میں رہے اور مختلف ذرائع سے ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے، تاہم انہیں ان کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔
تنظیم نے بتایا کہ 6 مارچ 2026 کو پنجگور ایئرپورٹ کے علاقے سے ایک لاش برآمد ہوئی جس کے جسم پر گولیوں کے متعدد نشانات تھے۔ لاش کو شناخت کے لیے سول ہسپتال پنجگور منتقل کیا گیا جہاں بعدازاں اہلخانہ نے اس کی شناخت حلیم بلوچ کے طور پر کی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حلیم بلوچ کا قتل بلوچستان میں جاری تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے، جہاں عام شہری، مزدور، طلبہ اور دیگر افراد اس طرح کے واقعات میں اپنی جانیں کھو رہے ہیں۔ اکثر خاندان اپنے پیاروں کو دنوں، ہفتوں یا برسوں تک تلاش کرتے رہتے ہیں اور بالآخر ان کی لاشیں ملتی ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے حلیم بلوچ کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے فوری احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس طرح کے واقعات بلوچ نسل کشی اور بلوچ شہریوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کا حصہ ہیں۔
بی وائی سی نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان کی صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کو روکنے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
















































