گوادر، تربت: پاکستانی فورسز کے عام آبادیوں پر حملے، 13 بلوچ شہری جاںبحق

57

بلوچستان میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ آپریشن ہیروف 2 کے پیشِ نظر گوادر سمیت صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور دیگر کئی شہروں میں وقفے وقفے سے دھماکوں اور فائرنگ کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، پاکستانی فورسز نے آپریشن ہیروف کے دوران بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ایک کمپاؤنڈ پر حملہ کیا، جہاں زیادہ تر مزدور رہائش پذیر تھے۔ متاثرہ افراد کا تعلق تحصیل زہری کے دو خاندانوں سے بتایا جاتا ہے۔ حملے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 12 افراد جاں بحق جبکہ 10 کے قریب افراد زخمی ہوئے۔

جاں بحق افراد میں نور محمد فقیر زہری ولد ملا جُورک، ان کے بیٹے غلام یاسین اور ایک اور مرد شامل ہیں، جبکہ 4 خواتین اور 5 بچے بھی حملے میں جان سے گئے۔ زخمیوں میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

ادھر تربت سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، پھل آباد، تربت میں پاکستانی فورسز کی جانب سے شہری آبادی پر مارٹر گولے داغے گئے، جس کے نتیجے میں 15 سالہ انس بلوچ، ولد ابراہیم، جاں بحق ہو گیا۔ اس حملے میں ایک پانچ سالہ بچہ اور دو خواتین شدید زخمی ہوئیں۔ حملے کے بعد پاکستانی فورسز نے علاقے میں گھروں کو مسمار کرنا شروع کر دیا۔

دی بلوچستان پوسٹ کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، بلوچستان کے بیشتر شہروں میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام کی بندش کے باعث جانی و مالی نقصانات کا بروقت اور مکمل اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔