افریقہ کپ آف نیشنز میں بڑا تنازع: سینیگال سے ٹائٹل واپس، مراکش چیمپئن قرار

19

افریقی فٹبال میں ایک بڑے تنازع نے جنم لے لیا ہے جہاں کنفیڈریشن آف افریقن فٹبال کی جانب سے سینیگال سے افریقہ کپ آف نیشنز کا ٹائٹل واپس لینے کے فیصلے پر کھلاڑیوں نے سخت ردعمل دیا ہے۔

منگل کو کیے گئے فیصلے کے مطابق مراکش کو افریقہ کپ آف نیشنز کا چیمپئن قرار دیا گیا، جبکہ سینیگال کو 18 جنوری کو رباط میں کھیلے گئے فائنل میں واک آؤٹ کرنے کی بنیاد پر میچ ہارنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

یاد رہے کہ سینیگال نے متنازع پنالٹی فیصلے کے خلاف احتجاجاً میدان چھوڑ دیا تھا تاہم 14 منٹ بعد واپس آ کر اضافی وقت میں پاپے گیئے کے گول کی بدولت میچ 1-0 سے جیت لیا تھا۔ بعد ازاں سی اے ایف کے اپیل بورڈ نے اس نتیجے کو تبدیل کرتے ہوئے مراکش کے حق میں 3-0 کی فتح دے دی۔

فیصلے کے بعد سینیگال کے کھلاڑیوں نے سوشل میڈیا پر طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں ردعمل دیا۔ مڈفیلڈر پاتھے سس نے ٹرافی تھامے اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ “آپ چاہیں تو رونے والوں کو مزید تین گول بھی دے سکتے ہیں”، جبکہ مامادو لامین کامارا نے سوال اٹھایا کہ “ہمارے میڈلز لینے کون آئے گا؟” اور مراکش کی فتح پریڈ کے شیڈول کے بارے میں بھی طنزیہ انداز اپنایا۔

اسی طرح سینٹر بیک موسٰی نیاکھاتے نے فائنل کے بعد کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا “یہ اے آئی نہیں، حقیقت ہے”، جبکہ ڈیفینڈر الحاج مالک دیوف کا کہنا تھا کہ “یہ ٹرافی میدان میں جیتی جاتی ہے، ای میل کے ذریعے نہیں۔” فارورڈ بولائے دیا نے بھی تبصرہ کیا کہ “جذبات تخلیق نہیں کیے جا سکتے، انہیں محسوس کرنا پڑتا ہے۔”

دوسری جانب مڈفیلڈر ادریسا گائے نے نسبتاً سنجیدہ مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ “ٹائٹلز اور ٹرافیاں عارضی ہوتی ہیں، اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ہر مداح اپنے گھر محفوظ پہنچے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس رات رباط میں کیا ہوا، اور کوئی بھی ہم سے وہ لمحہ نہیں چھین سکتا۔”

سینیگال فٹبال فیڈریشن نے سی اے ایف کے فیصلے کو “غیر منصفانہ، غیر معمولی اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے، جبکہ سینیگال کی حکومت نے بدھ کے روز اس معاملے کی آزاد بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ادھر رائل مراکشن فٹبال فیڈریشن نے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپیل کا مقصد صرف مقابلے کے قوانین کا درست اطلاق یقینی بنانا تھا۔ تاہم سی اے ایف کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔