بلوچستان اسمبلی کے سابق اسپیکر وحید بلوچ نے کہا ہے کہ افغانستان پر پاکستانی حملے امریکہ اور صہیونی قوتوں کی ملی بھگت سے ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے حکمران افغانستان میں جاری جنگ کی قیمت وصول کر رہے ہیں، ورنہ ایک معاشی طور پر کمزور ملک کے لیے مسلسل جنگی اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں، خاص طور پر روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی بمباری جیسے اقدامات۔
وحید بلوچ نے کہا کہ 1978 سے افغان عوام کی تباہی کے پیچھے پاکستان کی ڈالر حاصل کرنے والی پالیسیوں اور حکمرانوں کا کردار رہا ہے۔
ان کے مطابق ہمسایہ ملک میں جنگ اور خونریزی کے اس عمل نے نہ صرف ڈالر کمائے بلکہ خطے میں انسانی تباہی کو بھی جنم دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بسنے والے پشتون عوام کو افغانستان کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور ان حالات کے ذمہ دار عناصر کا جواب دینا چاہیے۔
ان کے بقول اگر ایسا نہ ہوا تو خطے میں تباہی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب کشیدگی اور آگ بھڑکتی رہے گی، جس سے بعض قوتیں فائدہ اٹھاتی رہیں گی۔

















































