بلوچستان: عالمی جنگوں کے شور میں دبتی انسانی حقوق کی ایک چیخ – فتح بلوچ

2

بلوچستان: عالمی جنگوں کے شور میں دبتی انسانی حقوق کی ایک چیخ

تحریر: فتح بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

آج کی دنیا میں بدامنی، جنگیں اور مسلح تنازعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ سے لے کر یورپ، افریقہ اور ایشیا تک کئی خطے ایسے ہیں جہاں ریاستیں ایک دوسرے کے خلاف عسکری کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ بعض طاقتور ممالک کمزور ریاستوں یا اقوام پر اپنی طاقت مسلط کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں عالمی امن اور انصاف کے قیام کے لیے قائم ادارے، خصوصاً اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں، اکثر مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام یا محدود دکھائی دیتی ہیں۔

دنیا کے مختلف خطوں میں کئی مظلوم یا محکوم اقوام اپنے بنیادی حقوق اور حقِ خودارادیت ، آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ عموماً جب کسی خطے میں مسلح تنازع جاری ہوتا ہے تو فریقین اپنی عسکری کارروائیوں کا اعلان کرتے ہیں اور نقصانات یا ہلاکتوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں جس سے عالمی برادری کو صورتحال کا کسی حد تک اندازہ ہو جاتا ہے۔

تاہم بلوچستان، پاکستان تنازعہ کے حوالے سے صورتحال کئی حوالوں سے مختلف اور پیچیدہ نظر آتی ہے۔ بلوچ حلقوں کے مطابق بلوچستان میں جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت ہلاکتیں اور شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال جیسے سنگین واقعات طویل عرصے سے سامنے آتے رہے ہیں۔

متاثرہ خاندانوں اور انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ نہتے افراد کی ہلاکتوں کو اکثر مسلح جدوجہد کے خلاف کارروائیوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ ان واقعات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات نہیں کی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے بلوچ حلقوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ان کے خلاف ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو عالمی سطح پر وہ توجہ نہیں مل رہی جس کے وہ مستحق ہیں۔

حالیہ عرصے میں بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے ہونے والی بڑے پیمانے کی حملوں کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔

بلوچ ذرائع اور مقامی انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق اس واقعے کے بعد پاکستانی فورسز نے وسیع پیمانے پر کارروائیاں شروع کیں، جن میں شہری آبادیوں پر فضائی حملے، گھروں کی مسماری اور اجتماعی سزا جیسے اقدامات شامل ہیں۔

بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق اجتماعی سزا اور شہری آبادی کو نشانہ بنانا ممنوع سمجھا جاتا ہے، تاہم متاثرہ علاقوں سے ایسے واقعات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔

مزید برآں مقامی ذرائع اور انسانی حقوق کے کارکنان یہ بھی رپورٹ کر رہے ہیں کہ حالیہ مہینوں میں روزانہ کی بنیاد پر ماورائے عدالت ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں کے متعدد کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ بہت سے افراد کو حراست میں لینے کے بعد ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جاتیں، جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں اور جبری گمشدگیوں کے خلاف عالمی قوانین کی خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے۔

دوسری جانب بلوچ آزادی پسند تنظیمیں اپنی کارروائیوں اور نقصانات کے بارے میں بیانات جاری کرتی ہیں، تاہم پاکستان کا بیانیہ مکمل جھوٹ اور غیر واضح ہے جس سے بلوچستان میں پاکستانی بیانیہ مکمل مسترد ہوچکا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس تنازع کے مختلف پہلو موجود ہیں۔ تاہم کسی بھی تنازع میں بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے اصول اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ عام شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے اور ہر قسم کی زیادتی یا خلاف ورزی کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔

بلوچستان کا مسئلہ محض ایک سیاسی یا عسکری تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق، انصاف اور قومی آزادی سے جڑا ایک پیچیدہ سوال ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے اس صورتحال کا سنجیدہ اور غیرجانبدارانہ جائزہ لیں، تاکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی وقار کے بنیادی اصولوں کے مطابق ایک منصفانہ اور پائیدار حل کی راہ ہموار ہو سکے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔