ھیروف 2 ۔ میرل بلوچ

38

ھیروف 2

تحریر: میرل بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ھیروف 2 ایک بے مثال اور تاریخی معرکہ تھا جو بلوچ تاریخ کے سنہری ابواب میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ یہ وہ معرکہ تھا جس نے غلامی کے تصور کو للکارا اور جبر کے ایوانوں میں دراڑیں ڈال دیں۔ یہ جنگ ہتھیاروں سے زیادہ شعور کی تھی، بارود سے زیادہ یقین کی تھی، اور تعداد سے زیادہ حوصلے کی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جنگ وقت کی زنجیروں کو توڑ کر بلوچ تاریخ کے سب سے روشن اور بے خوف ابواب میں تبدیل ہو گئی۔

یہ جدوجہد ان لوگوں کی تھی جنہوں نے خوف کو اپنے قدموں تلے روند دیا۔ یہاں نوجوانوں کے شعلہ زن جذبے تھے، بوڑھوں کا صبر اور تجربہ تھا، ماؤں کی دعائیں تھیں اور کم عمر بچوں کی آنکھوں میں وہ خواب تھے جو کسی بھی طاقت سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ اس معرکے نے ثابت کیا کہ انقلاب کسی ایک نسل، کسی ایک طبقے یا کسی ایک لمحے کا محتاج نہیں ہوتا۔ جب شعور بیدار ہو جائے تو پوری قوم میدان میں اتر آتی ہے۔

ھیروف 2 نے دشمن کو یہ پیغام دیا کہ طاقت کے بل پر قوموں کو خاموش تو کیا جا سکتا ہے، مگر مٹایا نہیں جا سکتا۔ ہر گرتا ہوا جسم ایک نئے عزم کو جنم دیتا رہا، ہر بہتا ہوا خون کا قطرہ ایک نئی سوچ میں ڈھلتا رہا۔ یہاں پسپائی نہیں تھی، یہاں صرف آگے بڑھنے کا فیصلہ تھا۔ دشمن کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہونا محض جرات نہیں بلکہ اس اعلان کی صورت تھا کہ یہ تحریک سودے بازی نہیں جانتی۔

یہ معرکہ وقتی ردِعمل نہیں تھا بلکہ ایک مسلسل بغاوت کا تسلسل تھا۔ ایک ایسی فکری جنگ جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔ یہ وہ شمع تھی جو ایک قربانی سے دوسری قربانی تک جلتی رہی، اور ہر نئی روشنی نے اندھیروں کو مزید بے نقاب کیا۔ یہاں شکست کا کوئی تصور نہیں تھا، کیونکہ جو تحریک شعور سے جنم لے، اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

ھیروف 2 نے یہ ثابت کر دیا کہ ظلم جتنا بھی منظم ہو، اس کا انجام لرزش ہی ہوتا ہے۔ امید، جب یقین میں بدل جائے، تو زنجیروں کو کاٹ دیتی ہے۔ اسی لیے یہ معرکہ صرف ایک جنگ نہیں رہا بلکہ ایک نظریہ بن گیا، ایک راستہ بن گیا—ایسا راستہ جو آنے والی نسلوں کو یہ سکھاتا رہے گا کہ آزادی مانگی نہیں جاتی، سمجھی جاتی ہے، اور جو قوم اسے سمجھ لے، اسے کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔