‎طلوعِ امید کی کہانی – سفر خان بلوچ (آسگال)

51

‏‎طلوعِ امید کی کہانی

تحریر: سفر خان بلوچ 

دی بلوچستان پوسٹ

رات کبھی کبھی محض رات نہیں ہوتی وہ تاریخ کا سانس روکے کھڑا لمحہ ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک رات تھی جب نوشکی کی فضا غیر معمولی حد تک خاموش تھی۔ سردی اپنی انتہا پر تھی، اور آسمان پر ستارے یوں جھلملا رہے تھے جیسے کسی آنے والے طوفان سے بے خبر ہوں۔ مگر زمین کے نیچے، دلوں کے اندر، اور خاموش قدموں کی چاپ میں ایک ایسا ارتعاش موجود تھا جو معمول کی خاموشی کو چیرنے والا تھا۔

‏‎یہ کہانی محض گولیوں اور دھماکوں کی نہیں، بلکہ ان لمحوں کی ہے جو کسی بھی قوم کی اجتماعی یادداشت میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتے ہیں۔ یہ ان تھکے ہوئے قدموں کی داستان ہے جو مہینوں کی تیاری، فاقوں، جاگتی راتوں اور سرد پہاڑی راستوں سے گزر کر ایک ایسے موڑ پر پہنچی ‏‎ہے جہاں واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ یہ ان چہروں کی کہانی ہے جن پر برفانی ہواؤں نے دراڑیں پیدا کردی ہیں، مگر آنکھوں میں عزم کی چمک بجھنے نہ پائی ہے۔

‏‎ہر معرکہ صرف میدان میں نہیں لڑا جاتا کچھ جنگیں انسان کے اندر لڑی جاتی ہیں۔ خوف اور ہمت کے درمیان، تھکن اور حوصلے کے درمیان، زندگی اور نظریے کے درمیان، جب حالات اس نہج پر پہنچ جائیں کہ خاموشی بھی چیخنے لگے، تب تاریخ اپنے کردار خود منتخب کرتی ہے۔

‏‎نوشکی کی وہ رات بھی انتخاب کی رات تھی۔ سرد ہواؤں میں بارود کی بو ابھی شامل نہیں ہوئی تھی، مگر فضا میں ایک انجانا سا بوجھ تھا۔ گھروں کے دروازے بند تھے، مگر دل کھلے ہوئے، راستے سنسان تھے، مگر قدموں کی آہٹیں زمین کے سینے میں محفوظ ہو رہی تھیں۔

‏‎اس داستان کی گونج اُس رات سے بہت پہلے شروع ‏‎ہو چکی تھی جسے تاریخ نے بعد میں یاد رکھنا ہے۔ جو کچھ ایک معرکے کی صورت سامنے آیا، وہ اچانک برپا ہونے والا طوفان نہیں تھا، وہ طویل تیاریوں، خاموش مشقوں، بے آواز مشاورتوں اور دلوں میں پلتے عزم کا نتیجہ تھا۔

‏‎کہانی کی شروعات اُس لمحے سے نہیں ہوئی جب پہلا دھماکہ ہوا یا پہلی گولی چلی، اس کی بنیاد تو اُن مہینوں پہلے رکھی گئی تھی، یوں سمجھ لیجیے کہ معرکہ تو ایک دن میں دکھائی دیا، مگر اس کی تشکیل برسوں کے احساسات، مہینوں کی تیاری اور ان گنت جاگتی راتوں سے ہوئی تھی۔ اس لیے جب ہم اس کہانی کا آغاز کرتے ہیں تو ہمیں اُس خاموش زمانے میں لوٹنا پڑتا ہے۔ اُس دور میں جب سب کچھ پرسکون دکھائی دیتا تھا، مگر زیرِ سطح تاریخ اپنا رخ بدلنے کی تیاری کر رہی تھی۔ وہی خاموش تیاری اس داستان کا اصل نقطۂ آغاز ہے۔

‏‎اس رات سے کچھ وقت پہلے، جب زیادہ تر منصوبے مکمل ہو چکے تھے اور تیاریوں کے آخری مرحلے طے ‏‎پا چکے تھے، کئی ہفتوں سے جاری مشاورتیں اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھیں۔ راستے متعین ہو چکے تھے، ذمہ داریاں بانٹ دی گئی تھیں، اور ہر فرد کو اپنے حصے کا کام ازبر تھا۔

‏‎اسی تسلسل میں ایک نوجوان، جو دور دراز علاقوں میں قائم نیٹ ورک کے ذریعے مسلسل رابطے میں تھا، آخری ہدایات لے کر واپس لوٹا۔

‏‎وہ شام کسی عام شام کی طرح نہیں تھی۔ مغرب کی دھندلی روشنی ابھی پوری طرح ڈھلی بھی نہ تھی کہ نیٹ ورک سے آیا ہوا نوجوان کیمپ کی حدود میں داخل ہوا۔ اس کے قدموں میں ایسی عجلت تھی جیسے وقت اس کے پیچھے کوڑے برسا رہا ہو۔ چہرے پر سفر کی گرد اور آنکھوں میں بے چینی کی چمک تھی۔

‏‎وہ سیدھا کیمپ کے ذمہ دار کے طرف بڑھا۔ سانس سنبھالے بغیر اس نے پیغام پہنچایا۔ الفاظ مختصر تھے مگر وزن میں پہاڑوں جیسے بھاری، پیغام سنتے ہی ذمہ دار کے چہرے کا سکون تحلیل ہوگیا، ‏‎جیسے کسی پُرسکون جھیل میں اچانک پتھر پھینک دیا گیا ہو۔

‏‎اسی لمحے اس نے کیمپ کے تمام سرمچاروں کو جمع کیا۔ سرد ہوا درختوں کے تنوں کو ہلا رہی تھی اور آسمان پر سیاہ بادل کسی انجانے طوفان کی خبر دے رہے تھے۔“سفر کی تیاری کرو،” اس کی آواز میں حکم بھی تھا اور عزم بھی،

‏‎“ہمیں ابھی نکلنا ہے۔”

‏‎ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔ پھر جیسے پورا کیمپ حرکت میں آگیا۔ ہر کونے سے آوازیں ابھرنے لگیں۔ کوئی سامان سمیٹ رہا تھا، کوئی اسلحہ درست کر رہا تھا، کوئی خشک راشن باندھ رہا تھا۔ گدھوں کو ڈھونڈا گیا، ان کی پیٹھ پر ضرورت کا سامان لادا گیا۔ رسیاں کَسی گئیں، تھیلے مضبوط کیے گئے۔

‏‎رات پوری طرح اتر چکی تھی۔ سردیوں کا موسم پہلے ہی ہڈیوں میں اتر رہا تھا، اور اب اندھیرا بھی ان کا ہمسفر بن چکا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے آج کی ‏‎رات نے فیصلہ کر لیا ہو کہ وہ ان کے حوصلوں کو آزمائے گی۔

‏‎قافلہ خاموشی سے روانہ ہوا۔

‏‎پہاڑی راستہ اور سنسان، قدموں کی چاپ اور گدھوں کی گھنٹیوں کی مدھم آوازیں خاموشی میں گم ہو رہی تھیں۔ کچھ ہی دور گئے تھے کہ آسمان نے اپنی پہلی بوند زمین پر گرائی، پھر دوسری اور پھر یوں لگا جیسے بادل پھٹ پڑے ہوں۔

‏‎بارش تیز ہوتی گئی۔ ٹھنڈی ہوا خنجر کی طرح چہروں پر لگتی۔ کپڑے بھیگنے لگے، ہاتھ سن ہونے لگے، مگر کسی نے رفتار کم نہ کی۔ حکم مل چکا تھا مقررہ وقت اور مقام تک پہنچنا ہے۔ راستہ لمبا تھا، اور رکنا ممکن نہ تھا۔

‏‎بارش کی بوندیں اب برف کی سوئیوں میں بدلنے لگیں۔ سانسوں سے بھاپ نکل رہی تھی۔ زمین کیچڑ میں تبدیل ہو رہی تھی۔ گدھے پھسلتے، سنبھلتے، پھر آگے بڑھتے۔ قافلے کے ہر فرد کے قدم بھاری ہو چکے تھے، مگر ان کے دلوں میں عزم کی آگ روشن تھی۔

‏‎پھر اچانک آسمان سے برف گرنے لگی۔

‏‎پہلے نرم پھاہوں کی طرح، پھر گھنی چادر کی صورت۔ سفید برف نے رات کے سیاہ دامن کو ڈھانپنا شروع کر دیا۔ درختوں کی ٹہنیاں جھک گئیں، پہاڑی راستہ سپید ہو گئے۔ ہر قدم اب ایک جدوجہد تھا۔ سردی گویا جسموں سے لپٹ گئی ہو۔ انگلیاں سن ہو رہی تھیں، ہونٹ نیلے پڑنے لگے تھے۔

‏‎مگر وہ رکے نہیں۔

‏‎ان کے قدم زمین پر کم اور منزل کی طرف زیادہ اٹھ رہے تھے۔ جیسے ہر شخص اپنے اندر کسی عہد کو تھامے ہوئے ہو۔ آنکھوں میں تھکن تھی مگر ہار نہیں۔ سردی بڑھتی گئی، برف گہری ہوتی گئی، راستہ دشوار تر ہوتا گیا، مگر قافلہ رواں دواں رہا۔

‏‎کبھی کوئی ساتھی پھسل جاتا تو دوسرا ہاتھ تھام لیتا۔ کبھی گدھا بوجھ کے ساتھ لڑکھڑاتا تو سب مل کر اسے سنبھال لیتے۔ اس رات ہر شخص صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پورے قافلے کے لیے چل رہا تھا۔

‏‎آسمان پر بادل گرجے، ہوا نے سیٹیاں بجائیں، برف نے راستہ ڈھانپ لیا، مگر ان کے دلوں میں جلتی امید کی لو بجھ نہ سکی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے قدرت خود ان کا امتحان لے رہی ہو دیکھنا چاہتی ہو کہ عزم کی حرارت زیادہ قوی ہے یا سرد رات کی یخ بستگی۔

‏‎رات گہری ہوتی گئی۔ ہر قدم کے ساتھ ان کے پیروں کے نشان برف پر ثبت ہوتے جاتے، گواہی دیتے ہوئے کہ یہ لوگ مشکلات سے ڈر کر واپس پلٹنے والے نہیں۔

‏‎اور وہ چلتے رہے۔

‏‎نہ سردی نے انہیں روکا، نہ بارش نے، نہ برف نے۔ ان کے قدموں میں اب صرف منزل کی سمت تھی۔ جیسے وہ زمین پر نہیں، اپنے عزم کی راہ پر چل رہے ہوں۔

‏‎اس طویل اور کٹھن سفر میں رات ان کی آزمائش تھی، برف ان کی رکاوٹ، اور ہوا ان کی مخالف، مگر ان کا حوصلہ ان سب سے بلند تھا۔

‏‎اور یوں، اندھیری، سرد اور برفانی رات کے سینے کو ‏‎چیرتا ہوا وہ قافلہ اپنی منزل کی طرف بڑھتا رہا رواں دواں، ثابت قدم، اور عہد کی آگ میں تپ کر مزید مضبوط ہوتا ہوا۔

‏‎دوسری جانب وہ علاقہ، جہاں آپریشن ہونا تھا، بظاہر خاموش تھا، مگر اس خاموشی کے نیچے ایک اضطراب موجزن تھا۔ پہاڑ اپنی جگہ ساکت کھڑے تھے، وادیاں سپید چادر اوڑھے سوئی ہوئی معلوم ہوتی تھیں، لیکن ان خاموش پہاڑوں کے درمیان مختلف علاقوں سے سرمچار خاموشی سے پہنچ رہے تھے۔ ہر گروپ الگ راستے سے آتا، رات کی تاریکی میں گم ہوتا، اور مقررہ مقامات پر جا کر ٹھہر جاتا جیسے بکھری ہوئی لہریں ایک ہی ساحل کی طرف بڑھ رہی ہوں۔

‏‎مہینوں سے تیاری جاری تھی۔ کچھ ساتھی کئی مہینوں سے اس کاروائی کی منصوبہ بندی، رسد کی فراہمی اور رابطوں کو قائم رکھنے میں مصروف تھے۔ نہ انہیں پیٹ بھر کر کھانے کا موقع میسر تھا، نہ سکون کی نیند نصیب۔ ان کی زندگی گویا وقت ‏‎کی قید میں تھی ہر لمحہ حساب میں، ہر سانس ذمہ داری کے بوجھ تلے۔

‏‎ایک خاص گروپ کو راشن اور اسلحہ قریبی علاقوں تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ یہ ذمہ داری بظاہر سادہ تھی، مگر حقیقت میں پہاڑ جیسی دشوار۔ پچھلے ایک مہینے سے وہ گروپ شدید سردی اور مسلسل برف باری کے عالم میں پورا پورا دن پیدل سفر کرتے، برف میں دھنسے راستے، تیز ہوائیں، اور یخ بستہ راتیں یہ سب ان کے معمول کا حصہ بن چکے تھے۔

‏‎صبح کی پہلی مدھم روشنی کے ساتھ وہ نکلتے اور شام کے سائے گہرے ہونے تک چلتے رہتے۔ ان کے جوتے، جو کبھی مضبوط تھے، اب بارہا سفر کرنے سے پھٹ چکے تھے۔ چمڑا جگہ جگہ سے اکھڑ گیا تھا، تلے گھس چکے تھے۔ شدید سردی سے ان کے پاؤں سوج گئے تھے، انگلیاں سن پڑنے لگتی تھیں۔ کئی بار تو ایسا ہوتا کہ برف میں قدم رکھتے ہی یوں لگتا جیسے سوئیاں چبھ گئی ہوں۔

‏‎جب جوتے حد سے زیادہ پھٹ گئے اور سردی سیدھی پاؤں تک پہنچنے لگی تو انہوں نے اپنے قدموں کو بچانے کا ایک سادہ سا طریقہ نکالا، پھٹے ہوئے جوتوں کے اندر پلاسٹک لپیٹ کر پہن لیتے، تاکہ نمی اندر نہ جائے۔ یہ کوئی آرام دہ حل نہ تھا، مگر زندہ رہنے اور چلتے رہنے کے لیے کافی تھا۔ پلاسٹک کی خراشیں، جوتوں کی تنگی اور سوجے ہوئے پاؤں سب کچھ برداشت کر کے وہ آگے بڑھتے رہے۔

‏‎کھانا؟ ‎

وہ تو اب ضرورت سے زیادہ ایک عیاشی محسوس ہونے لگا تھا۔ دن بھر کی مشقت کے بعد بمشکل اتنا ملتا کہ جان باقی رہے۔ کبھی خشک روٹی کا ٹکڑا، کبھی پرانی ( بلوچوں کی ایک قسم کی روٹی) ، وہ اسے بھی یوں بانٹتے جیسے کسی قیمتی خزانے کی تقسیم ہو رہی ہو۔ کوئی شکایت نہیں، کوئی شکوہ نہیں صرف خاموشی سے قبولیت۔

‏‎اور نیند؟

‏‎نیند ان کے لیے اب ایک بھولی ہوئی نعمت تھی۔ کبھی کسی چٹان کے سائے میں، کبھی کسی درخت کے نیچے، چند منٹوں کے لیے آنکھ لگ جاتی۔ پھر کوئی آہٹ، کوئی اشارہ، کوئی نئی ہدایت اور وہ دوبارہ اٹھ کھڑے ہوتے۔ ان کی راتیں مکمل نیند سے خالی تھیں، مگر ارادے مکمل تھے۔

‏‎جوں جوں مقررہ وقت قریب آ رہا تھا، ذمہ داریاں بڑھتی جا رہی تھیں۔ ہر شخص کو اپنا حصہ پورا کرنا تھا۔ کوئی راستوں کی نگرانی کر رہا تھا، کوئی سامان کو چھپا کر محفوظ مقام تک پہنچا رہا تھا، کوئی رابطوں کو مضبوط رکھے ہوئے تھا۔ ہر ایک کے چہرے پر تھکن کے سائے تھے، مگر آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک بھی تھی وہ چمک جو مقصد کے یقین سے پیدا ہوتی ہے۔

‏‎موسم کی سختی اپنی انتہا پر تھی۔ سردی ہڈیوں میں اتر چکی تھی، برف نے زمین کو سخت کر دیا تھا، اور لمبے پیدل سفر نے جسموں کو توڑ کر رکھ ‏‎دیا تھا۔ مگر ان کے ارادے اس قدر مضبوط تھے کہ جیسے اندر کوئی آگ جل رہی ہو۔ وہ آگ جو جسمانی کمزوری کو شکست دے دیتی ہے۔

‏‎کبھی کبھی کسی ساتھی کے قدم لڑکھڑا جاتے۔ سوجے ہوئے پاؤں مزید بوجھ برداشت نہ کر پاتے۔ ایسے میں دوسرا بازو تھام لیتا۔ کوئی بوجھ اپنے کندھے پر لے لیتا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ سفر صرف ایک فرد کا نہیں یہ سب کا مشترکہ امتحان ہے۔

‏‎دن اور رات کا فرق مٹ چکا تھا۔ بس کام تھا، ذمہ داری تھی، اور قریب آتا ہوا وقت، ہر کسی کو بس ایک ہی غم تھا کہ اس کی ذمہ داری ادھوری نہ رہ جائے۔ کوئی پیچھے نہ رہ جائے۔ کوئی کمی نہ رہ جائے۔ ‏‎یوں لگتا تھا جیسے وہ انسان نہیں، عزم کی چلتی پھرتی تصویریں ہوں۔ سردی انہیں روک نہ سکی، برف ان کے قدم جما نہ سکی، بھوک انہیں جھکا نہ سکی، نیند انہیں سلا نہ سکی۔

‏‎اور جب وقت قریب آنے لگا، تو فضا میں ایک عجیب سا تناؤ بھر گیا۔ پہاڑوں کی خاموشی اور گہری ہو گئی، ہوا کی سرسراہٹ میں بھی جیسے انتظار کی کیفیت شامل ہو گئی۔ ہر دل کی دھڑکن تیز تھی، مگر قدم مستحکم۔

‏‎یہ وہ لمحے تھے جب جسم اپنی حدوں کو چھو چکا تھا، مگر ارادے ابھی باقی تھے۔ جب جوتے پھٹ چکے تھے، پاؤں سوج چکے تھے، نیند روٹھ چکی تھی، مگر مقصد زندہ تھا اور اسی مقصد کی روشنی میں وہ سب اپنی اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے، سرد و سنگلاخ راستوں پر، خاموشی سے تاریخ کے ایک نئے باب کی طرف بڑھ رہے تھے۔

‏‎وہ گروپ جو کئی دنوں سے محوِ سفر تھا، آخرکار برف سے ڈھکے ان سنگلاخ راستوں کو عبور کرتا ہوا اُس مقام تک پہنچ گیا جہاں انہیں آنے کا حکم ملا تھا۔ ان کے چہروں پر تھکن کی گہری لکیریں تھیں، داڑھیوں پر جمی برف کے ذرے ابھی تک پگھلے نہ تھے، اور سانسیں سرد ہوا میں دھند بن کر اڑ رہی ‏‎تھیں۔ کئی دنوں کی مسلسل برفباری، یخ بستہ ہوائیں اور بے خواب راتیں ان کے جسموں پر صاف لکھی ہوئی تھیں مگر قدموں میں اب بھی وہی استقامت تھی۔ جیسے ہی وہ مقررہ مقام کے قریب پہنچے، وہاں پہلے سے مختلف علاقوں اور کیمپس کے ساتھی جمع ہو چکے تھے۔ کوئی پتھریلی ڈھلوان کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا، کوئی اپنے اسلحے کی صفائی میں مصروف تھا، کوئی خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں بادل ٹوٹ کر ستاروں کو ظاہر کر رہے تھے۔

‏‎ان کے پہنچتے ہی چند نگاہیں ان کی طرف اٹھیں۔ ایک لمحے کو یوں لگا جیسے سرد فضا میں ایک خاموش مسکراہٹ پھیل گئی ہو، انتظار ختم ہوا تھا۔ وہ سب انہی کے منتظر تھے۔ کوئی رسمی استقبال نہ ہوا، نہ گلے ملنے کا طویل وقت ملا، صرف مختصر سر ہلانا، آنکھوں میں پہچان، اور خاموشی میں ایک دوسرے
کی تکلیف کو سمجھ لینا۔
‏‎مگر آرام؟
‏‎آرام تو گویا اس قافلے کی لغت سے مٹ چکا تھا۔
‏‎پہنچنے کے بمشکل بیس تئیس منٹ گزرے ہوں گے کہ ذمہ دار کی آواز آئی۔ مدھم مگر فیصلہ کن
‏‎“تیار ہو جاؤ… دوبارہ نکلنا ہے۔”
‏‎کسی نے تعجب نہ کیا، کسی نے سوال نہ کیا۔ جو ابھی بیٹھے تھے، فوراً اٹھ کھڑے ہوئے۔ جو پانی پی رہے تھے، چلنے کے لئے تیار ہوئے۔ جو سانس بحال کر رہے تھے، انہوں نے بندوقیں سنبھال لیں۔ تھکن کو جیسے وقتی طور پر دل کے کسی گوشے میں قید کر دیا گیا اور وہ پھر روانہ ہو گئے۔

‏‎اس دن کا سفر پچھلے سفر سے کم دشوار نہ تھا۔ ڈھلوانیں، خاموش درخت، اور رات کے بڑھتے سائے ان کے ہم قدم تھے۔ سورج مختصر وقت کے لیے بادلوں کے پیچھے سے نکلا، پھر دوبارہ چھپ گیا۔ شام ڈھلی تو فضا میں یخ بستگی اور بڑھ گئی۔ ہوا کی تیزی چہروں کو کاٹنے لگی، مگر وہ چلتے رہے۔

‏‎رات گہری ہو چکی تھی جب وہ اس علاقے کے قریب پہنچے جہاں انہیں اپنی کاروائی انجام دینی تھی۔ پہاڑوں کے سائے سیاہ دیواروں کی طرح ‏‎کھڑے تھے۔ نیچے خاموشی کا راج تھا ایسی خاموشی جو طوفان سے پہلے آتی ہے۔
‏‎رات کا ایک پہر گزر چکا تھا۔
‏‎وہ خاموشی سے اپنی اپنی جگہوں پر پھیل گئے۔ اب تمام گروپوں کو الگ الگ ذمہ داریاں سونپی جا چکی تھیں۔ کسی کو مشرقی ڈھلوان سنبھالنی تھی، کسی کو راستہ، کسی کو عقب کی نگرانی۔ ہدایات مختصر تھیں مگر واضح تھے۔ ہر شخص جانتا تھا کہ اسےکہاں ہونا ہے اور کب حرکت کرنی ہے۔ ‏‎گروپوں کی شکل میں وہ اپنے اپنے مورچوں کی طرف بڑھ گئے۔ پتھریلی زمین پر آہستہ قدم رکھتے، سانسوں کو قابو میں رکھتے، اسلحہ مضبوطی سے تھامے ہوئے۔ کوئی چٹان کے پیچھے پوزیشن لے رہا تھا، کوئی جھاڑیوں کی اوٹ میں لیٹ گیا، کوئی اونچی جگہ پر جا کر نگرانی کے لیے بیٹھ گیا۔

‏‎چاند بادلوں کے پیچھے سے کبھی کبھار جھانکتا، اور اس کی مدھم روشنی میں برف چمک اٹھتی، جیسے زمین پر بے شمار ننھے چراغ روشن ہوں۔ اس روشنی میں ان کے چہروں پر سنجیدگی کی پرچھائیاں واضح تھیں۔ آنکھیں چوکس، انگلیاں
‏‎تیار، دلوں کی دھڑکنیں تیز مگر قابو میں۔
اب بس انتظار تھا کمانڈر کے حکم کا۔
‏‎ہر طرف تیاری مکمل تھی۔ اسلحہ تیار، راستے متعین، اشارے طے شدہ۔ کوئی آہستہ سے اپنی پوزیشن درست کر رہا تھا، کوئی آخری بار بندوق کا میگزین چیک کر رہا تھا۔ سردی اب بھی جسموں کو جکڑے ہوئے تھی، مگر اس لمحے کسی کو سردی کا احساس نہ تھا۔
‏‎فضا میں ایک عجیب سا تناؤ تھا جیسے زمین بھی سانس روکے کھڑی ہو۔ سب کی نگاہیں ایک ہی سمت میں تھیں۔ کمانڈر کے حکم کی طرف۔
‏‎ایک اشارہ…
‏‎ایک لفظ…
‏‎اور خاموشی ٹوٹنے والی تھی۔
‏‎وہ جانتے تھے کہ اگلا لمحہ تاریخ بن سکتا ہے۔ مگر اس لمحے سب کے دلوں میں ایک ہی بات تھی اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہے۔ کوئی پیچھے نہیں ہٹے گا، کوئی مورچہ خالی نہیں چھوڑے گا۔ ‏‎یوں، پہاڑوں کی خاموش گواہی کے ساتھ، وہ سب اپنے اپنے مورچوں میں جمے بیٹھے تھے تیار، ثابت ‏‎قدم، اور حکم کے منتظر۔

‏‎صبح ابھی اپنے قدموں پر ڈھلنے بھی نہیں آئی تھی۔ شہر نوشکی کے اوپر ابھی سکوت چھایا ہوا تھا، لیکن اسی خاموشی میں ایک دوسرے قسم کی دھڑکن تھی وہ دھڑکن جو آنے والے طوفان کی خبر دے رہی تھی۔

‏‎دوسری جانب، فدائیوں کا گروپ دشمن کے مرکزی کیمپ کے قریب تیار بیٹھا تھا۔ وہ بس جیسے ایک خاموش جہاز تھی، تیار پرواز کے لیے۔ فدائی اپنے گاڑی میں بیٹھا، آخر بار اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا۔ ہاتھ ہلایا، ایک مختصر لیکن گہری نگاہ کے ساتھ رخصت اف آوارن کہا۔ ہر لفظ جیسے ہوا میں رچ بس گیا۔

‏‎گاڑی نے خاموشی سے اپنی پہیوں کو حرکت دی، تیز رفتاری سے دشمن کی کیمپ کی جانب بڑھتی گئی۔ ہر میٹر کا سفر ان کے دلوں میں ایک ہلکی سی لرزش پیدا کر رہا تھا۔ گاڑی کے اندر خاموشی تھی، ‏‎مگر دل دھڑک رہا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس کے لیے مہینوں کی محنت، راتوں کی نیندیں، اور لمبی تربیت صرف انتظار کر رہی تھیں۔ اور پھر، جیسے ہی گاڑی دشمن کے کیمپ سے ٹکرائی، ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ زمین لرزنے لگی، ہوا میں آگ کی روشنی نے شہر کے اندھیروں کو چیر دیا، اور آسمان کی نیلی چھت بھی اس روشنی میں جھلملانے لگی۔ دھماکہ ایسا تھا کہ سب کچھ رُک سا گیا، جیسے وقت نے ایک لمحے کے لیے سانس روک لیا ہو۔

‏‎یہ دھماکہ اعلان جنگ تھا۔ اب خاموشی ٹوٹ چکی تھی۔ فرزند بلوچ جیسے قہر بن کر دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ نوشکی کے ہر گوشے سے گولیوں کی آواز بلند ہوئی، دھویں کے بادل اٹھنے لگے، اور دشمن کے ہر مورچے پر تیزی سے چھائے ہوئے دھماکے گونجنے لگے۔ شہر کے ہر کونے میں فدائیوں کی موجودگی کا احساس تھا وہ ہر طرف دشمن کے لیے دہشت کی مانند تھے۔

‏‎فدائین کا گروپ جس حصے میں داخل ہونا تھا، وہ اب ان کے قبضے میں آ چکا تھا۔ ہر ایک قدم کے ‏‎ساتھ وہ دشمن کے اندرونی دفاعی حصوں میں بڑھتے گئے۔ دشمن کے فوجی چونک گئے، مگر فرزند بلوچ کے حوصلے اور مہارت کے آگے کچھ نہ کر سکے۔ سرمچار کیمپ کے اندر داخل ہوتے ہی فدائین نے ہر طرف تباہی پھیلانا شروع کیا پہلے گولیوں کی آواز، پھر دھویں کی لپیٹ، اور آخر میں دشمن کے مورچوں پر کنٹرول۔ وقت رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا، اور ہر لمحہ فدائیوں کو فتح کے قریب لے جا رہا تھا۔ دشمن کے پاس واپسی کی کوئی راہ نہ تھا۔ فدائین ہر راستے کو کنٹرول کر رہے تھے، چوکیاں اپنے قبضے میں لے رہے تھے۔ شہر نوشکی کے دل میں، فرزند بلوچ دشمن کے لیے ایک غیرمعمولی قوت بن چکے تھے، ہوا میں سنسناہٹ، زمین پر دھماکے، اور دلوں میں جوش کی لہر دوڑ رہی تھی۔

‏‎دیکھتے ہی دیکھتے وہ کیمپ کے اہم حصے پر قابو پا گئے، جس کو فدائیں نے پہلے کلیر کیا تھا۔ ہر سرمچار کی پوزیشن کو تسلیم کرتے ہوئے، وہ فتح اسکواڈ کے سرمچار کے ساتھ کیمپ کے اندر داخل ہوگئے۔ دشمن کے قلعے اب فدائین کی گرفت میں تھی۔

‏‎یہ لمحہ محض فتح نہیں تھا یہ ایک داستان تھی، ہمت اور عزم کی داستان۔ ہر دھماکہ، ہر گولی، ہر قدم جس نے دشمن کے دفاعی حصے کو عبور کیا، وہ شہر نوشکی میں فرزند بلوچ کے عزم کی علامت بن گیا۔ اور اس وقت، جب دھویں اور روشنی کے درمیان فدائیوں نے کیمپ کے کنٹرول کا علم بلند کیا، یہ واضح تھا کہ دشمن کے لیے اب کوئی راستہ باقی نہ رہا تھا۔

‏‎وہ لمحہ ایک ایسے طلوع کی طرح تھا، جس میں نہ صرف سورج کی روشنی بلکہ فرزند بلوچ کی طاقت کی روشنی بھی نمودار ہوئی تھی، خاموشی ٹوٹی، اندھیرا چیر گیا، اور فتح کی چمک نے پوری شہر کو روشن کر دیا۔

‏‎دوسری جانب، مرکزی کیمپ کے آئی ایس آئی اور دیگر خفیہ ایجنسیوں کے دفاتر کے اطراف میں ایک غیر معمولی منظر تھا۔ رات کی تاریکی ابھی پوری طرح چھائی ہوئی تھی، اور شہر نوشکی کے ‏‎فضاؤں میں دھوئیں اور آگ کے شعلوں کی مدھم روشنی پھیل رہی تھی۔ اسی دوران دخترِ بلوچ، آصفہ اپنی گاڑی میں تیاری بیٹھی تھی، جیسے کوئی مقدر کی پہیلی حل کرنے نکلی ہو۔

‏‎اس نے گاڑی کو بارودی مواد سے بھر رکھا تھا۔ ہر سینے کی دھڑکن، ہر لمحہ ایک نئے امتحان کی مانند تھا، مگر آصفہ ثابت قدم تھی۔ وہ جانتی تھی کہ آگے جو بھی ہوگا، اس کی ہمت اور عزم ہی فیصلہ کرے گی۔

‏‎آصفہ نے گاڑی کو کیمپ کی جانب بڑھایا۔ ہر قدم کے ساتھ فضا میں تناؤ بڑھتا گیا، ہوا کی سرسراہٹ اور دور کہیں سے آنے والی گولیوں کی آواز ایک سنگین سمفنی کی مانند تھی۔ دشمن کے دفاعی حصے سخت اور مضبوط تھے، مگر آصفہ کی آنکھوں میں کوئی خوف نہ تھا۔

‏‎اور پھر، وہ لمحہ آیا۔ گاڑی نے کیمپ کے مرکزی حصے پر ٹکر ماری، اور ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکے کی روشنی نے ‏‎آس پاس کے تمام دفاتر اور عمارتوں کو چند لمحوں کے لیے روشنی سے منور کردیا۔ دھواں اٹھا، ملبہ بکھرا، اور دشمن کی صفیں ہل گئی۔ یہ دھماکہ صرف ایک فوجی اقدام نہیں تھا، بلکہ دشمن کے لیے ایک واضح پیغام تھا کہ یہ جنگ کا میدان صنفی تفریق سے خالی ہے، اور ہر فرد، مرد یا عورت، یکساں طور پر محاذ پر حاضر ہے۔

‏‎آصفہ کے اس اقدام کے بعد، جس حصے کو اس نے کلیئر کیا تھا، وہ اب مکمل طور پر فدائین کے قبضے میں تھا۔ سرمچار اس حصے میں داخل ہوئے، ہر ایک قدم کے ساتھ دشمن کی مزاحمت کو توڑتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ یہ حصہ اب ان کے لیے محفوظ تھا، اور یہی لمحہ جنگ کی شدت میں ایک نیا موڑ لے آیا۔

‏‎کیمپ کے ہر حصے میں، فرزند بلوچ کی پوزیشن مضبوط ہو چکی تھی۔ دشمن کے مورچے ٹوٹ چکے، دفاتر اور چوکیاں اب سرمچاروں کے قبضے میں تھیں۔ ہر طرف سے گولیوں کی آواز، دھواں، اور آگ کے شعلے فضا میں چھائے ہوئے تھے۔ شہر نوشکی کی فضاؤں میں اب فتح کی خوشبو پھیل رہی ‏‎تھی، اور فرزند بلوچ دشمن پر قہر کی مانند چھائے ہوئے تھے۔

‏‎جنگ کی شدت بڑھتی گئی۔ ہر دھماکہ، ہر فائرنگ کی گونج، اور ہر قدم دشمن کے لیے ایک نئے خوف کی علامت تھا۔ آصفہ نے یہ ثابت کر دیا کہ صنفی فرق محاذ پر کوئی معنی نہیں رکھتا ہمت، عزم، اور قربانی سب کے لیے برابر تھی۔

‏‎شہر نوشکی کے اندھیروں میں، آگ اور دھوئیں کے درمیان، ہر سرمچار اپنی جگہ پر مضبوط کھڑا تھا۔ ہر گروپ اپنی ذمہ داری پوری کر رہا تھا، اور ہر قدم فتح کی جانب بڑھ رہا تھا۔ دشمن کے پاس کوئی واپسی کی راہ نہ رہی، اور ہر زاویے سے فرزند بلوچ نے اپنی گرفت مضبوط کی۔ اور اسی دوران، جب دھویں کے پردے ہٹنے لگے اور آگ کے شعلے مدھم پڑنے لگے، تو یہ واضح ہو گیا کہ کیمپ کا ہر حصہ اب سرمچاروں کے کنٹرول میں ہے۔ یہ محض ایک فتح نہیں تھی، بلکہ عزم، حوصلے، اور قربانی کی داستان تھی جہاں مرد اور عورت، ہر فرد، ایک ‏‎مشترکہ مقصد کے لیے متحد ہو کر دشمن کے لیے قہر بن گئے تھے۔

‏‎دوسری جانب، سرمچاروں نے دشمن کے علاقے میں قدم رکھ دیا تھا۔ پہاڑوں اور گلیوں کی خاموشی میں ان کے قدموں کی چاپ ایک طوفان کی طرح گونج رہی تھی۔ شہر کے سنسان راستے اور ویران محلے، جو کبھی خوف کی گہری چھاؤں میں ڈوبے ہوئے تھے، اب ان کے عزم کی طاقت کے سامنے لرز رہے تھے۔

‏‎پولیس تھانے اور سی ٹی ڈی کے دفاتر، جو کئی دہائیوں سے ظلم و بربریت کی علامت تھے، اب بہادر بلوچ فرزندوں کے سامنے ریک کی دیوار کی طرح بے بس اور کمزور محسوس ہو رہے تھے۔ ان کے مضبوط نظر آنے والے قلعے، بند کمرے، اور لوہے کے دروازے سب کچھ اب سرمچاروں کے عزم کے آگے خاک میں ملنے کے لیے تیار تھے۔

‏‎دیکھتے ہی دیکھتے، سرمچاروں نے ایک کے بعد ایک ‏‎تھانے پر قبضہ کر لیا۔ پولیس تھانے، جیلیں، اور سی ٹی ڈی کے دفاتر ہر ایک حصے پر ان کی گرفت مضبوط ہوتی گئی۔ دشمن کا اسلحہ، راشن، اور اہم دستاویزات ان کے ہاتھ میں آ گئے۔ ہر قدم کے ساتھ دشمن کی طاقت کمزور ہوتی گئی، اور ہر قدم کے ساتھ سرمچاروں کا حوصلہ بلند ہوتا گیا۔ دفاتر میں آگ لگائی گئی، دھواں اٹھا، اور شعلے آسمان کی جانب بلند ہوئے۔ دشمن کے جو محکمے کبھی خوف کا مرکز تھے، اب تباہی کی علامت بن گئے۔

‏‎صبح کی پہلی کرن کے ساتھ نئی روشنی نے شہر کے آسمان کو چیر دیا۔ نئی امیدیں، نئی توانائی کے ساتھ شہر نوشکی پر چھا گئی۔ اس وقت تک پورا علاقہ سرمچاروں کے کنٹرول میں تھا۔ سائیڈ کے دشمن کے کیمپس اور چوکیوں پر بھی سرمچاروں کی گرفت مضبوط ہو چکی تھی۔ شہر کے ہر گوشے میں فتح کی روشنی نظر آ رہی تھی۔

‏‎دشمن کی فوج اب بے بس اور ہچکچاہٹ میں گھری ہوئی تھی۔ پیدل فوجی، جو ابھی چند لمحے پہلے ‏‎تک طاقتور لگتے تھے، اب اپنی ناکامی اور بے بسی کو دیکھ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں خوف اور حیرت صاف نظر آ رہا تھا۔ صبح کے نور میں وہ اپنے چھپنے والے مورچوں اور قلعوں کی بے بسی کو کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ اور پھر، جیسے دشمن نے فوجی کمک بھیجی۔ درجنوں ہیلی کاپٹر آسمان کی طرف بڑھ گئے، امید کی روشنی میں جیسے دشمن آخری سہارا ڈھونڈ رہا ہو۔ مگر جیسے ہی وہ رینج میں آئے، سرمچاروں کے طیارہ شکن ہتھیاروں نے ان کا استقبال کیا۔ دھماکوں کی گونج، آگ کے شعلے، اور دھوئیں کے بادل ہیلی کاپٹر کے لیے ایک غیر متوقع اور خوفناک منظر بن گئے۔ وہ دم دبا کر پیچھے ہٹے، اپنی طاقت کا احساس کھو بیٹھے۔

‏‎اس وقت نوشکی شہر، جو ابھی چند دن پہلے تک خوف اور دہرے دباؤ میں ڈوبا تھا، اب آزاد اور سرمچاروں کی فتح کی خوشبو سے جھوم رہا تھا۔ ہر گلی، ہر محلہ، ہر چھوٹا سا راستہ، بارود کی خوشبو میں بھی آزادی کی خوشبو لیے ہوئے تھا۔

‏‎شہر کے لوگ، جو اپنی زندگیوں میں پہلی بار واقعی حقیقی وارثوں کے سائے محسوس کر رہے تھے، اب اپنے شہر میں آزاد، مضبوط، اور فتح کی روشنی میں جیت کا جشن منا رہے تھے۔

‏‎ہر طرف دھواں، آگ کے شعلے، ہر گولی کی گونج سب کچھ ایک داستان سنانے لگ رہا تھا۔ یہ شہر اب صرف سرمچاروں کی بہادری کا منظر نہیں بلکہ ہر فرد کے دل میں جمی ہوئی آزادی کی علامت بن چکا تھا۔ نوشکی کے ہر گوشے میں ایک نئی امید پیدا ہو رہی تھی، اور ہر شخص اپنے آپ کو حقیقی وارث محسوس کر رہا تھا آزاد، محفوظ، اور اپنی زمین پر مکمل حاکم۔

‏‎نوشکی کے باسی اس دن ایک عجیب سی کیفیت میں تھے۔ شہر کی فضاؤں میں گولیوں کی گن گرج، دھماکوں کی بازگشت اور آگ کے شعلوں کے درمیان، ایک عید جیسا جوش اور خوشی چھائی ہوئی تھی۔ ہر گلی، ہر چھت، ہر چوک سب میں ایک عجیب سی زندگی کے آثار نظر آ رہے تھے۔ لوگ ‏‎خوف کو پیچھے دھکیل کر خوشی اور حوصلے کے ساتھ سرمچاروں کا استقبال کر رہے تھے۔ جہاں جہاں بھی سرمچار نظر آ رہے تھے، وہاں لوگوں نے کھانے، پانی، اور ضرورت کے دیگر سامان پیش کیے۔ یہ صرف احترام نہیں تھا، بلکہ ایک خالص جذبے کا اظہار تھا بلوچ عوام اپنے حقیقی سپاہیوں کی شجاعت اور قربانی کے سامنے اپنا دل کھول رہے تھے۔

‏‎شہر کے ہر گوشے میں، ہر فرد اپنی بساط کے مطابق جنگ کا حصہ بن رہا تھا۔ چھوٹے بچے، بزرگ، خواتین سب اپنے انداز میں مدد فراہم کررہے تھے۔ کچھ نے راشن اور پانی پہنچایا، کچھ نے چھوٹے چھوٹے راستے کھول کر سرمچاروں کے لیے آسانی پیدا کی۔ ہر آنکھ میں شجاعت کی چمک اور دل میں امید کی روشنی تھی۔

‏‎اسی دوران، ایک نوجوان لڑکی، جس کے گھر میں گزرے سالوں سے کچھ گولیاں پڑی تھیں، ان کو احتیاط سے صندوق سے نکالتی ہے۔ وہ گولیاں ‏‎جیسے اس کے ہاتھوں میں جیتی جاگتی کہانیاں بن گئی ہوں۔ وہ انہیں دیکھ کر خاموشی سے بولتی ہے، گویا گولیاں اس سے بات کر رہی ہوں “یہ تمہارے لیے ہیں، تاریخ کے لیے، وہ نصیب جو صرف حقیقی حوصلے والوں کو ملتا ہے۔”

‏‎لڑکی نے سات گولیاں ایک سرمچار کے حوالے کیں اور کہا،

‏‎“یہ ایک بہن کی طرف سے۔”

‏‎یہ سات گولیاں محض دھات کے گولے نہیں تھیں۔ یہ حوصلے، قربانی اور بلوچ عوام کے دلوں کی دھڑکن تھیں۔ ہر گولی ایک عزم، ہر گولی ایک محبت کی کہانی۔ وہ حوصلہ جو ہر بلوچ کے دل میں اپنے حقیقی سپاہیوں کے لیے دھڑکتا ہے، اب ان کے ہاتھوں میں تھا۔

‏‎دوسری جانب، دشمن کے ساتھ شدید جھڑپ جاری تھی۔ ہر طرف دشمن کے ہاتھ کھلے، ہر گلی میں سرمچاروں کی گرفت مضبوط ہوتی جا رہی تھی۔ دشمن کے کیمپ، جو چند دن پہلے تک غیر قابل تسخیر لگتے تھے، اب سرمچاروں کے قبضے میں آ‏‎رہے تھے۔ دشمن کے چہرے خوف اور حیرت سے کھل گئے تھے، ان کی صفیں بکھر رہی تھیں، اور وہ اپنے ہی دفاع کی ناکامی دیکھ کر رو رہے تھے۔

‏‎فرزند بلوچ ہنستے ہنستے زمین پر قربان ہو رہے تھے، ہر قدم، ہر دھماکہ اور ہر گولی دشمن کے لیے قہر کی مانند تھی۔ وہ اپنی شجاعت اور حوصلے کے ساتھ دشمن کی صفوں میں گھس رہے تھے، اور دشمن کے لیے ہر لمحہ ایک نئی اذیت پیدا کر رہا تھا۔

‏‎یہ منظر سات دن تک جاری رہا۔ ہر دن، ہر رات، دشمن کی پوزیشنز پر حملے اور قبضے کے ساتھ سرمچاروں نے نوشکی شہر کو اپنے عزم کی قوت سے بھر دیا۔

‏‎شہر کے ہر گوشے میں آزادی کی خوشبو پھیل گئی، اور دشمن کے لیے یہ شہر تنگ ہوتا گیا۔ ہر راستہ، ہر چوک، ہر محلہ دشمن کے لیے ایک شکنجہ بن گیا تھا۔

‏‎شہر کے باسی، سرمچاروں کے ساتھ، ایک نیا جذبہ اور ایک نیا حوصلہ محسوس کر رہے تھے۔ ہر دھواں، ہر گولی کی گونج، ہر شعلے کی روشنی یہ سب ایک داستان بنا رہے تھے۔ یہ وہ کہانی تھی ‏‎جس میں نہ صرف فتح اور جنگ تھی، بلکہ بہادری، قربانی، اور عوام کے دلوں کے حوصلے کی کہانی بھی شامل تھی۔

‏‎نوشکی شہر اب آزاد محسوس کر رہا تھا۔ بارود کی خوشبو میں بھی آزادی کی خوشبو تھی۔ فرزند بلوچ اپنے ارادے اور حوصلے کے ساتھ دشمن کو پیچھے دھکیل رہے تھے، اور شہر کے باسی، چاہے مرد ہوں یا خواتین، سب اپنے حقیقی وارثوں کے سایوں میں آزاد اور مضبوط محسوس کر رہے تھے۔

‏‎سات دن اور سات راتیں جیسے صدیوں پر محیط محسوس ہوئیں۔ دھواں آہستہ آہستہ فضا میں تحلیل ہونے لگا، گولیوں کی گونج مدھم پڑ گئی، اور بارود کی تیز بو کو صبح کی ٹھنڈی ہوا نے دھیرے دھیرے اپنے اندر سمیٹ لیا۔ نوشکی کے آسمان پر پہلی بار سکون کی ایک مدہم سی لکیر نمودار ہوئی۔

‏‎مگر اس سکون کے نیچے زمین نے سب کچھ یاد رکھا ہوا تھا تھکے قدموں کی چاپ، خوفزدہ سانسوں کی لرزش، ماؤں کی دعائیں، بچوں کی سسکیاں، اور وہ آنکھیں جو مسلسل جاگتی رہی ‏‎تھیں۔ معرکے ختم ہو جاتے ہیں، مگر ان کے نقوش دلوں اور ذہنوں میں دیر تک زندہ رہتے ہیں۔

‏‎جب سورج پوری آب و تاب سے نکلا تو اس نے ایک بدلتا ہوا منظر دیکھا۔ کچھ دیواریں ٹوٹ چکی تھیں، کچھ دروازے جلے ہوئے تھے، اور کچھ چہرے ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکے تھے۔ لیکن انہی ملبوں کے درمیان لوگ ایک دوسرے کو سنبھال رہے تھے۔ کوئی زخمی کو سہارا دے رہا تھا، کوئی خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔

‏‎اس دن ایک نئی سوچ نے جنم لیا کہ شاید سب سے بڑی جیت یہ ہے کہ آنے والی نسلوں کو خوف کے سائے میں نہیں جینا ہے۔

‏‎شام ڈھلی تو شہر پہلے جیسا نہ تھا۔ کہیں کچھ کمی تھی، کچھ زندگیاں بدل رہی تھی۔ کچھ کھو گیا تھا، کچھ سیکھ لیا گیا تھا۔ مگر ایک بات واضح تھی، اندھیری رات چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، اس کے بعد طلوع ہونے والی صبح انسان کو یہ یاد دلا دیتی ہے کہ امید کبھی مکمل طور پر ختم نہیں اور شاید یہی اس داستان کا اصل حاصل ہے کہ تاریخ کے سخت ترین ابواب کے بعد بھی زندگی اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔ اس معرکہ سے بلوچ نے یہی حاصل کیا ہے۔

۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔