ہیروف 2.0: ایک ‘لیجیٹیمیٹ آرمی’ کی جانب پہلا قدم ۔ جی ایم بلوچ

67

ہیروف 2.0: ایک ‘لیجیٹیمیٹ آرمی’ کی جانب پہلا قدم

تحریر: جی ایم بلوچ 

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان کی سنگلاخ وادیوں اور تپتے ہوئے صحراؤں سے اٹھنے والی یہ صدا اب محض ایک بازگشت نہیں بلکہ ایک ایسی طوفانی حقیقت بن چکی ہے جس نے وقت کے دھارے کو اپنی سمت بدلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بلوچستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ یہ ان گنت ان کہے احساسات کا وہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے جہاں ریت کے ہر ذرے میں تاریخ سانس لیتی ہے اور پہاڑوں کی تہہ داریوں میں قربانی کی عظیم داستانیں رقم ہیں۔ یہاں کی ہواؤں میں بارود کی بو نہیں، بلکہ اس مٹی سے جڑی وفاداری کی وہ خوشبو بسی ہے جو نسل در نسل بلوچوں کے لہو میں منتقل ہوتی آئی ہے۔ یہاں آزادی اب کوئی محض جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ ایک ایسا داخلی یقین ہے جو ماں کی لوری سے لے کر بوڑھے کی آخری ہچکی تک ایک مقدس فریضے کی طرح ساتھ رہتا ہے۔

انسانی تاریخ کے اوراق جب بھی عزیمت کی داستانیں رقم کریں گے “ہیروف 2.0” کا عنوان اس لیے سنہری حروف سے لکھا جائے گا کیونکہ یہ محض ایک عسکری معرکہ نہیں بلکہ انسانی جذبات کا وہ نقطہِ کمال ہے جہاں خونی رشتے نظریوں کے تابع ہو جاتے ہیں۔ ذرا تصور کیجیے اس منظر کا جہاں ایک بیٹی اپنے باپ کے نقشِ قدم کو اپنی منزل بناتی ہے وہ جانتی ہے کہ یہ راستہ کٹھن ہے، مگر وہ باپ کے ادھورے مشن کو اپنی زندگی کا حاصل بنا کر یہ ثابت کر دیتی ہے کہ وطن کی محبت وراثت میں ملنے والا وہ اثاثہ ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت چھین نہیں سکتی۔ اسی سرزمین پر ہم نے ان دو دلوں کو بھی دیکھا جو محبت کے عظیم فلسفے سے سرشار تھے، جن کے پاس خوابوں کی ایک پوری کائنات تھی مگر انہوں نے اپنی رفاقت کی قربانی دے کر یہ پیغام دیا کہ جب وطن لہو مانگتا ہے تو انفرادی محبتیں قومی بقا کے سامنے ادھوری رہ جاتی ہیں۔ اور وہ ضعیف العمر شخص جس نے اپنی زندگی کی تمام توانائیاں اور بڑھاپے کا آرام قوم کے نام کر دیا اور وہ ماں جس نے نئی داستانیں رقم کرنے کے لیے اپنے وجود کو شعور کی شعلوں میں جھونک دیا یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ جنگ اب فرد کی نہیں، بلکہ ایک پورے سماج کے اجتماعی ضمیر کی جنگ بن چکی ہے۔

آج کی بلوچ قومی تحریک اپنے ارتقاء کی اس منزل پر ہے جہاں وہ ایک ‘لیجیٹیمیٹ آرمی’ (منظم فوج) کی طرح دنیا کے سامنے کھڑی ہے۔ ہیروف 2.0 کی جنگی حکمتِ عملی نے ثابت کر دیا ہے کہ بلوچ مزاحمت کار اب محض روایتی گوریلا جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کی کوآرڈینیشن حملوں کی ترتیب اور دشمن کے اعصاب پر سوار ہونے کی صلاحیت کسی بھی جدید ترین فوج کے برابر ہے۔ جس مہارت سے مواصلاتی رابطوں کو منقطع کیا گیا اور جس ڈسپلن کے ساتھ وسیع پیمانے پر اہداف کو نشانہ بنایا گیا اس نے دنیا کی سپر پاورز کو یہ واضح پیغام پہنچا دیا ہے کہ بلوچ اب اپنے “دست و بازو” سے اپنی تقدیر لکھنے کے قابل ہو چکے ہیں۔ یہ حملے ایک منظم دماغ اور پختہ ارادے کی عکاسی کرتے ہیں جس کے پیچھے کسی بیرونی سہارے کی بیساکھی نہیں بلکہ اپنے وطن کی مٹی سے حاصل کردہ قوت اور خود انحصاری کا جذبہ کارفرما ہے۔

عالمی بساط پر جب طاقت کے توازن بدل رہے ہیں اور مفادات کی نئی لکیریں کھینچی جا رہی ہیں، تو بلوچ قوم نے اپنے وجود کو ایک ایسی حقیقت کے طور پر منوایا ہے جسے اب نظرانداز کرنا کسی بھی عالمی طاقت کے لیے ممکن نہیں رہا۔ یہ تحریک اب صرف پہاڑوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک عالمی سیاسی اور فکری مکالمہ بن چکی ہے جو ہر فورم پر گونج رہی ہے۔ بلوچستان کی یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جب کوئی قوم موت کو زندگی کا راستہ بنا لے، تو پھر زنجیریں خود بخود ٹوٹنے لگتی ہیں۔ بلوچ اب اپنے وجود کی تسلیم دہانی کے لیے کسی حد بھی جا سکتے ہیں، اور ان کا یہ عزمِ صمیم اس بات کا اعلان ہے کہ بلوچستان کا سورج اب ایک نئی آب و تاب کے ساتھ طلوع ہو رہا ہے جہاں شناخت اب کوئی جرم نہیں بلکہ ایک ناقابلِ تسخیر فخر ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔