پنجگور، دستّک میں سرمچاروں اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ کے حوالے سے جیش العدل کا بیان غلط اور گمراہ کن ہے۔ بی ایل ایف

154

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہاکہ سرمچاروں نے 23 فروری 2026 کے دن پنجگور کے علاقہ دستک میں مین روڈ پر ایک اسٹریٹجک ناکہ بندی کی ہوئی تھی۔ اس دوران دن کے تقریباً 1:30 بجے کے قریب مخالف سمت سے ایک سرف اور دو ویگو گاڑیاں نمودار ہوگئیں جن میں سے دو گاڑیاں ناکہ بندی کے مقام پر آگئیں جبکہ ان کی تیسری گاڑی کافی فاصلے پر تھی۔ گاڑیوں میں سوار تمام افراد مسلح تھے۔ پوزیشن سنبھالے ہوئے سرمچاروں نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا اور بلند آواز میں ان سے بطور سرمچار اپنا تعارف کرکے ان سے ان کی شناخت کے بارے میں پوچھا۔ مذکورہ مسلح افراد نے اپنی شناخت ظاہر کرنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے سرمچاروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کیا۔ چونکہ سرمچار پہلے سے مورچہ بند تھے اس لئے محفوظ رہے۔
 
ترجمان نے کہاکہ اس بلا اشتعال فائرنگ کے جواب میں سرمچاروں نے فوراً اپنے دفاع میں بھرپور جوابی کارروائی کر کے دونوں گاڑیوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دونوں گاڑیوں میں سوار تمام چھ مسلح افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ تیسری گاڑی جو کچھ فاصلے پر پیچھے موجود تھی، پہاڑ کی اوٹ لے کر فائرنگ کرتی ہوئی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی۔
 
انہوں نے کہاکہ سرمچاروں نے اس کامیاب دفاعی کارروائی کے بعد جائے وقوعہ سے ہلاک افراد کا تمام اسلحہ قبضے میں لے لیا جن میں ایک روسی ساختہ LMG، پانچ کلاشنکوف اور ایک امریکی رائفل شامل ہیں۔ مذکورہ مسلح افراد کا ایک گاڑی جھڑپ کے دوران گولہ لگنے سے مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئی تھی اور دوسری گاڑی کو سرمچاروں نے نذرِ آتش کر دیا۔

مزید کہاکہ بعد ازاں بی ایل ایف نے اس واقعہ میں ہلاک مسلح افراد کی شناخت کے بارے میں تفتیش شروع کی تو میڈیا میں جیش العدل کے نام سے سرگرم مسلح فرقہ پرست گروہ کا ایک بیان دیکھا گیا جس میں اس نے دستک واقعہ میں ہلاک ان افراد کو اپنے ارکان ظاہر کرتے ہوئے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے خلاف زہر افشانی کرتے ہوئے بے بنیاد الزامات لگائے تھے۔
 
انہوں نے کہاکہ جیش العدل نامی یہ فرقہ پرست مسلح گروہ پنجگور، پنچی سے لے کر چیدگی باڈر تک کے وسیع سرحدی علاقے بشمول بگدر، سوراپ، سوراپ تنگ کے راہوں، دستک، جوانگز، نکر اور گور کادان میں قابض پاکستانی ریاست کا آلہ کار بنا ہوا ہے اور پاکستانی فوج  کی آشیرباد سے تمام سرحدی راستوں پر یہ گروہ اپنا کنٹرول قائم کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔
 
ترجمان نے کہاکہ  یاد رہے جیش العدل سے منسلک مسلح افراد نہ صرف منشیات کی اسمگلنگ کے روٹس کو تحفظ فراہم کر تے رہے ہیں بلکہ بلوچ نسل کشی کی ذمہ دار پاکستان کی ملٹری انٹیلیجنس (MI) کی براہِ راست سرپرستی میں چیدگی باڈر پر رائج پیکیج سسٹم کے اصل کرتا دھرتا بھی یہی لوگ ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر بھتہ وصول کر کے 120 گاڑیوں کے قافلے کو سرحد پار کروانے کی سہولت کاری کر تے رہے ہیں۔
 
آخر میں کہاکہ بلوچستان لبریشن فرنٹ پنجگور، دستک میں مسلح افراد کے ساتھ جھڑپ  میں 6 مسلح افراد کی ہلاکت اور ان کا اسلحہ ضبط کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور فرقہ پرست مسلح تنظیم جیش العدل کو تنبیہ کرتی ہے کہ مشرقی مقبوضہ بلوچستان میں بلوچوں کے قاتل قابض پاکستانی فوج اور ایم آئی کے ساتھ اپنی ملی بھگت اور بلوچ قومی تحریک آزادی، بالخصوص بی ایل ایف مخالف سرگرمیاں ترک کردے۔ ہم بلوچ عوام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ سرمچاروں کی ناکہ بندی کے دوران ان کے ساتھ بلاخوف تعاون کریں تاکہ غلط فہمی اور شک کی بنیاد پر کسی کو جانی اور مالی نقصان نہ پہنچے۔