نوآبادیاتی دور، بیانیہ کی جنگ، قابض اور مقبوضہ کی طرز سیاست اور اخلاقیات میں فرق
تحریر: پروفیسر گندار بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
گزشتہ دنوں بلوچستان اسمبلی کے فلور پر وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے حلفیہ کہا کہ ” بلوچی شاعری بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کرکے ریاست مخالف بنا رہی ہے”۔
اس سے پہلے صوبائی وزیر ظہور احمد بلیدی بشمول انوارالحق کاکڑ، جان اچکزئی اور فواد چودھری کے اپنے مختلف دیئے گئے بیانات ، ٹی وی انٹرویوز، تقاریر، سوشل میڈیا اور سیمینارز کے ذریعے ریاست قلات / بلوچستان ، اس کے مضافات جنھیں بعد میں پاکستان نے برطانیہ کے شہ سے پہلے مرحلے میں صوبہ بناکر اور پھر ان بر قبضہ کردیا تھا۔ یہ سارے لوگ اس تاریخ اور اس کے وجود سے انکاری ہیں ، بلکہ یہ لوگ آغا عبدالکریم، نواب نوروز سمیت سابقہ تمام گوریلا بلوچ مزاحمتوں کو بھی ماننے سے انکاری ہیں ۔ یہ سب اپنے اسی بیانئے کو لیکر بطور ریاستی نمائندہ اپنا اپنا من گھڑت بیانیہ بھی پیش کرتے رہے ہیں ۔ بات یہاں آکر نہیں رکھتی بلکہ جامعہ بلوحستان کے طلبہ ہاسٹلز کا بند کرنا، اساتذہ کو تنخواہ نہ دینا، ابتدا میں بلوچ طلبہ کو پاکستان کے باقی صوبوں اور ان کے شہروں میں موجود تعلیمی اداروں میں اسکالر شپس پر داخلہ دینا ، اور پھر وہاں سے ان کی جبری گمشدگیاں اور اب داخلوں کے اس سلسلے کو ختم کرانے کی باتیں، یہ سب اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں ۔ وہ ہمیشہ سے یہ بیان دیتے آرہے ہیں بلوچستان یونیورسٹی پھر چاہے وہاں کے اساتذہ ہوں یا طلبہ یہ ادارہ تعلیم یافتہ بلوچوں کے لیے رابطے کا گڑھ ہے اور یہاں سے بلوچ قوم پرستی پھیلتی ہے لہذا یہاں سے بلوچ اساتذہ اور طلبا کی تعداد کو کن کیا جائے اور اپنے اسی پالیسی کے تحت ابتداء مراحل میں جامعہ کے خلاف بلوچ طلبا کو بلوچ طلبا کو داخلے ملے، پھر دوسرے مرحلے میں علاقوں کی بنیاد پر کیمپسز بنائے گئے اور اب وہ کہتے ہیں کہ بلوچوں کو تعلیم ہی مت دو۔
دیکھا جائے تو بلوچستان یونیورسٹی اکیلے روز زوال پذیر نہیں ہوا؛ اصل میں اسے “slow poisoning” کی طرح آہستہ آہستہ ختم کیا گیا۔ اس سلسلے میں پہلے ماتحت جامعات بنائی گئیں اور پھر مکمل خود مختار جامعات بنیں، اس تمام عمل کے پیچھے سوچی سمجھی سازش اور ایک خاص حکمت عملی پنہاں تھی۔
اپنے اسی پروگرام کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے، پنجگور میں تعلیمی اداروں کی بندش، اساتذہ کو دھونس، دھمکی اور ٹارگٹ کلنگ تک شامل تھی۔ اس کے علاوہ انگلش لینگویج سنٹرز کو زبردستی بند کرانا، دھمکی آمیز پمفلٹس تقسیم کرنا، مشترکہ نظام تعلیم کے خلاف مہم چلانا، اسکول جانے والی بچیوں پر تیزاب پھینکنا، پروفیسر رزاق زہری، رزاق سربازی، صباح دشتہاری جیسے بہت سے اساتذہ کو شہید کرنا — بلوچ دانش کی قتل عام تھی۔
حالیہ دنوں میں اکیڈمیز، خاص طور پر بلوچی اور براہوئ اکیڈمیز کے حوالے سے بات کی جاتی ہے کہ انہیں حکومتی تحویل میں لیا جائے۔ اس سے پہلے بلوچستان جامعہ میں دونوں زبانوں کے ڈیپارٹمنٹس کو ختم کرانے کی کوشش بھی ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔
“پروفیسر ایڈورڈ سعید جب قابض اور سامراج پر تنقید کرتا تھا تو استحصالی نظام نے اسے دہشت گرد پروفیسر کا نام دے دیا تھا۔” یہاں ہمارے اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ وہی کچھ کیا جا رہا ہے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے؛ بنگلہ دیش میں اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ جو کچھ کیا گیا اور جامعات میں جو ظلم و بربریت برپا کی گئی وہ سب ہمیں سمجھانے کے لیے کافی ہے کہ آج ہمارے نوجوان، اساتذہ، جامعات اور اکیڈمیز کے ساتھ یہ سب کیوں ہو رہا ہے۔
مجھے یاد ہے جب ہم صورت خان مری صاحب کے پاس اپنے طالب علمی کے دور میں اکثر ملنے جاتے تھے تو ایک دن باتوں باتوں میں انہوں نے ذکر کیا کہ انہیں ایک دھمکی آمیز خط موصول ہوا ہے، جس کے ساتھ پستول کی ایک گولی بھی بھیجی گئی ہے اور ساتھ میں لکھا تھا: “تمہارے لیے بس یہی ایک گولی ہی کافی ہے۔” ان کا قصور بس تحقیق کرنا اور لکھنا تھا۔
یہ سلسلہ آج کا نہیں ہے بلکہ 1948 اور اس سے بھی پہلے کا ہے۔ یوسف عزیز مگسی اور یوسف عزیز کرد کی لکھی گئی شمس گردی نے انہیں گرفتاریوں، جلاوطنی اور مالی نقصان کا سامنا کرایا تھا۔ جیسا کہ آج کل فورتھ شیڈول کے نام پر لوگوں کے بینک اکاؤنٹس بند اور جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں، تب بھی ایسا ہی ہوتا تھا۔ مثلاً انگریز سامراج نے میر نورالدین مینگل، نواب نوروز اور غازی سلیمان گرگناڑی کی جائیدادیں ضبط کی تھیں۔
مجھے ذاتی طور پر یہ سمجھ نہیں آیا کہ انہوں نے صرف بلوچی زبان میں کی گئی شاعری کا ذکر کیوں کیا اور براہوئی زبان کا ذکر کیوں نہیں کیا؟
اول تو جو رزمیہ شاعری آج کل ہو رہی ہے وہ شاعر اور ان اشعار کو گانے والے گلوکار نہ یہاں بیٹھے ہیں اور نہ ہی ان اداروں کے توسط سے کچھ کر رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انہوں نے اب تک براہوئی زبان میں کوئی شاعری پڑھی ہی نہیں ہے، یا پھر انہیں براہوئی اکیڈمی اور براہوئی زبان میں ہونے والی شاعری سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا؟
اس میں کوئی شک یا دو رائے نہیں ہے کہ براہوئی اکیڈمی اور براہوئی ڈیپارٹمنٹ جامعہ بلوچستان کی نسبت بلوچی اکیڈمی اور بلوچی ڈیپارٹمنٹ میں کچھ اچھا کام ہوا ہے۔ 2025 میں بھی انوار کاکڑ، جمال شاہ سابقہ نگران وفاقی وزیر اور ان کی ٹیم نے براہوئی اور بلوچی اکیڈمیز کے نمائندوں کو بلا کر بلوچ قومی اتحاد کے خلاف لکھنے اور براہوئی زبان کو قوم کے طور پر تحریروں میں پیش کرنے کا کہا گیا تھا۔ مگر اس وقت بلوچی اکیڈمی نے میری معلومات کے مطابق اس گندی کھیل کا حصہ بننے سے انکار کیا تھا۔
آپ لوگوں کو یاد ہوگا، پچھلے سال بھی ان اکیڈمیز کے فنڈ کٹوتی کا مسئلہ ہوا تھا، وہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی، بلکہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کو بھی اسی تناظر میں سوال نامہ بنانے اور طلبہ سے پوچھنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔
فلحال وقت تنقید کا نہیں ہے، ورنہ یہ بات خارج از امکان نہیں کہ سیاست دانوں سے لے کر کچھ لکھاریوں اور کچھ ملازمین، جن میں اساتذہ شامل ہوں، ان کی قیمتی رائے کے بغیر سرکار کے ذہن میں ایسی کسی بات کا وجود اور اس طرح کا فیصلہ ناممکن لگتا ہے۔
پارلیمانی پارٹیاں اور بی ایس او جس شکل میں موجود ہیں، یہ اکیلے روز ختم اور ناکام نہیں ہوئے ہیں بلکہ نوے کی دہائی کے شروع سے ہی مفاہمت کی سیاست، اپنے قومی سیاسی لائن کو چھوڑنا، اقتدار و مراعات کی خاطر پیچھے ہٹنا ہی آج انہیں بلوچ قومی سیاست میں غیر ضروری اور غیر مؤثر بنا چکا ہے۔ کہہ گئے تھے کہ “دشمن کی طاقت کو دشمن کے خلاف استعمال کریں، پارلیمان کو دشمن کے خلاف استعمال کریں”، مگر آج وہ خود دشمن کے ہاتھوں استعمال ہو کر اس کے نظام کا مکمل حصہ بن کر ختم ہو چکے ہیں۔
اسی طرح کونسل سیشنز میں خاران ہاؤس، بزنجو ہاؤس، محمد شہی ہاؤس اور ہوت ہاؤس کی لسٹوں نے بی ایس او جیسے عظیم ادارے کو قرب المرگ تک پہنچا دیا ہے۔ یہی حال بلوچی اکیڈمی سمیت جامعہ بلوچستان، براہوئی اور بلوچی ڈیپارٹمنٹس کا ہے۔ آپسی رنجشوں اور غیر ضروری اختلافات کو زبان زدِ عام لانا، بلکہ ان آپسی اختلافات کو مضامین کی شکل میں لکھ کر خود ہی لوگوں کی دہلیز تک پہنچانا، یہ سب ان کے اپنے کیے گئے کرامات اور ان اعمال کے نتائج ہیں۔
بالکل اسی انداز میں بلوچستان یونیورسٹی کو لوٹا سب نے پر اسے اپنایا کسی نے بھی نہیں اور نہ ہی برے وقت میں کوئی اس مادرِ علمی کے کام آیا۔
جنگ کے اثرات اپنی جگہ اور ان اثرات میں سے سب سے اہم یہ ہے کہ وہاں پرامن جدوجہد کی گنجائش بہت کم رہ کر بالکل سکڑ جاتی ہے۔ جنگ کا ایک اور بے رحم پہلو یہ بھی ہے کہ بہت سے چھوٹے لوگ بہت زیادہ مشہور ہو جاتے ہیں اور بڑے لوگ گم نام رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ فکر و فلسفے کی جگہ نعرہ بازی لے لیتی ہے، تحقیق، تحریر، ادارہ جاتی منصوبے، پرنٹنگ، اس سب کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے اور محدود ہو جاتی ہے۔ یہی کچھ آج کے بلوچستان میں ہو رہا ہے۔
کچھ عرصہ قبل وڈھ سے ایک دوست نے کہا کہ یہاں چند افراد پنجاب اور کے پی کے سے تبلیغ کی غرض سے آئے تھے۔ میں بھی خلوص نیت اور دین کی خدمت کی غرض سے ان کے ساتھ ہو لیا۔ انہیں گشت کی مناسبت سے شہر گھمانے لے گیا تو باتوں باتوں میں انہوں نے مرحوم سردار عطاءاللہ خان اور علاقائی سیاست کے حوالے سے سوالات چھیڑے اور بحث کرنا شروع کر دی، اور باتوں کا انجام علاقے کی ترقی اور قدرتی وسائل تک پہنچا کہ “یہاں کون کون سے قدرتی وسائل موجود ہیں جنہیں ترقی مخالف سردار نکالنے اور استعمال کرنے نہیں دے رہے ہیں؟” حتیٰ کہ وہ سردار صاحب کے حوالے سے نازیبا الفاظ استعمال کرنے لگے تو بقول میرے دوست کے وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ لوگ نہ تبلیغی ہیں اور نہ ہی دین کی غرض سے آئے ہیں، بلکہ یہ سب بلوچ مخالف ہیں اور مخبر ہیں۔ میرا وہ دوست جو مذہبی سوچ کا حامل انسان ہے، مگر اس کے بعد کہنے لگا کہ بی ایس او والے ٹھیک کہتے ہیں کہ ریاست کس طرح مذہب کو بھی بلوچوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔
بالکل اسی طرح زہری سے بھی ایک دوست نے واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ چند باہر سے آئے ہوئے لوگ ان کے گاؤں تبلیغ کے نام پر گئے تھے اور مہمان نوازی اور گشت کی نیت کے ساتھ ان کے ساتھ ہو لیا۔ راستے میں چلتے ہوئے انہوں نے شہید سفر خان کا ذکر چھیڑا اور ان علاقوں کے نام لیے جہاں انہوں نے مزاحمت کے دوران پڑاؤ ڈالا تھا۔ میرے دوست کے مطابق شاید اب مقامی لوگ بھی ان علاقوں کے نام بھول گئے تھے جو ان غیر مقامیوں کے زبان پر آ رہے تھے۔ مزید انہوں نے موجودہ مسلح جدوجہد کے حوالے سے بھی باتیں کرنا شروع کر دیں تو میرا دوست سمجھ گیا کہ مذکورہ حضرات جاسوس تھے، جو مذہبی لبادہ اوڑھ کر آئے تھے۔ یہاں ان واقعات کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ قابض بلوچ قومی جدوجہد کو کمزور کرنے کے لیے ہر طرح کے حربے آزماتا ہے۔ چونکہ یہ قومی جدوجہد ہے، پس جس طرح یہ ہر باشعور بلوچ کا مسئلہ ہے تو پھر مسلح جدوجہد کے علاوہ قوم کے باقی فیکشنز کہاں کھڑے ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟ اس پر بھی غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ بلوچ ایک تہذیب یافتہ اور تاریخی قوم ہے، مگر آج وہ اپنا تمدنی انفرادی شعور کافی حد تک کمزور کر کے چکا ہے، بلکہ تمدن کو اپنانے کو تیار ہی نہیں ہے جس کا قابض متواتر فائدہ اٹھا رہا ہے۔
اکثر بحث و مباحثوں میں ایسے موضوعات پر بات کرنے کے بعد ساتھیوں کے پاس اکثر ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ چونکہ ہم غلام قوم ہیں، اس لیے اس سب کا ہونا بنتا ہے۔ یہ ایک تسلیم شدہ بات ہے کہ ہم ایک کالونی ہیں، اور کالونی میں غلامی کے اپنے اثرات ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم خود بحیثیت قوم نیم قبائلی، نیم خواندہ اور نیم مذہبی ہیں۔ مگر ہم کب تک اس بنیاد پر اپنی اجتماعی لاشعوری کو اسی طرح جواز فراہم کریں گے؟
“مارٹن ایکس مین اپنی کتاب Back to the Future میں ریاست قلات کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ اسے ‘Proto‑State’ یا ‘Quasi‑State’ بتاتے ہیں، یعنی ایک ایسی قبائلی ریاست جس کا اپنا تعلیمی نظام اور مضامین نہ ہوں، باقاعدہ بینک اور کرنسی نہ ہو، ترتیب وار اور منظم فوج نہ ہو، تعلیمی ادارے اور انفراسٹرکچر نہ ہو تو ایسی ریاستیں ناکامی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہی حال ریاست قلات کا ہوا۔ اپ اندازہ لگائے، پوری ریاست میں ایک بھی ایسا آدمی نہیں تھا جسے انگریزی زبان آتی ہو، لہذا وہ برٹش بلوچستان جس کی دہلی میں نمائندگی چیف آف سراوان نے کرنا تھی، اس کی جگہ ایک غیر بلوچ کو بٹھا دیا گیا جس کی سزا آج تک تاریخ پوری قوم کو دے رہی ہے۔ حتیٰ کہ قانونی گفتگو کے لیے ریاست نے کرائے پر وکیل اور ملازم رکھے جو غیر بلوچ تھے۔” یہ الگ بات ہے کہ اپنے منظور نظر شخص کو انگریز نے سفارش کر کے ایک طرح سے ریاست قلات کا لیگل ایڈوائزر رکھوا کر اسے مالی فائدہ پہنچایا اور اس سے اپنے کام نکلواتا رہا، جنہوں نے تمام ثبوت بمعہ کمزوریوں کے جمع کر کے ان سے فائدہ اٹھایا اور عین وقت پر دھوکہ دے دیا۔ ریاست کے حکمرانوں کے پاس اتنا ویژن بھی نہیں تھا کہ کچھ بلوچوں کو ریاست کے خرچے پر اعلیٰ تعلیم کے لیے باہر بھیج دیتے، تو اس طرح قانونی طور پر دھوکہ نہ کھانا پڑتا۔
مگر ہم آج بھی اسی طرز پر چل رہے ہیں۔ لگتا ہے ہم نے غیروں کی تاریخ یا تاریخِ عالم اپنی جگہ اپنی خود کی قومی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا، اور اگر ہم تاریخِ عالم سے یا اپنی تاریخ سے کچھ سیکھتے تو یہ سمجھ جاتے کہ آغا عبدالکریم کے ساتھ مذاکرات کے نام پر دھوکا ہوا تھا، نواب نوروز کے ساتھ قران کو لے کر مذاکرات کے نام پر دھوکا کیا گیا تھا، اس کے باوجود 1978 میں بھی مذاکرات اور بے معنی نتائج، اس سب کے بعد بھی 2005 میں نواب اکبر خان کے ساتھ پھر سے مذاکرات اور دھوکا۔ اس کا مطلب ہے کہ سیاست کے منچ پر جس علم کو مذاکرات، ٹیبل ٹالک، شرائط منوانا اور دشمن کی چال کو سمجھنا، ڈپلومیسی کے ادب سمجھا جاتا ہے، اس سے ہم ابھی تک نا بلد ہیں۔ اس سب کے باوجود ہم آج بھی اسی پرانے ڈگر پر چل رہے ہیں، آج ہمارے نمائندے حامد میر، رفیع الله کاکڑ اور جبران ناصر جیسے لوگ ہیں جو قابض کے بھی منظور نظر ہیں۔
یہی حامد میر کتنے پروگرامز اور سیمینارز میں یہ تجویز پیش کر چکا ہے کہ خدانخواستہ بلوچستان کے مسئلے کا واحد حل ڈاکٹر اللہ نظر کے قتل میں ہے۔ حتیٰ کہ ماضی کے حوالے سے پروفیسر فاروق بلوچ کی پوری ایک کتاب موجود ہے کہ کس طرح وہ ہمارے لوگوں سے گھل مل گئے اور ہمیں نقصان پہنچاتے رہے۔
اس سب کے باوجود آج بھی بہت سی جگہوں پر غیر بلوچ ہمارے نمائندے بنتے ہیں، بلکہ بسا اوقات ہمارے لیے سیاسی مذاکرات بھی کرتے ہیں۔
تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ غیر قوم کی خدمات صرف اور صرف پروفیشنل معاملات میں، وہ بھی بحالتِ مجبوری، حاصل کر سکتے ہیں، نہ کہ قومی معاملات میں، کیونکہ غیر کبھی بھی دھوکہ دے سکتا ہے جیسے آج کل حامد میر کر رہا ہے۔ ویسے بھی “ڈیکلین والش کی کتاب، The Unholy Alliance of Pakistan” پڑھنے کے بعد اس راز سے پردہ اٹھ جاتا ہے کہ یہ کتنا بڑا اور سچا صحافی ہے۔
ایک اور مسئلہ بلوچ کا انفرادی قومی شعور، انفرادی سیاسی شعور، انفرادی حقِ ملکیت کا ادراک اور شعور اور قابض کے مکاریوں اور نفسیاتی چالوں کو سمجھنا ہے کہ قومی جدوجہد میں فرد کا کتنا اہم کردار ہوتا ہے۔ اس کی شہری، سماجی اور قومی زمہ داریاں کیا ہوتی ہیں؟ اسے اپنے اس زمہ داری کا کتنا ادراک ہے؟ اس میں بسا اوقات ہمارے لوگ کمزور نظر آتے ہیں۔
میں نے شروع میں ہی عرض کیا تھا کہ ہمارے لوگوں میں تمدن کے احساس کی شدید کمی ہے جس کا ہر جگہ ہمیں احساس بھگتنا پڑتا ہے۔ مثلاً ہمارے سماج کے بہت سے حصے آج کے دور کے تقاضوں سے میل نہیں کھاتے، مگر ہم انھیں بدلنے اور ان پر غور کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
“میری سر زمین پر ایک کٹورے پانی کا صلہ سد سالہ وفا ہے۔” چاہے وہ گلاس مکار اور سازشی سنڈیمن اور انوارالحق کاکڑ جیسے لوگوں نے ہی پلایا ہو، یا پھر “بلوچ کا بدلہ سو سال تک ختم نہیں ہوتا” تو اس بدلے کی آگ اور دشمنی کی لکیر کو کھینچتے وقت ہم باپ، رشتہ دار، عزیز، ذاتی، گروہی دشمن اور قومی دشمن کے درمیان فرق کو سمجھنا قطعی بھول جاتے ہیں، یا پھر قبائلی اور ذاتی دشمنی میں مخالف گروہ کے بہتر سے بہتر انسان کو دشمنی کی بنیاد پر مارنا جس کا بسا اوقات اس دشمنی سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہوتا۔
اکثر خشک و بنجر زمینیں پڑی ہوں، کوئی وارث یا دعویدار نہیں ہوتا، مگر جیسے ہی کوئی انھیں آباد کرنے لگے تو جھگڑا اور خانہ جنگی شروع ہو جاتی ہے۔ کاروباری لین دین میں کمزوری، یہ سب آج ہمارے مزاج کا حصہ بن چکے ہیں، اور ہمارے اس عمل کا ہمارا قومی دشمن بھی فائدہ اٹھا رہا ہے۔
زبان کی وسعت اور پھیلنے پھولنے میں مارکیٹ کا بہت اہم کردار ہوتا ہے، پر یہاں بھی بلوچ کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے گلی کوچوں میں بھی ایک غیر مقامی اور غیر بلوچ جو اکلوتا ہو گا، مگر بلوچ اپنی زبان میں بولنے کے بجائے اس کی زبان میں بات کرے گا اور اپنے اس طرز عمل کو رواداری کا نام دے گا، جو سریعاً غلط ہے، اس لیے کہ رواداری تب زیب دیتی ہے جب آپ کے پاس حقِ ملکیت اور فیصلہ سازی کا اختیار ہو، غلام کی کیا رواداری اور روایات؟
جنگ کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ وہ تمام سابقہ اور موجودہ روایات کو ختم کر کے ان کی جگہ نئی روایات کو جنم دیتی ہے، جسے سماجی تبدیلی کا نام دیا جاتا ہے۔ اس سے صاف واضح ہے کہ سیاسی جدوجہد کا مطلب ہی موجودہ سماج اور اس کے روایات کا متبادل ہے۔
آپ کے ہاں اکثر گلی محلوں اور ہمسائے میں گھر کے پاس پرچون کی دکان، فروٹ اور سبزی کی ریڑھی، تندور، چائے کی ہوٹل، موچی، دھوبی، درزی، دودھ والا ، یہ سب غیر بلوچ ہوں گے۔ وہ ایک گھر، ایک فرد اور ایک دکان والا وہاں اپنی زبان، اپنا کلچر اور طرزِ زندگی آپ کی پوری مقامی آبادی پر مسلط کرتا ہے، جبکہ ساری بلوچ آبادی مہمان نوازی کے نام پر خاموش رہتی ہے۔ گلی، گراؤنڈ، قبرستان، نکاسی آب، یہ سب پہلے تو خود نہیں چھوڑتا اور اگر غیر قبضہ کر لے تو پھر روایات کے نام پر اسے چھپ کی سانپ سونگھ جاتی ہے۔
آج کے دور میں بھی لکپاس، اس سے بھی آگے مستونگ، گائ خان چوک، حتیٰ کہ دشت کے بلوچ کو بھی چائے یا کافی پینے، کڑائی اور روش کھانے کے لیے کوئٹہ ایئرپورٹ روڈ، کچلاک اور پشین تک خرچہ کر کے جانا پڑتا ہے۔ اس میں جانے والے کا کتنا سارا وقت اور وسائل لگ جاتے ہیں، اور پھر افواہ پھیلاتے ہیں کہ بلوچ کو کاروبار نہیں آتا۔ جی، بلوچ نہ صرف بارڈر جیسا پرخطر کاروبار کامیابی سے کر رہا ہے بلکہ خلیج ممالک کی مارکیٹ کو اپنی بساط کے مطابق اچھا خاصا چلا رہا ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ بلوچ علاقوں میں روزگار نہیں ہوتا اور خود بلوچ علاقے کا ہر دوسرا مکان، دکان اور پلاٹ خرید کر پلازے، شاپنگ سینٹرز اور ہول سیل ڈیلرز بنا رہے ہیں، اور اس میں صرف وقت اور وسائل کا ضیاع نہیں ہے، بلکہ اگر مارکیٹ آپ کے ہاتھ سے گئی تو فیصلوں میں آپ کا کوئی اختیار نہیں رہتا، لہذا آپ کی زبان بھی مارکیٹ سے غائب ہو جاتی ہے۔
جامعہ بلوچستان میں غیروں نے اپنی تیسری نسل تک کو کپا دیا اور بلوچ بطور مالک غافل رہا۔ آج جامعہ بلوچستان کو مکمل ناکامی اور بند ہونے کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔
کاذوباری شخص، چاہے وہ کسی بھی صورت میں ہو، آپ کے وسائل لے جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نہ صرف اپنی زبان آپ پر مسلط کرتا ہے بلکہ آپ کی مخبری بھی کر کے ہر لمحے کی خبر قابض کو مہیا کر دیتا ہے۔
آج سریاب پل سے لے کر گائ خان چوک تک کروڑوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے، آبادی بلوچ کی، وسائل بلوچ کے، پر منافع کسی اور کا۔
کلی قمبرانی سے لے کر مشرقی اور مغربی بائی پاس تک، قمبرانی سے لے کر شاواڑی قبیلے تک، ان سے ان کی زمینوں کی فصلیں خرید کر اگلی ہی سڑک پر انھیں دوگنا قیمت پر بیچا جاتا ہے، اور بلوچ سے پوچھو تو جواب ملتا ہے: “روزگار نہیں ہے۔”
ہزارگنجی میں روزانہ اربوں کا کاروبار ہوتا ہے، لوگوں نے وہاں زمینوں پر قبضہ کر کے بنگلے اور پلازے تیار کر کے کھرب پتی بن گئے ہیں، اور بلوچ مالک ہوتے ہوئے بھی وہاں صرف چوکیدار ہے۔ دوسری جانب نیو کاہان تک کی زمین اس “قبضہ مافیا” کی نظروں میں کھٹکتی ہے کہ کب مری بلوچوں کو وہاں سے بھی بے دخل کر کے ان کی زمینوں پر، شہدا کی قبرستان پر قبضہ کر کے وہاں بھی پلازے کھڑے کیے جائیں۔
ہوسکتا ہے کہ لوگوں کو موچی، حجامت، درزی، ہوٹل وغیرہ جیسے روزگار کے زرائع پر اعتراض ہو کیونکہ طبقاتی معاشرے میں انھیں نچلے طبقے کے لوگوں کا کام سمجھا جاتا ہے۔ میں ان سے یہاں اختلاف نہیں رکھتا، پر کیا یہ جدوجہد معاشرتی طبقوں کو بھی مٹانے کے لیے نہیں ہے؟ اور پھر آج کے جدید دور کے عصری تقاضے کیا ہیں؟ اس کے ساتھ ساتھ پھر ہمیں ان کے نقصانات پر بھی بحث کرنی ہوگی، کیونکہ معیشت، تعلیم اور سماجی تبدیلی سمیت ہمارے ذہنوں میں بہت سارا کالونیل سوچ کافی حد تک سرایت کر چکا ہے۔ ورنہ یہ کاروبار نہ کرنے کا سوچ، اپنی ملکیت کو غیروں پر سودا کرنے کا سوچ، اور اس بات کا بھی تدارک نہ کرنا کہ کل کو میں اقلیت میں تبدیل ہو سکتا ہوں، اور قابض تو چاہتا بھی یہی ہے — لہذا کیوں نہ مارکیٹ کو اپنے ہاتھ میں لیں، اور اپنے وسائل اور سرزمین کی اہمیت کو سمجھیں؟
معیشت کو اہمیت نہیں دینا اور کسی بھی کام کو کمتر سمجھنا، اس سوچ کو میں اس لیے کالونیل سوچ کی عکاس سمجھتا ہوں کہ کیا ریاست قلات میں بلوچ اپنے جسم کے بالوں کی صفائی ستھرائی نہیں کرتا تھا، جوتے، چپل اور بوٹ نہیں خریدتا تھا، کپڑوں کی سلائی کر کے نہیں پہنتا تھا؟ یا پھر ان سب کے لیے بھی باہر سے لوگ لائے تھے؟ یقیناً ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک قوم اور اس کی ریاست کے پاس یہ سارا ہنر موجود نہ ہو۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ سوچ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے جو ہمارے سماج میں اس حد تک سرایت کر چکی ہے کہ اس کا احساس ہماری ہر نسل بھر رہی ہے۔
جدوجہد قوموں کو سمت مہیا کر دیتی ہے، مگر بسا اوقات ہماری انفرادی سوچ، انفرادی قوم پرستی میں ڈھیلا پن بھی نقصان کا باعث بن جاتی ہے۔ یہ درست ہے کہ بلوچ قوم نے کبھی بھی کسی اور کے حوالے سے توسیع پسندانہ سوچ نہیں رکھی، لیکن اکثر و بیشتر حقِ ملکیت کے حوالے سے بھی انفرادی طور پر بہت کمزور سوچ رکھتی ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ “لینڈ ایکوزیشن ایکٹ” کے جبری قانون کے نام پر نہایت ہی سستے داموں پر سرکار بلوچوں کی زمینوں پر قبضہ کر کے ان پر سڑکیں اور مختلف تعمیرات کراتی ہے۔ زمین بلوچ کی، آبادی بلوچ کی اور اگلے ہی دن کوئی اقلیتی مہمان یا پناہ گزین وہاں اپنے باپ، دادا کی یا کسی سیاسی پارٹی یا اس کے رہنما کے نام کی تختی لگا کر اس چوک، روڈ یا عمارت کو اپنے نام سے منسوب کر دیتا ہے، لیکن بلوچ اس حوالے سے غفلت اور لاپرواہی کا شکار ہے۔ وہ شاید اسے اہمیت ہی نہیں دیتا، اگر وہ درحقیقت ایسا سمجھتا ہے تو پھر برطانوی دور کے لوگوں کے نام پر بننے والی سڑکوں اور چوک چوراہوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جو آج بھی اس دور کے کسی انگریز، ہندو یا آباد کار کے نام سے منسوب ہیں۔ لیکن بلوچ کا نام ہمیں کسی جگہ نظر نہیں آتا، بلکہ اگر غلطی سے کوئی نام یا نشانی نظر آئے تو اسے بھی مٹا دیا جاتا ہے۔
گزشتہ اٹھتیس سالوں میں ہم نے نہ دیکھا اور نہ سنا ہے کہ کسی نئی جگہ کو کسی بلوچ کے نام سے منصوب کیا گیا ہو۔ آج نہ مہردار بچا، نہ مری آباد رہا اور نہ ہی نیچاری آباد اور بلوچی اسٹریٹ رہے۔ تبھی تو کل کا مہمان آج مالک کو بزرگ کہہ کر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے، حالانکہ یہ کل بھی بلوچ سرزمین تھی اور آج بھی بلوچ سرزمین ہے۔
دیکھا جائے تو 31 جنوری، 2026 کو بلوچ نے کسی ہمسایہ قوم، اقلیت، مہمان، پناہ گزین یا غیر بلوچ کی نہ چادر اور چار دیواری کی پامالی کی، نہ کسی کے گھر، دکان، جائیداد اور کاروبار پر قبضہ کیا۔ تو پھر جو لوگ آگ بگولا ہوئے، ان کا مقصد حقیقی بحث کو بدلنا اور اس کا رخ کسی اور جانب کرنا تھا۔ بالکل اسی طرح، زبان، ثقافت، ادب اور رزمیہ شاعری بھی ان کو چھوتی ہے جہاں تک دو ہمسایہ اقوام کے درمیان حد بندی کا مسئلہ ہو تو اس کے لیے عالمی قوانین موجود ہیں، پروہ لمحہ آئے تو صحیح۔
کہتے ہیں کہ نویں دہائی میں بھی سعید ہاشمی کا کام یہی تھا کہ لسانی بنیادوں پر بلوچوں کے خلاف پمفلٹس بنوا کر انہیں کوئٹہ کے مختلف تعلیمی اداروں اور طلبہ کے ہاسٹلز میں راتوں کو پھینکوائیں۔ اب شاعری کے خلاف بات کرنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ بلوچ قومی جدوجہد کے حوالے سے کافی حد تک معاملات درست سمت میں جا رہے ہیں۔
سامراج اور قبضہ گیر کی تاریخ پر جب ہم نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں پڑھنے کو ملتا ہے کہ کسی قوم کے شاعر اور شاعری پر پابندی لگانا نہ یہ پہلی بار ہے اور نہ ہی ایسا صرف بلوچ کے ساتھ ہو رہا ہے، بلکہ ہر دور میں قابض کالونائیزر نے مقبوضہ اقوام کی تاریخ، زبان، ثقافت اور شاعری و ادب سے خوف محسوس کیا ہے۔ مثلاً لارڈ میکالے نے اٹھارہ سو پینتیس میں “Minutes on Indian Education” میں لکھا ہے کہ انگریزی نظام تعلیم کو روایتی ہندی نظام تعلیم کی جگہ متعارف کیا جانا چاہیے، ان کی دلیل یہ تھی کہ صرف ایک مغربی ادبی تخلیق ہی پورے ہندوستان کے تمام تر تخلیقات سے مقدس ہے۔ اس طرزِ عمل کو “Colonial Pride” کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قابض یہ سمجھتا ہے کہ مقبوضہ پر اپنی مرضی اور منشاء کا زبان، ثقافت، ادب، رسم و رواج اور روایات مسلط کرنا اس کا حق ہے، جو کہ اس کی نظر میں بالکل درست ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں بھی قابض آج کل ہر جگہ اور ہر فورم پر رٹہ رٹایا ایک ہی بات دہراتے ہیں کہ “بلوچ عزت دار اور غیرت مند قوم ہے، وہ اپنی خواتین کو جنگ میں کیسے استعمال / شامل کر سکتا ہے؟” اب ان عقل کے اندھوں کو کون سمجھائے کہ مزاحمت اور غلامی و قبضہ کے خلاف لڑنا مزاحمت کرنا بذاتِ خود ایک غیرت مند عمل ہے۔ Feminist Approach کے تناظر میں بحث پر فی الحال یہاں ہم نہیں جاتے کہ خود قابض کے ہاں خواتین کے کیا حقوق ہیں اور بلوچ کے ہاں اس کے کیا معنی ہیں؟
البتہ “فرانز فینن” اپنی کتاب Dying Colonialism میں قابض کے اسی سیاسی چال کے حوالے سے ہمیں الجزائر میں چلنے والی سیاسی تحریک اور قابض کے اسی طرح کے طرزِ عمل کے بارے میں سمجھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب وہاں کی خواتین چادر اور چار دیواری تک محدود تھیں اور پردہ نشین تھیں، اپنی قومی جدوجہد کا حصہ نہیں تھیں، تب قابض کا ان کے خلاف ایک ہی پروپیگنڈہ تھا، یہ جاہل ہیں، قبائلی ہیں، وحشی ہیں، ترقی مخالف ہیں، اپنی عورتوں کو حقوق نہیں دیتے، انہیں بس چادر اور چار دیواری تک محدود کر کے رکھا ہے۔ فینن کے بقول، جب الجزائر میں قومی جدوجہد نے وہاں کے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب کرنے شروع کیے اور سیاسی شعور بڑھا تو خواتین قومی تحریک کا حصہ بننے لگیں، تو ایک دم قابض نے اپنے وطیرے کے مطابق پہنچی ہوئی تصویر بدل کر کہنا شروع کیا کہ یہ تو وحشی ہیں، اپنے قومی روایات کی پامالی کر رہے ہیں، ان کی عزت اور غیرت کہاں گئی؟
دراصل یہ تمام باتیں قابض کے حربے ہوتے ہیں جنہیں وہ نفسیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ موازنہ کیا جائے تو ہمارے ہاں بھی قابض ایسی ہی باتیں دہراتا ہے اور دوسری جانب بلوچ خواتین کو مقید کرتا ہے، بلکہ جبری گمشدگی کا شکار بھی بناتا ہے۔
“نیلسن منڈیلا اپنی آپ بیتی میں قابض کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ وہ قابض مجھ سمیت ہمارے بہت سے نوجوانوں کے اپنے والدین کی جانب سے رکھے گئے ناموں کو بدلتے تھے اور کہتے تھے: ‘یہ جاہلانہ نام ہیں، ان کے کوئی معنی نہیں بنتے، ہم تمہارے نام بدل کر تمہیں تہذیب یافتہ بنانا چاہتے ہیں۔'” وہ لکھتے ہیں کہ درحقیقت اکثر ہمارے نام ہمارے قومی ہیروز اور بزرگوں کے ناموں کی نسبت سے رکھے جاتے تھے، اور جب ایک شہر سے دوسرے شہر ہم منتقل ہوتے، تو اس نئے شہر میں قابض قوم کے لوگ اپنے ہی دئے گئے ناموں کے ساتھ ہمارے نام بدل دیتے یہ سوچ کر کہ شاید یہ نام ہمیں ہمارے والدین کی جانب سے ملے ہیں۔ اہستہ اہستہ ہم ان کی چال سمجھ گئے اور خاموشی اختیار کی کہ یہ لوگ صرف ہماری شناخت ختم کرنے کے درپے ہیں، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ہمارے اپنے قوم کے کچھ نادان لوگ ان کے رنگ میں رنگنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، یعنی ان کے جیسا کھانا کھانے کی، کپڑے پہننے کی، ان کے جیسے نام رکھتے ہیں، اور تھوڑے عرصے کے لیے وہ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ غلام ہیں۔ وقتی طور پر اندھے ہو جانے کے بعد ایسے لوگ جب ‘Indians and Dogs are not Allowed’ جیسے ٹھوکر کھاتے ہیں تو پھر دوبارہ اپنی قوم کے پاس واپس چلے جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں بھی اسکول، کالج، جامعات، مدارس اور تبلیغی گشت و اجتماعات کے دوران اکثر لوگوں کے آباء و اجداد اور تاریخی ہیروز کے نام قابض کو پسند نہیں آتے، انہیں گھرام، چاکر، جیند اور بالاچ جیسے نام بالکل بھی پسند نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں: “یہ کیسے عجیب نام ہیں تم لوگوں کے!” احمد، رحمت جیسے نام رکھو تاکہ آخرت میں جنت میں داخل ہو سکو، یعنی تمہارے نام جہنمی نام ہیں۔ ایسا صرف ایک قوم کی پہچان کو مٹانے کے لیے کیا جاتا ہے۔
یہ اسی طرح مقامی لوگوں کی لسانیت اور ادبیات پر گہری نظر رکھتے ہیں، ان کی تخلیقات و تحقیقات کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً متحدہ ہندوستان میں اسی سوچ کے تناظر میں وہاں کے مقامی زبانوں، جیسے فارسی، سنسکرت اور ہندی سمیت بہت سارے مقامی زبانوں اور ان میں کی گئی تخلیق کو کافی حد تک ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
بالکل اسی طرز پر فرانس نے بھی اپنی کالونیوں میں “Civilizing Mission” کے نام پر مقامی اقوام کی زبان، ثقافت، رسم و رواج اور قومی تاریخ کو مٹانے کے لیے کوشش کی۔
افریقہ اور لاطینی امریکی کالونیوں میں بھی “School System” کے نام پر مقامی اقوام کی زبانوں کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔
کینیا سے تعلق رکھنے والے دانشور لکھاری “نگوگی وا تھیونگو” نے اپنی کتاب Decolonising the Mind میں بحث کرتے ہیں کہ زبان قابض کے طاقت کو ختم کرانے کا ایک اہم عنصر ہے، جس کی وجہ سے مقبوضہ اقوام خود کو محفوظ سمجھتے ہیں اور آسانی سے اظہار کر سکتے ہیں، تبھی قابض ان کی زبان پر قدغن لگا کر اسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہودی دنیا میں جہاں بھی رہے اور جس بھی حال میں رہے، انہوں نے اپنی زبان کو کبھی بھی نہیں چھوڑا، اور جب وہ اسرائیل کی سرزمین پر موجود ہیں تو ان کی ترقی کا اہم راز ‘عبرانی’ زبان کا محفوظ رہنا اور پنپنا ہے۔
ہمارے ہاں صرف بلوچی رزمیہ شاعری تک بات محدود نہیں ہے بلکہ شاعروں، ادیبوں اور گلوکاروں کو جبری گمشدگی کا شکار کر کے ان کے جسموں پر ڈرل کی گئی، مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئیں، ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اپنی مادری زبانوں میں لکھتے یا گاتے تھے۔
ہر دور کے قابض کو ذہین انسانوں سے اور ان کی تخلیق سے خوف رہا ہے۔ جہاں تک بات شاعری کی ہے تو کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ یہیں پر فیض احمد فیض اور حبیب جالب نے اپنی شاعری سے عوام کو یکجا کرنے کی کوشش کی، تو اس کی پاداش میں انہوں نے زندگی میں بہت ساری پابندیاں، سختیاں اور جیلیں بھگتیں۔ بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، سبھاش چندر بوس سمیت ہندوستان، افریقہ اور لاطینی امریکی ممالک میں بہت سارے انقلابی شاعروں کی تخلیقات کو سامراج نے نہ پسندیدگی کی نظر سے دیکھا۔ دراصل انہیں یہ خوف ہمیشہ لگا رہتا ہے کہ ان کے ظلم و جبر اور قبضے کو مقامی ادیب و دانشور اپنی تحقیق، تخلیق، شاعری، گلوکاری، حتیٰ کہ عام گفتگو کے ذریعے اشکار کر لیتے ہیں، اسی لیے قابض ان کے خلاف ہو کر ان کی تخلیقات پر پابندی عائد کرتے ہیں۔ وہ ان کی تخلیق کو پروپیگنڈہ، دشمن کی سازش اور فتنہ کہتے ہیں، یہ “فتنت الہندوستان والا چورن” اسی کالونیل دور کا ایک حربہ ہے۔
“پروفیسر احمد اقبال مرحوم پاکستانی نژاد امریکن محقق و دانشور تھے، انہوں نے اپنی کتاب Terrorism, Ours and Theirs میں لکھا ہے کہ مظلوم کے ظالم کے خلاف ہونے والے عمل کو قابض کبھی دہشتگردی تو کبھی فتنہ جیسے القابات سے نوازتے ہیں، تو اقبال صاحب ان کے جواب میں لکھتے ہوئے سامراج اور قابض کے اس عمل پر شدید تنقید کرتے ہیں کہ عنف کے حوالے سے ظالم طبقے دوہرے معیار کے شکار ہو جاتے ہیں، کیونکہ یہ خود اپنی دہشت گردی کے ذریعے مظلوم کی نسل کشی کرتے ہیں، اور جب مظلوم اپنا دفاع کرتا ہے تو یہ اسے دہشت گردی کہتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی دہشت گردی اور فتنوں کو جواز فراہم کرتے ہیں۔ اقبال احمد مزید لکھتے ہیں کہ مقبوضہ کی جدوجہد کو دہشت گردی کہنے والی قوتیں خود کی کی ہوئی دہشت گردی، آپریشنز، قبضے اور لوٹ مار کو بالکل معمولی عمل سمجھتے ہیں۔
اٹھارہ سو اٹھہتر میں لارڈ لٹن نے برصغیر میں ورنیکولر پریس ایکٹ متعارف کرایا، جس کے تحت مقامی زبانوں میں شائع ہونے والے اخبارات اور سیاسی تحریروں پر پابندیاں عائد کی جاتی تھیں۔
اٹھارہ سو ستر میں ہندوستان میں ایک ایکٹ نافذ ہوا، جس کے تحت گاندھی اور بال گنگادر ٹیلک کی تقاریر پر یہ کہہ کر پابندی عائد کی گئی کہ ان کی تقریروں میں ریاست کی جانب عدم وفاداری کی باتیں زیادہ شامل ہوتی ہیں۔
دراصل یہ آج کے دور کے ملٹری کورٹس، نیشنل ایکشن پلان، فورتھ شیڈول، ایگزٹ کنٹرول لسٹ، یہ سب برصغیر میں سیاستدانوں، ادیبوں، دانشوروں، گلوکاروں، آرٹ و تھیٹر کے خلاف استعمال کیے گئے ہیں، جو اب یہاں نافذِ العمل بنا دیے گئے ہیں۔
ربندر ناتھ ٹیگور سمیت افریقی کینین دانشور نگوگی جب انگریزی میں لکھتے تھے تو یہ لوگ برطانیہ اور فرانس کے لیے قابل قبول تھے، مگر جب اپنی اپنی مادری زبانوں میں لکھنے لگے، خاص طور پر نگوگی نے اپنی مادری زبان میں لکھنا شروع کیا، تو قابض کو اس کی یہ عدا پسند نہیں آئی۔
دیکھا جائے تو شاعری ہوتی ہی مزاحمتی ہے، جو جبر و استحصال کی کوک سے جنم لیتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ جیند بلوچ نے دو سو سال پہلے جو مزاحمتی شاعری کی ہے، اسی طرح مبارک قاضی، گل خان نصیر، بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، کیا ان سب کو دوبارہ زندہ کر کے سزا دیں گے؟ ان کی کتابیں جلا دیں گے؟ یا پھر یہ خود ان سب کی تخلیقات کے بوجھ تلے دب کر مٹ جائیں گے؟
دراصل نوآبادیاتی دور کا ایک نفسیاتی پہلو ہے کہ قابض کا ظلم و ستم مختلف حربوں اور طریقوں سے مقامی آبادی کے درمیان خوف و ہراس پھیلانا ہوتا ہے۔ بظاہر وہ طاقتور لگتا ہے، جس طرح اکثر یہ بات دہرائی جاتی ہے کہ “جی ریاست تو پہاڑ ہے، پہاڑ سے کون سر ٹکراتا ہے؟” اور جب ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو انیس سو سینتالیس سے پہلے برطانیہ بھی پہاڑ تھا، سابقہ یو ایس ایس آر، فرانس، اٹلی، سلطنت عثمانیہ اور جرمنی بھی پہاڑ تھے۔
سچائی یہ ہے کہ جدوجہد اہم مراحل میں داخل ہونے پر قابض خود خوفزدہ ہو جاتا ہے، اسے اپنی شکست فاش نظر آنے لگتی ہے تبھی وہ بے رحم ہو جاتا ہے، درست اور غلط کا فرق بھول جاتا ہے، اپنے مظالم میں تیزی لاتا ہے اور مختلف سامراجی حربے آزماتا ہے۔ اس نفسیاتی کشمکش میں کبھی اسے ایس ایچ او کی مار، کبھی داڑھی پر ہاتھ پھیرنا اور آنسو بہانا، کبھی پولیس اور لیویز کا اکڑا، اور پھر تین ہزار پانچ سو کا ایک اور وفاقی فورس تعینات کرنے کا اعلان کرنا پڑتا ہے، حالانکہ ایف سی اور پولیس کے علاوہ پہلے سے ڈیڑھ لاکھ کے لگبھگ ریگولر افواج کے ملازمین پہلے سے ہی بلوچستان میں تعینات ہیں۔ اس سے صاف عیان ہے کہ یہ سب کالونیل حربے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قابض یہ بخوبی سمجھتا ہے کہ وہ غیر کی سرزمین پر موجود ہے، لہٰذا ایک نہ ایک دن اسے یہاں سے بے دخل ہونا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































