نوشکی اور ملتان سے 6 افراد جبری لاپتہ

15

بلوچستان اور دیگر علاقوں سے بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق 14 فروری 2026 کی شام پنجاب کے علاقے ملتان ٹبہ چار بلوچوں کو پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔

لاپتہ کیے جانے والوں کی شناخت کوہ سلیمان کے علاقے فضلہ کچ سے تعلق رکھنے والے محمد اسماعیل بزدار ولد خدا بخش، بیس سالہ جلیل بزدار ولد محمد، بیس سالہ محمد لطیف بزدار اور سینتیس سالہ غلام دین بزدار ولد محمد خان کے ناموں ہوئی ہے جو تمام مزدور پیشہ افراد ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ چاروں افراد کو 14 فروری 2026 کو رات تقریباً 8 بجے ملتان ٹبہ کے علاقے سے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لیا جس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکاہے۔

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک ان کی گرفتاری کی کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ہی ان کے بارے میں کسی تھانے یا عدالت میں معلومات فراہم کی گئی ہیں، جس کے باعث خاندان شدید تشویش میں مبتلا ہے۔

دوسری جانب نوشکی کے علاقے جورکین سے بھی ایک ہفتہ قبل دو افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ لاپتہ ہونے والوں کی شناخت رؤف ولد خیر جان اور انجم ولد چاکر خان کے ناموں سے ہوئی ہے، جنہیں پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا۔

لواحقین نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ان افراد پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے، بصورت دیگر انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات خطے میں جبری گمشدگیوں کے جاری سلسلے کی عکاسی کرتے ہیں، جس سے متاثرہ خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔