بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی سے ایک نوجوان طالب علم عابد بلوچ ولد خالد بلوچ، جو آواران کے علاقے جھاؤ کا رہائشی ہے، جبری طور پر لاپتہ کردیئے گئے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم پانک نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
پانک کے مطابق، 27 مارچ کو صبح کے وقت عابد کو پاکستانی فوجی انٹیلی جنس نے طلب کیا تاکہ وہ اپنی موجودگی ظاہر کریں۔ عابد نے حکام کے سامنے پیش ہو کر تعاون کیا، لیکن اس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئے اور تب سے ان کی کوئی معلومات نہیں ہیں۔
پانک کا کہنا ہے کہ عابد نہ صرف ایک طالب علم ہیں بلکہ گردوں کے علاج کے لیے مستقل دیکھ بھال کے محتاج بھی ہیں، جس کی بنا پر ان کی گمشدگی صحت اور زندگی کے حق کی خلاف ورزی بھی ہے۔
خیال رہے کہ یہ عابد بلوچ کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ 16 دسمبر 2022 کو بھی وہ کراچی سے اپنے گردوں کے علاج کے دوران جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ یہ دوسرا واقعہ ان کی زندگی میں پیش آیا ہے۔

















































