بلوچستان کے ضلع کیچ اور خاران میں جبری گمشدگیوں کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دو مختلف واقعات میں تین افراد کو پاکستانی فورسز کے اہلکاروں کی جانب سے جبری لاپتہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تربت سے بالاچ پیرل ولد پیرل اور بالاچ نصیر ولد نصیر، جو کہ ناصرآباد کے رہائشی بتائے جاتے ہیں، کو جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کو رات کے وقت ایک کارروائی کے دوران ان کے علاقے سے لے جایا گیا، جس کے بعد سے ان کے اہل خانہ کو ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔
اسی دوران گزشتہ شب ایک بار پھر اسی علاقے میں فورسز کی جانب سے چھاپہ مار کارروائی کی گئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق فورسز نے ایک معذور معمر شخص کو بھی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی، تاہم علاقے کے لوگوں نے مزاحمت کی جس کے باعث اہلکاروں کو واپس جانا پڑا۔
دوسری جانب ضلع خاران میں بھی ایک اغواء کا واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ہفتہ کے روز نامعلوم مسلح افراد نے عبدالغنی ولد عبدالحفیظ کبدانی کو خاران شہر میں تھانے کے قریب سے ایک سرف گاڑی میں اغواء کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق مسلح افراد اچانک موقع پر پہنچے اور عبدالغنی کو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم سمت میں روانہ ہو گئے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور اغواء کے واقعات کا معاملہ ایک طویل عرصے سے جاری ہیں۔



















































