31 جنوری کے ہمہ وقت حملوں اور آپریشن ھیروف (مرحلہ دوم) کا جائزہ ۔ ٹی بی پی رپورٹ

225

31 جنوری کے ہمہ وقت حملوں اور آپریشن ھیروف (مرحلہ دوم) کا جائزہ ۔ ٹی بی پی رپورٹ

31 جنوری 2026 کو بلوچستان میں پیش آنے والے واقعات بلوچستان کی دو دہائیوں پر محیط پانچویں مسلح مزاحمتی تحریک کے حوالے سے ایک اسٹریٹیجک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوسکتے ہیں۔

اس تاریخ کو ہونے والے ہمہ وقت، وسیع اور مربوط حملوں نے نہ صرف ریاستی کنٹرول کو مفلوج کیا بلکہ اس بات کا اشارہ بھی دیا کہ مزاحمت کی شدت اور دائرہ کار آئندہ دنوں میں مزید وسعت اختیار کرسکتا ہے۔

حملوں کا جغرافیائی اسکیل اور بی ایل اے کی عسکری صلاحیت

بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) جو بلوچ مزاحمت میں سب سے بڑی متحرک اور منظم گروپ ہے، نے ایک ہی وقت میں بلوچستان کے 12 سے زائد شہروں میں کاروائیاں کی۔

بی ایل اے جنگجوؤں کے حملوں کا نشانہ بننے والے یہ اضلاع مجموعی طور پر تقریباً 102,500 مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے ہیں، جو پورے بلوچستان کے تقریباً 30 فیصد رقبے کے برابر ہے۔

نشانہ بننے والے علاقوں میں اہم اور بڑے شہر جیسے کہ بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ، نوشکی، کیچ، سی پیک پروجیکٹ کا مرکز گوادر، کچھی، قلات، سیندک و دیگر بڑے معدنیاتی پروجیکٹس کا مرکز دالبندین سمیت دیگر مختلف اسٹریٹجک و شہری مقامات شامل تھے۔

31 جنوری کی علی الصبح ہزاروں مسلح جنگجوؤں، جنہیں مقامی طور پر “سرمچار” کہا جاتا ہے، نے بیک وقت شہری اور دیہی علاقوں میں داخل ہوکر فوجی چھاؤنیوں، پولیس اسٹیشنوں اور سرکاری تنصیبات پر قبضہ کیا، اسلحہ ضبط کی اور متعدد دفاتر و تھانوں کو آگ لگا دی۔

کئی گھنٹوں تک بلوچستان کے وسیع حصے میں ریاستی کنٹرول عملاً معطل رہا جبکہ قابلِ دفاع واحد مقام کوئٹہ کینٹ تھا جسے فوری طور پر سیل کردیا گیا۔

کوئٹہ میں اسٹرٹیجک ٹارگٹ کی جانب پیش قدمی

صوبائی دارالحکومت اور سب سے بڑے شہری مرکز کوئٹہ میں بی ایل اے نے ایک (VBIED) خودکش حملہ کیا جس کا ٹارگٹ وہ حساس علاقہ تھا جہاں وزراء، پارلیمنٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ واقع ہیں۔

بی ایل اے کے اس حملے میں تیس سے زائد پولیس اہلکار، بشمول ایس ایچ او اور ڈپٹی کمشنر پولیس، ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ متعدد تھانوں اور سرکاری دستاویزات کو نذر آتش کرنے اور قیدیوں کو رہا کرنے کے مناظر بھی ویڈیو میں ریکارڈ کیے گئے۔

یہ اقدام مجموعی عسکری حکمتِ عملی کا واضح اشارہ ہے کہ گروپ اب صرف دور دراز علاقوں تک محدود نہیں بلکہ ریاستی اختیارات کے مراکز تک رسائی کا عملی مظاہرہ کررہا ہے۔

اسی طرح کوئٹہ سے 150 کلومیٹر دور شہر نوشکی میں بی ایل اے کے جنگجو آج تیسرے روز بھی شہر کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں اور گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق شہر کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد مسلح جنگجوؤں نے پاکستانی فورسز کے متعدد چھاؤنیوں اور پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ایک مرکز کو شدید حملوں کا نشانہ بنایا ہے اور سب سے زیادہ ہلاکتوں کی اطلاعات بھی نوشکی سے موصول ہورہی ہیں۔

نوشکی شہر میں انتظامی امور پر بھی بلوچ سرمچاروں کا کنٹرول ہے جبکہ مسلح گروہ کے ارکان نے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو حراست میں لیا تاہم انہیں بعدازاں رہا کردیا گیا۔

تیسرا اور سب سے اہم شہر جو بلوچ آزادی پسندوں کا نشانہ رہا وہ گوادر ہے، جہاں پاکستان چین کی مدد سے 60 بلین ڈالر کی مالیت سے سی پیک پورٹ تعمیر کررہا ہے۔ گوادر سے اطلاعات کے مطابق بلوچ جنگجوؤں نے گوادر پورٹ، اہم فوجی تنصیبات اور چائنیز پروجیکٹس کو حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

چوتھا اہم اسٹریٹجک حملہ بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے چاغی ضلع میں کیا گیا جہاں سیندک اور ریکوڈک جیسے اہم معدنیاتی پروجیکٹس جاری ہیں جن میں کینیڈا کے بیرک گولڈ و دیگر مقامی و غیر مقامی کمپنیوں کے پروجیکٹس موجود ہیں۔

تمپ میں فورسز کیمپوں پر دو خودکش حملے کئے گئے جبکہ تربت میں نیوی کیمپ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ایک اور شدید نوعیت کا حملہ ساحلی علاقے پسنی میں کیا گیا جہاں پاکستانی فوج کے ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔

اورناچ میں پاکستانی فورسز کے نو اہلکار کو بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے حراست میں اور مختلف حملوں فورسز کو نشانہ بناکر نقصانات سے دوچار کیا۔

خضدار کے علاقے وڈھ میں ریموٹ کنٹرول حملے میں پاکستانی فورسز کے کیپٹن سمیت متعدد اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ سبی، صحبت پور اور نصیر آباد میں فورسز، ٹرانسمیشن لائنز کو نشانہ بنایا گیا۔

آپریشن ھیروف (مرحلہ دوم) — بی ایل اے کی حکمتِ عملی کا تسلسل

بی ایل اے نے حالیہ حملوں کو آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلے سے تعبیر کیا ہے، اس سے قبل اگست 2024 میں پہلے مرحلے کے دوران بلوچستان کے وسیع و عریض علاقوں میں پھیلے درجنوں شہروں میں حملے کیے گئے تھے جن میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔

بلوچ لبریشن آرمی کا مؤقف ہے کہ آپریشن ھیروف بلوچ علاقوں پر بلوچ کنٹرول کی بحالی کا عملی فریم ورک ہے۔

ہلاکتیں، جھڑپیں اور زمینی صورتحال

گزشتہ تین روز سے جاری جھڑپوں میں درجنوں ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں جن میں پاکستانی فوج، پولیس، مقامی پرو اسٹیٹ مسلح گروہوں اور شہریوں کی اموات شامل ہیں۔

بی ایل اے نے اپنے 27 جنگجوؤں کے مارے جانے کی بھی تصدیق کی ہے جن میں مجید برگیڈ کے ارکان شامل ہیں اور اب تک سات جنگجوؤں کی تفصیلات جاری کی ہیں، جبکہ مزید معلومات بتدریج شائع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بی ایل اے کے تازہ ترین بیان کے مطابق آپریشن ھیروف فیز ٹو تیسرے روز بھی جاری ہے، گروپ کے مطابق ان کے ارکان 58 گھنٹے بعد بھی متعدد مقامات پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں اور ابتدائی و محتاط اندازوں کے مطابق اب تک پاکستانی فوج، پولیس، سی ٹی ڈی اور فوج کے بنائے گئے ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں کی مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 220 سے تجاوز کرچکی ہے۔

بلوچ مسلح تحریک میں خواتین و بزرگ جنگجوؤں کی شمولیت ۔ ایک ابھرتا ہوا رجحان

اس حملوں میں ایک اہم نئی پیش رفت خواتین اور بزرگ جنگجوؤں کی براہِ راست زمینی شمولیت ہے، یہ رجحان بلوچستان کی مسلح تحریک کے سماجی و عسکری ڈھانچے میں اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ 2022 میں پہلی بلوچ خاتون شاری بلوچ کے خودکش حملے کے بعد بی ایل اے نے خواتین کو محدود پیمانے پر شامل کرنا شروع کیا تھا، مگر پہلی بار نوجوان خواتین، معمر خواتین اور ایک 70 سالہ مرد فدائی نے براہِ راست گوریلا کارروائیوں اور خودکش حملوں میں حصہ لیا ہے۔

بی ایل اے کے مطابق گوادر میں جن فدائین نے پاکستانی فورسز کے کیمپ میں داخل ہوکر لڑائی کی، ان میں حواء عرف دروشم نامی خاتون جنگجو بھی شامل تھیں، جھڑپوں کے دوران ان کی فوٹیج سامنے آرہی ہیں، مذکورہ جنگجو پیشے سے لکھاری تھیں اور ان کے والد بھی بی ایل اے کا حصہ تھے جو جھڑپوں میں مارے گئے تھے۔

بی ایل اے کے کوئٹہ، نوشکی اور دیگر مقامات پر حملوں میں بھی خواتین کو لڑتے ہوئے اور شہری علاقوں میں حملوں میں حصہ لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے، تنظیم کے مطابق ان کی تفصیلات جلد میڈیا کو فراہم کی جائیں گی۔

اسی طرح ایک اور 23 سالہ نوجوان خاتون جنگجو آصفہ مینگل اور 60 سالہ ہتم ناز عرف گل بی بی نے نوشکی میں دو خودکش حملوں کے ذریعے پاکستانی فورسز کے کیمپوں اور پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے مرکزی ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔

تنظیم کے مطابق دونوں خواتین انکے فدائین یونٹ مجید بریگیڈ کے حصہ تھیں۔

بی ایل اے کی جانب سے جاری کردہ سات سرمچاروں کی تفصیلات میں ایک اور اہم نکتہ 70 سالہ مرد خودکش حملہ آور کی شمولیت ہے جس کی شناخت فضل بلوچ عرف ناکو میران کے نام سے کی گئی ہے، اس سے قبل بزرگ جنگجو باقاعدہ طور پر خودکش حملوں میں ملوث نہیں رہے تھے۔

مزید برآں ایک شادی شدہ جوڑے کی تفصیلات جاری کیے گیے ہیں جو بی ایل اے مجید برگیڈ کا ارکان تھے اور پسنی حملے کا حصہ تھے۔

ہکل میڈیا پر شائع تفصیلات کے مطابق یاسمہ بلوچ عرف زرینہ اور وسیم بلوچ عرف زربار، میاں بیوی تھے، جن کا تعلق الندور، بلیدہ اور کلہدر، زامران سے تھا۔
یاسمہ بلوچ 14 فروری 1997 کو الندور، بلیدہ میں پیدا ہوئیں اور 2022 میں بلوچ لبریشن آرمی کی مجید بریگیڈ میں شامل ہوئیں۔

“وسیم بلوچ 27 اپریل 1992 کو کلہدر، زامران میں پیدا ہوئے، 2014 میں تحریک سے وابستہ ہوئے اور 2022 میں مجید بریگیڈ کا حصہ بنے۔”

بتایا گیا کہ انہوں نے ایک ساتھ زندگی گزاری، اس سے پہلے کہ ایک ساتھ آخری مورچہ سنبھالا۔ یاسمہ بلوچ اور وسیم بلوچ، میاں بیوی تھے، انہوں نے پسنی میں قابض فورسز کے کیمپ پر حملے کے دوران ایک ساتھ اپنی جانیں قربان کیں۔

یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ بی ایل اے اب اپنی انسانی و نظریاتی بنیاد میں وسیع تر سماجی پرتوں کو شامل کرتا نظر آرہا ہے۔

بی ایل اے کے مطابق ان حملوں میں اب تک ان کے فدائین یونٹ “مجید بریگیڈ” کے 14 ارکان نے اپنے حملوں میں کامیابی حاصل کی ہے جن میں 26 سالہ فدائی سبزل کی تفصیلات بھی تنظیم نے اپنے آفیشل چینل “ہکل” پر شائع کردی ہیں۔

نتیجہ، بلوچستان میں طاقت کے توازن کی طرف اشارے

31 جنوری کے ہم وقت حملے، وسیع جغرافیائی رقبے پر کارروائیاں، خواتین و بزرگ جنگجوؤں کی شمولیت، اور ریاستی ڈھانچے پر براہِ راست دباؤ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بلوچستان کی مسلح جدوجہد ایک نئے مرحلے میں داخل ہورہی ہے۔

تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ یہ مرحلہ زیادہ منظم، وسیع اور سماجی طور پر متنوع ہے جو مستقبل میں بلوچستان کے سیاسی و سکیورٹی منظرنامے کو گہرے طور پر متاثر کرے گا۔

اب تک کے حملوں کے نتائج پر درجنوں پاکستانی و غیر ملکی تجزیہ کاروں نے بلوچستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے مستقبل کو بھی خطرے میں قرار دیا ہے، جن میں چینی پروجیکٹس اور امریکی دلچسپی شامل ہیں۔