پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تضادات کا تاثر
تحریر: بادوفر بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
پاکستان کی خارجہ پالیسی کو اکثر ناقدین ایک ایسی حکمتِ عملی قرار دیتے ہیں جو اصولی تسلسل کے بجائے وقتی سیاسی، معاشی اور سکیورٹی مفادات کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ اسی وجہ سے بعض مبصرین کے نزدیک پاکستان کی عالمی پالیسی میں واضح اخلاقی سمت یا مستقل سفارتی مؤقف نظر نہیں آتا۔
ایک بڑی تنقید پاکستان کے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات سے متعلق ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک سے پاکستان نے مختلف اوقات میں مالی امداد، قرضوں اور معاشی سہولتوں کی صورت میں نمایاں مدد حاصل کی ہے۔ خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر بھی پاکستان کی معیشت کے لیے اہم ستون رہی ہیں، جس کی وجہ سے ان ممالک پر معاشی انحصار کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔
دوسری جانب ناقدین پاکستان کے بین الاقوامی اتحادوں میں تضاد کی نشاندہی کرتے ہیں۔ افغانستان کی جنگ کے دوران پاکستان نے امریکہ کو لاجسٹک اور انٹیلی جنس تعاون فراہم کیا، مگر امریکی حکام کی طرف سے بارہا یہ الزام بھی لگایا گیا کہ پاکستان بیک وقت بعض عسکری گروہوں کے ساتھ روابط رکھتا رہا، جسے بعض تجزیہ کار “ڈبل گیم” قرار دیتے ہیں۔
ایران اور خلیجی ممالک کے حوالے سے بھی پاکستان ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا نظر آتا ہے۔ ایک طرف پاکستان ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھتا ہے، جبکہ دوسری طرف سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی اور سکیورٹی تعاون بھی جاری رکھتا ہے۔
ان عوامل کی وجہ سے عالمی سطح پر یہ بحث جاری رہتی ہے کہ آیا پاکستان کی خارجہ پالیسی پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی حالات میں بقا کی عملی حکمتِ عملی ہے یا ایسی اسٹریٹجک ابہام جس سے اس کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس قسم کی سوچ اور پالیسی عالمی امن کے لیے فائدہ مند ہے یا مستقبل میں امن کے لیے ایک ممکنہ خطرہ۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































