ٹرمپ قتل سازش کیس، پاکستانی ملزم نے ایرانی دباؤ کا دعویٰ کر دیا

92

میڈیا رپورٹوں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار ایک پاکستانی شہری نے گذشتہ روز (بدھ کو) جیوری کو بتایا کہ اس نے اس سازش میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ اپنی مرضی سے تعاون نہیں کیا تھا۔

امریکی محکمہ انصاف نے آصف مرچنٹ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر امریکی سیاست دانوں کو نشانہ بنانے کی خاطر امریکہ میں لوگوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ پاسدارانِ انقلاب اپنی فوجی و اقتصادی طاقت اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کی بدولت ایران میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق دہشت گردی اور مال کے عوض بھرتی کر کے قتل کروانے کے الزامات کے تحت جاری مقدمے کے دوران مرچنٹ نے عدالت میں کہا “میں یہ کام اپنی مرضی سے نہیں کرنا چاہتا تھا۔

مرچنٹ نے مزید کہا کہ اس نے تہران میں موجود اپنے خاندان کے تحفظ کی خاطر اس منصوبے میں شرکت کی۔

دوسری جانب استغاثہ نے مرچنٹ کے موقف کو مسترد کر دیا ہے۔ 2024 کے اس کیس کے حوالے سے جج کو لکھے گئے خط میں پراسیکیوٹرز نے کہا کہ “ایسے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں جو اس دعوے کی تائید کریں کہ اسے مجبور کیا گیا تھا یا اسے کوئی حقیقی خطرہ لاحق تھا۔

یہ مقدمہ گذشتہ ہفتے ایک ایسے وقت میں شروع ہوا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کے احکامات جاری کیے، جس کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور تہران کے متعدد اعلیٰ حکام ہلاک ہو گئے۔

ایران ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام کو نشانہ بنانے کے الزامات کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے۔