بلوچ طلبہ اور بلوچ سیاست – چیئرمین شبیر بلوچ | مترجم: وشڑی بگٹی

57

بلوچ طلبہ اور بلوچ سیاست – چیئرمین شبیر بلوچ

مترجم: وشڑی بگٹی

دی بلوچستان پوسٹ

میں اسٹوڈنٹ ایریا کی بات کروں تو خاص طور پر تعلیمی اداروں کے اندر ایک یہ کہ پروفائلنگ، ہراسانی، اور طلبہ کے تھوڑا سیاسی عمل کے اندر آنے کے بعد ان کے گھر والوں کو کال کرنا، اور سیاسی عمل کے خلاف مضبوط بیانیہ بنانا شامل ہے۔ اور تعلیمی اداروں کے اندر سرکار کی اپنی مرضی اور منشا کے ٹیچر ہائر کیے گئے ہیں، جو اسٹوڈنٹس کو ایموشنلی اور ماضی کی رٹی ہوئی باتیں ان کے ذہن میں اس طرح ڈالتے ہیں کہ تم اس سیاسی عمل کا حصہ نہ بنو، اس سیاسی عمل سے آپ کو کچھ بھی فائدہ نہیں ہے، یہاں فائدہ یہ ہے کہ خود کو اس کے اسکوپ کو دو۔

ایریا میں تعلیم یہ دی گئی ہے کہ تعلیمی اداروں کے اندر ویل آرگنائزڈ اسٹوڈنٹ کے ذہن میں یہ بیانیہ ڈالا جائے کہ یہ سیاسی عمل تمہاری زندگی کو کچھ بھی نہیں دے گا، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ بھی سیاسی عمل کا حصہ ہے۔ بلوچستان کے مختلف شعبے متاثر ہیں، خوامخواہ اسٹوڈنٹس کے سامنے چیلنجز زیادہ بنتے ہیں۔

دوسرا بڑا چیلنج یہ ہے کہ تعلیمی اداروں کے اندر اپنا نصاب کریئیٹ نہیں کیا گیا۔ مطلب کہ آج ہم اے آئی ٹیکنالوجی کے زمانے میں ہیں، کہ میں اور آپ دنیا کے دوسرے کونے میں بیٹھ کر آج باتیں کر رہے ہیں، لیکن جب تم اس نصاب کو پڑھو اور اس کے اندر چھان بین کرو تو وہ نصاب ذہنی حوالے سے بلوچ نوجوان کو مفلوج اور ذہنی حوالے سے بانجھ بناتا جا رہا ہے۔ ان کو صرف اردو کے الفاظ دیے جاتے ہیں۔ تحقیق اور تخلیق کا ماحول اداروں کے اندر اس حد تک تباہ ہے کہ اسٹوڈنٹ اپنے اندر نئی تخلیق اور نئی تحقیق نہیں لاتا۔ اسٹوڈنٹ کی عمر کے حوالے سے جو صلاحیتیں ہیں وہ دن بدن پیچھے جاتی جا رہی ہیں۔

دوسرا بڑا مسئلہ اور چیلنج یہ میں نے دیکھا ہے کہ زیادہ تر یونیورسل دنیا کی ڈیفینیشنز آئی ہیں۔ لازم نہیں ہے کہ بلوچ ان میں شمولیت کرے کہ فلاں فلاں تنظیم یا پارٹی کے انڈر ہوا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ زمینی حقائق سے میچ کرے، کہ میرے زمینی حقائق یہ کہتے ہیں کہ کہیں بھی اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن، دوسری پارٹی یا دیگر گروہ ہوں تو زیادہ تر چاپلوسی، زیادہ تر عہدہ پرستی، کمپٹیشن، اور اپنے کاموں سے باہر نکلنا ہوتا ہے، اور وہ بے منزل مسافر بن جاتے ہیں۔ میں ان نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر اسٹوڈنٹ اپنی آزادانہ فیصلہ کرے تو وہ زیادہ تخلیقی ماحول بنا سکتا ہے اور ایک تحقیقی ماحول بنا سکتا ہے۔

ایک اور چیلنج یہ ہے کہ خود تعلیمی جانچ کے ساتھ این جی اوز کلچر کو آگے لانا، چھوٹے بڑے سوسائٹیز کے سامنے لانا۔ یہ سوسائٹیز بلوچ یوتھ کو سیاسی عمل سے دور رکھنے کے زیادہ تر منصوبے ہیں، اور اسی طرح ایجوکیشنل کلچر سامنے لائے جا رہے ہیں۔ ان کلچرز کا خالص مقصد یہ ہے کہ بلوچ کے سیاسی عمل کے سامنے رکاوٹ بنائی جائے۔ وہ رکاوٹ یہ ہے کہ بلوچ نوجوان خود اپنے تجربات اور مشاہدات کے بعد خود کو روایات میں قید کرے، اور اپنی ذمہ داریوں کو نہ سمجھے۔

میں سمجھتا ہوں کہ ملٹیپل لہروں کے اندر بلوچ یوتھ پر اربوں روپے کی انویسٹمنٹ کی جاتی ہے۔ یہ انویسٹمنٹ اس لیے کی جاتی ہے کہ سیاسی شعور کے سامنے الگ رکاوٹ پیدا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ ادارہ ہمیں یہ دے رہا ہو کہ کوئی کہتا ہے تین بلڈنگ بنی ہیں، لیکن بلڈنگ کا بننا کوئی کمال نہیں ہے۔ بڑی بات یہ ہے کہ ان بلڈنگز کے اندر کیا پڑھایا جا رہا ہے۔ اس میں بلوچ کے پروگرام اور نظریے کے حوالے سے یا تو سازگار ماحول دیا جاتا ہے یا بلوچ مخالف بیانیہ دیا جاتا ہے؟

پھر یہ کہ جتنے بھی بلوچستان کے اندر انفراسٹرکچر بنے ہیں، جنہیں تعلیمی ادارے کہا جاتا ہے، یہ سارے فیکٹریاں ہیں ذہنی غلام بنانے کی۔ یہاں یہ مراد نہیں کہ تم تعلیم حاصل نہ کرو۔ آج بلوچ کو علمی دنیا میں شامل ہونا ہے۔ بلوچ کو اپنی متبادل ایجوکیشن کا ایک پروسیس کریئیٹ کرنا ہوگا، اور ریڈکشن کی جو ضرورتیں ہیں ان کو پورا کرنا ہوگا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔