ایرانی سپریم لیڈر کی موت، کیسے اور کب ہوئی

44

ایرانی سرکاری میڈیا نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مارے جانے کی تصدیق کردی ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای ہفتہ کو ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں میں مارے گئے ہیں۔

ایران سرکاری میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر کی موت پر  ایران  میں 7 روزہ تعطیل اور 40 روزہ سوگ کا اعلان کردیا گیا۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر کی بیٹی، داماد اور نواسی بھی مارے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی و اسرائیلی حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر اعلیٰ علی شامخانی، وزیر دفاع اور پاسداران انقلاب گارڈز کے سربراہ بھی کی موت ہوئی ہے۔

آیت اللہ خانہ ای 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر تھے، وہ  آیت اللہ خمینی کےانتقال کے بعد ان کے جانشین بنے رہے کہ گزشتہ روز امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بحری اور فضائی حملے کیے جن میں 201 ایرانی شہریوں کی موت اور 747 زخمی ہوئے تھے۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سی آئی اے نے ایرانی قیادت کے اجتماع کا سراغ لگایا، پھر اسرائیل نے اس پر حملہ کیا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران پر حملے سے کچھ دیر قبل امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے ممکنہ طور پر سب سے اہم ہدف آیت اللہ علی خامنہ ای کی درست نشاندہی کر لی تھی۔

آپریشن سے واقف ذرائع کے مطابق سی آئی اے کئی ماہ سے خامنہ ای کی نقل و حرکت اور قیام گاہوں پر نظر رکھے ہوئے تھی اور وقت کے ساتھ اس کی معلومات زیادہ مستند ہوتی گئیں۔

پھر امریکی ایجنسی کو اطلاع ملی کہ ہفتہ کی صبح تہران کے وسط میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں اعلیٰ ایرانی حکام کا اہم اجلاس ہونے والا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ سپریم لیڈر بھی اس میں شریک ہوں گے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس نئی خفیہ اطلاع کے بعد امریکا اور اسرائیل نے اپنے مجوزہ حملے کے وقت میں ردوبدل کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

اس اطلاع نے دونوں ممالک کو ایک اہم اور ابتدائی کامیابی حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا اور یہ انٹیلی جنس اطلاع اعلیٰ ایرانی حکام اور آیت اللہ خامنہ ای کی موت کی وجہ بنی۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق اسرائیل نے امریکی اور اپنی انٹیلی جنس کی بنیاد پر اس آپریشن کو عملی جامہ پہنایا، جس کی منصوبہ بندی کئی ماہ سے جاری تھی۔ ابتدائی منصوبے کے مطابق رات کی تاریکی میں حملہ کرنا تھا، لیکن تہران میں حکومتی کمپاؤنڈ میں ہونے والے اجلاس کی اطلاع ملنے کے بعد ہفتہ کی صبح حملہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔