دالبندین: آٹھ سال سے جبری لاپتہ غلام حضرت کی بازیابی کیلئے لواحقین کی پریس کانفرنس، عید پر احتجاجی ریلی کا اعلان

26

دالبندین کے رہائشی جبری طور پر لاپتہ شہری غلام حضرت کے لواحقین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کی بازیابی کیلئے حکومت، انسانی حقوق کے اداروں اور سول سوسائٹی سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اہلِ خانہ کا کہنا تھا کہ غلام حضرت کو یکم اکتوبر 2018 کو شام پانچ بجے دالبندین کے علاقے ڈنو کے میدان سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران انہوں نے ہر ممکن قانونی اور جمہوری راستہ اختیار کیا، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کسی بھی متعلقہ ادارے نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

لواحقین کے مطابق، انہیں اس سلسلے میں دالبندین کینٹ اور کوئٹہ بھی طلب کیا گیا، جبکہ ڈپٹی کمشنر خاران کے ساتھ دو مرتبہ باقاعدہ نشستیں بھی ہوئیں۔ قبائلی عمائدین اور علاقائی معتبرین کی جانب سے متعدد یقین دہانیاں بھی کروائی گئیں، تاہم اب تک کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر غلام حضرت پر کوئی الزام ہے تو اسے آئین و قانون کے مطابق منظر عام پر لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے تیار ہیں۔

اہلِ خانہ نے انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان، ملکی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، متعلقہ فورمز اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ اس جبری گمشدگی کا نوٹس لیں اور غلام حضرت کی فوری بازیابی کیلئے کردار ادا کریں۔

پریس کانفرنس میں یہ بھی اعلان کیا گیا کہ غلام حضرت کی بازیابی کیلئے عید کے پہلے دن دالبندین میں ایک پُرامن احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔

لواحقین نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ انہیں آئین کے مطابق پُرامن احتجاج کا حق دیا جائے۔

آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس احتجاج میں شرکت کرکے انسان دوستی کا ثبوت دیں اور ایک لاپتہ شہری کی بازیابی کیلئے آواز بلند کریں۔