بلوچستان: مزید پانچ افراد جبری لاپتہ، اورماڑہ سے لاپتہ ہونے والے امجد کی گرفتاری کراچی سے ظاہر

1

بلوچستان کے مختلف علاقوں سے جبری گمشدگیوں کے مزید واقعات سامنے آئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ، کلی قمبرانی سے تعلق رکھنے والے سیف اللہ ولد عطاء اللہ کو 12 مارچ 2026 کی رات تقریباً دو بجے منوجان روڈ، خلیفہ چوک کوئٹہ سے پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ سیف اللہ پیشے کے لحاظ سے مکینک بتائے جاتے ہیں اور ان کی عمر تقریباً 21 سال ہے۔

دریں اثناء گوادر کے ساحلی علاقے جیونی سے تعلق رکھنے والے مجید ولد غلام محمد کو 13 مارچ 2026 کی صبح چار بجے کے قریب ان کے آبائی علاقے پانواں سے ایف سی اور ایم آئی کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ مجید کی عمر تقریباً 20 سال ہے اور وہ طالب علم ہیں۔

اسی طرح خضدار کے علاقے زہری شہر سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں کی جبری گمشدگی کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شمس بلوچ ولد حاجی قادر بخش کو 2 مارچ 2026 کی شام آٹھ بجے ان کے گھر، زہری شہر خضدار سے پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔

ان کے بھائی قمر زہری ولد حاجی قادر بخش کو اس سے قبل 19 فروری 2026 کو رات تقریباً ڈیڑھ بجے کوئٹہ کے علاقے بی ایم سی لیبر کالونی سے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا تھا۔

ادھر کراچی کے علاقے ماری پور سے تعلق رکھنے والے ایک ماہی گیر امجد ولد گوہرام کو 15 جنوری 2026 کی صبح کے اورماڑہ کے مقام سے ملٹری انٹیلیجنس کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ امجد کی عمر تقریباً 30 سال بتائی جاتی ہے اور وہ پیشے کے لحاظ سے ماہی گیر ہیں۔جبکہ آج انکی جعلی گرفتاری کراچی سے ظاہر کرکے ان کا تعلق ایک مسلح تنظیم سے جوڑا گیا ہے۔

اہلخانہ کے مطابق مذکورہ افراد کو حراست میں لیے جانے کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

اہلخانہ نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں کا نوٹس لے کر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کردار ادا کریں۔