اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خلیجی ممالک پر ایرانی حملے روکنے کی قرارداد منظور

19

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے خلیجی ملکوں اور اردن کے خلاف ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمتی قرارداد منظور کرلی۔

کونسل کے 13 ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ روس اور چین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

 خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی جانب سے بحرین نے قرارداد 2817 پیش کی جس میں خلیجی ملکوں پر ایرانی حملوں کی مذمت اور انہیں روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

قرارد داد میں خلیجی ملکوں اور اردن کے خلاف ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی امن وسلامتی کےلیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ تہران، پراکسی فورسز کی پشت پناہی سمیت  پڑوسی ریاستوں کے خلاف اپنے حملوں اور اشتعال انگیزیوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر روکے۔

 خلیجی ریاستوں، اردن کی خود مختاری اورعلاقائی سالمیت کی بھرپور سپورٹ کا اظہار کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ان کے حق دفاع کی توثیق کی گئی۔

قرارداد میں ایران کی جانب سے شہریوں اور اہم سول انفرا سٹرکچر کو دانستہ نشانہ بنانے کی مذمت کی گئی، ان ملکوں اور ان کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے، میری ٹائم نیویگیشن میں خلل ڈالنے یا براہ راست مداخلت کرنے، آبنائے باب المندب میں میری ٹائم سکیورٹی کو خطرے میں ڈالنے والے کسی بھی اقدام یا دھمکی کی مذمت کی گئی۔

علاوہ ازیں سعودی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سعودی عرب، بحرین، امارات، قطر، عمان، کویت اور اردن کی پیش کردہ قرارداد نمبر2817 کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے۔

قرارداد میں خلیجی ملکوں اور اردن پر ایران کے حملوں کی سخت مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ یہ اقدمات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔