2.0 ہیروف انقلاب کی صبح
تحریر: وطن زاد
دی بلوچستان پوسٹ
وطن میں ہلکے سے بادل چھائے ہوئے ہیں، پہاڑوں کے سر پہ دستار نما برف کا چادر، ہوا میں اک دم سے مستی، چرند پرند ایسے خاموش جیسے کسی بے پناہ جاہ و جلال والے بادشاہ کی آمد ہو، ہر طرف سناتا، ہر لب خاموش، جیسے وقت ساکن ہوکر قدرت کی مٹھی میں دفن ہوچکا ہو، صبح کا وقت ہے اک دم سے طوفان کی آواز مجھے سنائی دینے لگی، اک ایسا رعب دار اور دل دہلا دینے والی آواز جس کی گونج میرے جسم کے ہر حصے کو محسوس ہو رہی ہو ۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی میں ڈر رہا تھا یا پھر خوشی سے میری آنکھیں نم ہونے لگی تھیں، ہر سو انقلاب کی آوازیں گونج رہی ہیں، فضا میں اک خوشبو سی مہک اٹھی، مجھ سے رُکھا نہیں گیا میں باہر نکلا تو میرے وطن میں ہیروف دوہم کی آذان گونج رہی تھی – ہر طرف فدائین کے ہکل کی آواز، ضرب تو اک آگ کی مانند برس رہا ہو، کوئی چہرہ پریشان نہیں ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں، ہر مظلوم کے لیے عید کا دن اور ہر غدار کے لیے موت کا پیغام –
31 جنوری کی صبح، یہ سورج آزادی کا نوید لے کر طلوح ہوا، فدائی سرمچار تو اتنے زیادہ خوبصورت اور دلنشین تھے کہ ہر کوئی ان کے جانب دوڑ رہا تھا ہر ماں ان کے صدقے اتار رہی تھی، ہر نوجوان ان کے ساتھ همگام تھا۔ ایک خوبصورت سی بندوق جو ان کے وقار کی علامت ہے، گلے میں لٹکتا ہوا وہ آخری گولی ہیرے کی مانند ان کے گردنوں میں چمک رہا تھا آنکھوں میں اک ایسا خمار کہ ہر کوئی ان میں ڈوب سا جائے، چہرے پہ پہاڑوں کی لالی تھی، ان کے کندھوں پہ لٹکتا ہوا وہ میری آزادی کا پرچم، دھرتی وطن کی ان کے پیروں سے ایسے چمکتی ہوئی تھی جیسے ریت کا ہر ذرہ ان کے پیروں کو بوسہ دے رہا ہو ۔ وہ اتنے معصوم اور نرم مزاج تھے جیسے آج ہی وطن کی کوکھ سے ان کا جنم ہوا ہے، ہر بلوچ اپنے سرمچاروں کا استقبال کرنے نرگس کے پھول لیے کھڑا تھا۔
میں دوڑتے ہوئے گھر آیا کہ اپنا موبائل فون اٹھا کر ان کی کچھ تصاویر قید کرلوں، جیسے ہی میں نے اپنا موبائل فون اٹھایا میں خوشی سے چیخ اٹھا میں دھنگ سا رہ گیا میری ہاتھ خشک ہوگئے، میرا چہرہ زرد پڑھ گیا کوئی تو مجھ سے پوچھو میں نے کیا دیکھا میں نے کیا دیکھا یہ دیکھو میں نے کیا دیکھا، یہ کون ہے جو اس لشکر کو کمان کررہا ہے، پہاڑوں کے سنگم سے طوفان برپا کرتا ہوا یہ ہونڈا موٹر سائیکل پر کون آ رہا ہے، میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا، میرے چہرے پر زم زم چڑکاؤ میں کئی نیند میں تو نہیں ہوں، آؤ سب میرے قریب آؤ، یہ دیکھو چیئرمین بشیر زیب اترا ہے یہ واقعی کماش بشیر زیب ہی ہے نا؟ یہ ہستی میرا قبلہ ہے، میرا ایمان ہے، میرا مقصدِ زندگی ہے یہ بشیر زیب ہے، میں کتنا خوش قسمت ہوں میں نے اپنی آنکھوں سے بشیر زیب کو دیکھا ہے، مظلوموں کے محافظ کو دیکھا ہے ماہوں کی دعاؤں کو دیکھا ہے دشمن کی موت کو دیکھا ہے میں نے اپنا لیڈر دیکھا ہے۔
میں نے اس کے چہرے پر حسن، نور، نزاکت، شرافت اک مکمل انسان دیکھا ہے۔ اس کی آنکھوں میں اپنے وطن کا آزاد عکس دیکھا ہے، اس کی دہشت بھری آواز میں مجھے اپنا محافظ نظر آیا اپنا وارث نظر آیا اپنے ہر درد کا درمان نظر آیا، اس کی باتوں میں مجھے اک زندہ قوم نظر آئی وہ قوم جس نے غلامی کی زنجیریں توڑ کر آزادی کی نئی اڑان بھری ہے، مجھے اس کے ساتھیوں میں پہاڑ جیسا استقامت نظر آیا – اس کے چہرے سے جوانی ریزہ ریزہ ہوکر اتر چکا ہے، وہ بلوچستان کے ہر ماں کے تہجد میں مانگی گئی دعا کا نتیجہ ہے – بشیر زیب نے اپنی زندگی، جوانی اور ہزاروں خوشیاں، ہزاروں چاہتیں ہر بلوچ فرزند کے روشن مستقبل کے لیے قربان کر دیا ہے آج بھی وہ پر امید ہے اس کی آنکھوں میں ملال نہیں بلکہ ایک آزاد اور پرامن بلوچستان ہے ہیروف دوہم ہمارے لیے پہاڑوں سے اپنے دامن میں خوشیاں سمیٹ کر لایا ہے بشیر زیب ہمارے ہر آنسو کا بدلہ لینے اترے ہیں ہمارے ماں، بہنوں کی عزتیں محفوظ کرنے اترے ہیں – آج وہ اپنے وطن کے گدان میں بلوچ سرڈغار کے مہمان ہیں۔
ہیروف ہمیں سکھاتا ہے کہ بہادری دراصل موت کے ساتھ ایک خاموش معاہدہ ہے، ایک جنگجو موت سے کبھی بھاگتا نہیں؛
وہ اسے سمجھتا ہے، قبول کرتا ہے، اور اس سے معنی کشید کرتا ہے۔
وہ جانتا ہے کہ موت ایک لمحہ ہے، لیکن غلامی ایک صدیوں کا زخم۔
لہٰذا وہ لمحے کو چنتا ہے، مگر زخم کو نہیں، ہیروف ہمیں درس دیتا ہے کہ جنگجو بنو اور اچھی جنگ کے لیے خود کو داؤ پر لگانے میں خوشی محسوس کرو، اک عام انسان پیدا ہوتا ہے اور پھر مر جاتا ہے لیکن پہاڑ ہمیں ایک پروقار حیثیت سے زندہ رہتے ہیں اور سب کچھ برداشت کرتے ہیں، انسان کو کسی نہ کسی مقام پر ضرور حیرانی ہوتی ہے کہ کیا ہمارے سارے دوڑ دھوپ کی کوئی وقعت ہے؟ مگر پہاڑ بامقصد ہوکر ہمیشہ اپنے موقف پر کھڑے رہتے ہیں – ہم پہاڑوں کی طرح کیوں نہ بن جائیں- جو ہمارے فخر کی علامت ہیں جنہوں نے فداہیوں کو اپنے سینے میں جگہ دی ہے – جو اک آزاد قوم کے لیے اپنے دل میں جگہ بنا دیتے ہیں، پہاڑ کبھی سوال نہیں کرتے وہ ہمیشہ اپنی جگہ پر فہیم، قدیم اور مقیم ہیں۔
6 فروری ہیروف دوہم کی آندھی جڑ چکی تھی، فضا میں شور نہیں بس اک بھاری سی خاموشی تھی ایسی خاموشی جو گزرے ہوئے طوفان کی گواہی دیتی ہے، ہوا میں ابھی تک بارود کی باس تھی، مگر اس کے اوپر ایک نئی خوشبو تیر رہی تھی— فتح کی، ہمارا سرڈغار زخمی تھا، سامراج کی دیواریں چھلنی، مگر لوگوں کی آنکھوں میں وہ چمک لوٹ آئی تھی جو صدیوں بعد جنم لیتی ہے۔ یہ خاموشی شکست کی نہیں تھی یہ وہ ٹھہراؤ تھا جو بڑی قربانیوں کے بعد آتا ہے- وطن کا پرچم ہوا میں یوں لہرا رہا تھا جیسے زمین خود سانس لے رہی ہو، جو سرمچار واپس لوٹے ان کے چہروں پر تھکن کے ساتھ فخر لکھا تھا اور جو نہ لوٹے ان کے نام ہکل جیسے للکار میں زندہ تھے- یہ فتح صرف اک محاذ کی نہیں تھی، یہ حوصلے کی جیت تھی- ہر شہید کی ماں اپنے بیٹے کی تصویر سینے سے لگائے کھڑی تھی، آنکھوں میں آنسو تھے مگر لہجے میں غرور، جیسے مستقبل نے پہلی بار جھانک کر کہا ہو: ہم زندہ رہیں گے –
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































