یرغمال پاکستانی فوجی اور ریاستی ناکامیوں کا صیغۂ راز
تحریر: حمّل بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
پاکستان اپنے ملازمین، خاص کر فوج میں بھرتی لوگوں کو انسان نہیں بلکہ تنخواہ پر کام کرنے والی مشین سمجھتا ہے کہ ان کے ساتھ جہاں جو ہو جائے، اس نے ٹس سے مس نہیں ہونا۔ حالیہ دنوں بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے سات یرغمال فوجیوں کی تصویر اور پھر ویڈیو جاری ہونے کے بعد پاکستانی حکام بجائے قیدیوں کو چھڑانے اور کوئی پیش رفت کرنے کے، پروپیگنڈا کرنا شروع کر چکے ہیں کہ یہ فوجی حکام نہیں اور نہ ہی یہ ویڈیو اصلی ہے۔ اپنی ناکامی چھپانے والا پاکستان کا یہ پہلا حربہ نہیں بلکہ سال بھر پہلے جعفر ایکسپریس حملے کے دوران بھی کچھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا جس سے آنکھیں چراتے ہوئے حکومت نے قیدی یرغمالیوں کی جانیں ضائع ہونے دیں۔
یاد رہے پاکستان ایک سکیورٹی ریاست ہے جس کو نہ عوام کی فکر ہے اور نہ ہی اپنے کسی ملازم یا عہدیدار کی، کہ پاکستان کے نام پر جہاں جو بھیڑ بکریوں کی طرح قتل ہو، تو ہو۔ حکمرانوں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ان کے کتنے فوجی مارے گئے اور کتنے بلوچ آزادی پسندوں کے قبضے میں ہیں۔ یہ آج کا واقعہ نہیں بلکہ ستر سالوں سے بلوچستان میں یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ پاکستان کی فوجی چوکیوں و دیگر مقامات پر حملوں کے بعد سیکڑوں افراد کے مارے جانے پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے اور اپنے فوجیوں اور مارے جانے والے افراد پر نوحہ گری کرنے، انہیں خراج پیش کرنے وغیرہ کا کوئی عمل دکھائی نہیں دیتا۔
اس کا ایک صاف اور واضح مقصد یہی ہے کہ پاکستان، جو کہ آج بھی ایک غلام ملک ہے اور امریکہ و یورپ کی تال پر ناچنے والی ایک ریاست ہے، کو اپنے باسیوں اور عوام کی فکر نہیں۔ مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایسے افراد کے خاندانوں کی طرف سے بھی کوئی بیان، واویلا اور مزاحمت دکھائی نہیں دیتی کہ ان کے بھی تو لختِ جگر ایک غلط راہ پر چل کر مارے جا رہے ہیں۔ ان افراد کے خاندانوں کو بھی چاہیے تھا کہ حکومتی خوف و پیسوں کی لالچ کو پرے رکھ کر اپنے لہو لہان، یرغمال قیدیوں کو چھڑانے کے لیے خود غرض اور مفاد پرست حکمرانوں پر زور ڈالتے۔
یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ حکومت کی جانب سے ایسے ویڈیوز نہ قیدیوں کے خاندانوں تک پہنچتے ہیں اور نہ ہی انہیں معلوم پڑتا ہے کہ ان کے لختِ جگر کہاں پھنسے ہوئے ہیں، ورنہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسے افراد کے خاندان والے بھی انہیں بلوچستان جیسے علاقوں کے لیے فوج میں بھرتی ہو کر جانے سے روکتے کہ جہاں فوج کاؤنٹر ٹیررازم کے نام پر بلوچ قوم پر ظلم کے پہاڑ ڈھا رہی ہے، لوگوں کو لاپتہ کیا جاتا ہے اور مسخ کرکے ان کی لاشیں پھینک دی جاتی ہیں۔ ممکن ہے کچھ لوگ ان فوجیوں کی مجبوری کہہ کر یہ بات ٹال دیں کہ “وہ بھی اپنی نوکری کے لیے مجبور ہیں” مگر ہم بلوچ بارہا یہ سوال پوچھتے ہیں کہ کیا مجبوری میں کوئی کسی پر تیزاب چھڑک کر اسے قتل کر سکتا ہے؟ کیا مجبوری میں کوئی کسی کے ناخن کھینچ کر اس کے جسم پر گہری چوٹ لگانے کو تیار ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
اب بھی وقت ہے کہ پاکستان کے تینوں صوبوں کے لوگ پاکستانی مشینری کا حصہ نہ بنیں اور نہ ہی اپنے خاندان کو بننے دیں، وگرنہ بلوچستان لبریشن آرمی اس مشینری کی نوآبادیاتی پالیسیوں میں ملوث ہر شخص پر ہاتھ ڈال سکتی ہے اور پاکستان اپنے ہر شخص کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرتے ہوئے آزادی پسندوں کے ہاتھوں مروانے سے گریز نہیں کرے گا۔ اب بھی وقت ہے کہ لوگ پاکستانی پروپیگنڈے کو سمجھ کر اپنے خاندانوں کو بچا لیں، وگرنہ سات دن کے بعد کا الٹی میٹم ختم ہوتے ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا کہ بلوچستان کے آزادی پسند اے آئی سے ویڈیوز بنا رہے تھے یا پاکستانی حکام اپنی ناکامی چھپانے کے لیے جھوٹے پروپیگنڈوں کا سہارا لے رہے تھے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































