ہمارے فوجیوں کو بچانے کی ریاستی ذمہ داری – بلال ملک

46

ہمارے فوجیوں کو بچانے کی ریاستی ذمہ داری

تحریر: بلال ملک

دی بلوچستان پوسٹ

قوموں کے درمیان جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں، بلکہ وہ ریاست اور اس کے سپاہیوں کے درمیان اعتماد کے رشتے کی بھی آزمائش ہوتی ہیں۔ ایک ملک کا فوجی جب وردی پہنتا ہے تو وہ اپنی جان ریاست کے سپرد کر دیتا ہے۔ اس کے بدلے ریاست پر یہ اخلاقی، آئینی اور قومی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ سپاہی کی زندگی میں اسے سہولیات فراہم کرے، ریاستی سرحدوں کی حفاظت کرتے جان دینے کے بعد اس کے اہل و عیال کی ذمہ لے اور جنگوں میں قیدی بننے یا لاپتہ ہونے کی صورت میں سپاہی کو ہر ممکن تحفظ فراہم کرے۔

دنیا کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے کہ مختلف ملکوں یا قوموں کے درمیان ہونے والی جنگوں میں ایک فوجی کی بازیابی کے لیے ہزاروں قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔ ذمہ دار ریاستیں کبھی اپنے سپاہیوں کو تنہا نہیں چھوڑتیں اور ان کی حفاظت کرکے دوسرے سپاہیوں کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ ریاست کبھی آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ اپنے سپاہیوں کی حفاظت کے لیے اگر ریاست کی طرف سے خاموشی، تاخیر یا بے عملی دکھائی دے تو عوامی سطح پر یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ کیا واقعی ایک سپاہی کی جان کی کوئی قدر نہیں ہے؟

حماس نے اسرائیل کے فوجی Gilad Shalit کو یرغمال بنایا تو اسرائیل اس قیدی کے بدلے حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے پر تیار ہوا۔ سن 2011 کے معاہدے میں Gilad Shalit کو پانچ سال قید کے بعد رہا کروایا گیا۔ اس کے بدلے اسرائیل نے 1,027 فلسطینی قیدی آزاد کیے جن میں یحییٰ سنوار بھی شامل تھا۔ اس سے پہلے بھی، 1985 میں اسرائیل نے اپنے تین فوجیوں کے بدلے 1,150 فلسطینی قیدی رہا کیے۔ سن 2004 میں ایک افسر اور تین فوجیوں کی لاشوں کے بدلے 435 فلسطینی قیدیوں کو آزادی دی۔ 2022 سے جاری یوکرین اور روس کے درمیان جنگ میں بھی متعدد بار سینکڑوں گرفتار فوجیوں کا تبادلہ کیا گیا ہے۔ دو ملکوں یا قوموں کے درمیان سخت ترین جنگی حالات کے باوجود بھی قیدیوں کی واپسی کو مذاکراتی عمل کا حصہ بارہا بنایا گیا ہے۔

حالاتِ جنگ میں قومیں شدید دشمنی کے ماحول میں بھی اپنے فوجی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے عملی اقدامات کرتی ہیں اور آج ہماری فوج بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے۔ بلوچستان کی جنگ کے دوران ہمارے سپاہی بی ایل اے کے یرغمال بن چکے ہیں۔

بلوچ لبریشن آرمی ہمارے سات فوجی اہلکاروں کو یرغمال بنائے ہوئے ہے اور قیدیوں کے تبادلے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سے پہلے بھی بلوچ لبریشن آرمی نے ہمارے یرغمال فوجی اہلکاروں کی رہائی کو قیدیوں کے تبادلے سے مشروط کیا ہے اور مذاکرات نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے گرفتار فوجیوں کو مار دیا گیا ہے۔

بی ایل اے نے بلوچستان کے مختلف شہروں پر حملوں میں ہمارے سات فوجی اہلکاروں کے یرغمال بننے کا اعلان کیا ہے اور سات دن کے اندر مذاکرات نہ کرنے پر ہمارے فوجیوں کو مارنے کا اعلان کیا ہے۔

ہمارے لیے اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ بی ایل اے کیا مطالبہ کر رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہمارے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمارے فوجیوں کو بچانے کے لیے اقدامات کریں۔

اس سے پہلے ایسے واقعات ہو چکے ہیں جن میں قیدیوں کے تبادلے سے انکار کے نتیجے میں ہمارے فوجی اہلکار جان سے گئے ہیں، ہمارے ریاستی اداروں کو اپنی اس پالیسی پر نظرثانی کرنا ہوگی کیونکہ ہر سپاہی ریاست کے ساتھ ایک اخلاقی معاہدہ کرکے میدانِ جنگ میں اترتا ہے۔ وہ جان دینے کو تیار ہوتا ہے، مگر یہ توقع بھی رکھتا ہے کہ مشکلات کی صورت میں ریاستی ادارے اسے تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

ریاست کے انکار کے فیصلے سے ہم پہلے ہی اپنے کئی سپاہیوں کا نقصان کر چکے ہیں۔ ریاست سختی ضرور دکھائے لیکن اپنے سپاہیوں سے غافل نہ ہو۔ قیدیوں کے تبادلے نہ ہونے کی صورت میں نہ صرف ہمارے فوجی مارے جائیں گے بلکہ ہمارے فوجیوں کے حوصلے بھی پست ہوں گے اور عوامی اعتماد پر بھی اثر پڑے گا۔

مجھے معلوم ہے کہ ریاستی اداروں کو بعض اوقات سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں، مسلح مخالفین سے مذاکرات ایک پیچیدہ مسئلہ ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کی کئی ریاستیں اپنے ایک اہلکار کی واپسی کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنے میں کبھی نہیں ہچکچاتیں۔

دنیا کے مختلف ممالک میں جب بھی فوجی اہلکار گرفتار ہوئے ہیں یا یرغمال بنائے گئے ہیں تو یہ معاملہ صرف ایک عسکری مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک قومی مسئلہ بن گیا ہے۔ ایسے مواقع پر ریاستی سطح کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی ہمیں شدید ردِعمل دینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے فوجی اس ملک کے اثاثے ہیں، اگر ان کے لیے ہم خاموش رہے تو یہ قوم سے خیانت ہوگی۔

یوکرین کے فوجی جب روس کے ساتھ جنگ کے دوران قیدی بنائے گئے تو فوجیوں کے خاندانوں نے مظاہرے کیے، سوشل میڈیا مہمات چلیں اور حکومت پر زور دیا گیا کہ ہر ممکن صورت میں ہمارے فوجیوں کو بچایا جائے۔ ہمارے فوجی آج بی ایل اے کی قید میں ہیں، ریاست کے ساتھ یہ ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے فوجیوں کو تنہا نہ چھوڑیں۔

ہمارے ملک میں جب بھی ہمارے فوجیوں کو یرغمال بنایا گیا ہے تو عموماً چند سرکاری بیانات کے بعد معاملہ پس منظر میں چلا گیا ہے۔ ایسے رویّوں کی وجہ سے ہم روز اپنے فوجی بھائیوں کو کھو رہے ہیں۔

ہمیں اپنے فوجیوں کو یہ تاثر نہیں دینا چاہیے کہ ہمارے سپاہی کی جان سے زیادہ ادارے کی ساکھ کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ریاست اور سپاہی کے درمیان تعلق صرف تنخواہ یا ڈیوٹی کا نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک اخلاقی معاہدہ ہے۔ اگر سپاہی کو یہ یقین نہ ہو کہ گرفتاری یا محاصرے کی صورت میں ریاست اس کے لیے آخری حد تک جائے گی تو یہ ہمارے قومی دفاعی ڈھانچے کے لیے خطرناک ہوگا۔

ملک کی فوج اپنی طاقت ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اپنے جوان کے اعتماد سے حاصل کرتی ہے۔ اگر سپاہی کو یہ یقین نہ ہو کہ گرفتاری یا محاصرے کی صورت میں ریاست اس کے لیے آخری حد تک جائے گی تو یہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے ادارے کے مورال کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

ریاست کا اصل امتحان جنگ جیتنے میں نہیں بلکہ اپنے لوگوں اور فوجیوں کا ساتھ نہ چھوڑنے میں ہے۔ اگر ہمارے ملکی سرحدوں کی حفاظت میں جان دینے والے فوجیوں میں یہ تاثر عام ہو جائے کہ ہمارے فوج میں ان کی زندگی فیصلہ سازوں کی ترجیحات میں سرفہرست نہیں ہے تو یہ نہ صرف ہماری اخلاقی ناکامی ہے بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی ایک سنگین سوالیہ نشان بن جائے گا۔

ہمارے ریاستی اداروں، پاکستان فوج، فرنٹیئر کور اور بلوچستان کی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ہمارے فوجیوں کی زندگی بچانے کے لیے وہ کسی بھی اقدام سے گریز نہ کریں۔ ہم اپنے فوجیوں کی زندگی بچا کر اور ان کا اعتماد حاصل کرکے ہی یہ جنگ جیت سکتے ہیں۔ ہماری فوج ہمارے محافظ ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ہمارے فوجی اہلکاروں کی زندگی بچانے کے لیے وہ ضرور کچھ نہ کچھ کریں گے۔ ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے محافظوں کو نہ بھولیں اور ان کی زندگی بچانے کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔