بی ایل اے اور دیگر تنظیموں کے حملے بالکل ناقابلِ برداشت ہیں۔ آصف زرداری

64

پاکستانی صدر آصف زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی خودمختاری کا تحفظ، آئین کی حکمرانی اور معاشی ترقی کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ ہمیں اپنے شہریوں کی خوشحالی اور امن کے لیے ترقی اور استحکام کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔ آج ہم اُن بنیادوں پر کھڑے ہیں جو ہماری قومی جدوجہد کے معماروں نے رکھی تھیں۔ قائدِاعظم نے ایسی جمہوری ریاست کا تصور پیش کیا جو آئین اور قانون کی حکمرانی پر قائم ہو۔ ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو متفقہ آئین دیا، جبکہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے قربانی اور مثالی قیادت سے جمہوری عمل کو مضبوط کیا۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی پر میرا ایمان صرف الفاظ تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ظاہر ہے۔ گزشتہ دور میں یکطرفہ طور پر صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو واپس کیے گئے۔ تاریخی 18ویں ترمیم کے ذریعے صدرِ مملکت کا منصب وفاق کی وحدت کی علامت بنا۔ یہ منصب وفاقی اکائیوں کے درمیان پل اور آئینی نظام کا نگہبان ہے۔ گزشتہ دس ماہ میں ہماری قوم نے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کیا۔ جب بھی قومی خودمختاری کو کسی بھی محاذ پر چیلنج کیا گیا، پاکستان نے تحمل اور مضبوط عزم کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں سرحدوں پر بلااشتعال حملوں کے جواب میں ہماری افواج نے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت اور نظم و ضبط کا ثبوت دیا۔ ہماری بہادر افواج نے معرکۂ حق میں بھارتی حملے کو تاریخی تزویراتی فتح میں بدل دیا۔ 26 فروری کی رات طالبان رجیم نے مغربی سرحد پر حملے کیے، تاہم ہماری سکیورٹی فورسز نے فیصلہ کن اقدام کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ کسی دراندازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سیاسی قیادت متحد رہی اور قوم ثابت قدم رہی۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنی افواج کی تربیت، مشقت اور خدمت میں شامل خون، پسینہ اور آنسو کو اکثر نہیں دیکھ پاتے۔ ہر شہید ایسے خاندان کی نمائندگی کرتا ہے جس نے ملکی استحکام کے لیے عظیم قربانی دی۔

انہوں نے کہا کہ مارئے گئے اہلکاروں کے اہلِ خانہ کے لیے وہی درد محسوس کرتا ہوں جو محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر محسوس کیا تھا۔ بطور ریاست ہمیں ان خاندانوں کی عزت اور وقار کے ساتھ مسلسل کفالت کرنی چاہیے۔ 2025 پاکستان کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ 2025 کی پہچان معرکۂ حق میں شاندار کامیابی ہے جس نے بیرونی جارحیت کو ناکام بنایا۔ اللہ کے فضل سے یہ صرف عسکری فتح نہیں بلکہ قومی عزم کا اظہار تھا۔ بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے ہم عسکری اور سفارتی دونوں محاذوں پر کامیاب رہے، اور عالمی برادری نے ہماری اصولی اور فیصلہ کن کارروائی کو تسلیم کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے اور اپنی ذمہ داری کو بخوبی سمجھتا ہے۔ بوقتِ ضرورت اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ ہمارا طرزِ عمل پختگی، اعتماد اور مقصد کی وضاحت کا عکاس ہے۔ 2025 میں بھی ہم نے اہداف کے حصول کے بعد تحمل کا مظاہرہ کیا، اور ہمارا یہ پیغام خطے اور اس سے باہر واضح طور پر سمجھا گیا۔ گزشتہ ہفتے بھارت نے افغانستان کے راستے پراکسی کارروائیوں میں اضافہ کیا۔ طالبان رجیم نے دیکھ لیا کہ ریڈ لائن پار کرنے پر پاکستان کا ردِعمل کیا ہوتا ہے۔ پاکستان نے افغانستان سے دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کے لیے سفارت کاری کی ہر ممکن کوشش کی۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے جنگ ہمیشہ آخری آپشن ہے۔ کسی بھی ریاست کے لیے اپنی سرزمین پر حملے قبول کرنا ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ہمیں اپنی خودمختاری کے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ہم نے بھارت اور افغانستان دونوں کو اپنی صلاحیتوں کا ایک حصہ دکھایا ہے۔ گزشتہ تین سال میں سکیورٹی اداروں نے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کی ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کی اس مہم میں پاک فوج تنہا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان سے وابستہ تنظیموں کے حملے بالکل ناقابلِ برداشت ہیں۔ پاکستان کی سرزمین مقدس ہے اور کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ہمسایہ ملک کی سرزمین استعمال کرے۔