بلوچستان کے مختلف علاقوں کولواہ اور نوشکی سے پاکستانی فورسز نے نو افراد کو جبری طور پر لاپتہ کردیا۔
کولواہ کے علاقے آشال سے پاکستانی فورسز نے دو بھائیوں کو مختلف اوقات میں جبری طور پر لاپتہ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق کیچ کے علاقے کولواہ آشال سے بارہ فروری کی شب دو بجے پاکستانی فورسز نے ایک 18 سالہ نوجوان اعجاز بلوچ ولد عبدالغفور کو اس کے گھر سے اٹھا کر لاپتہ کردیا۔
مزید برآں پندرہ فروری کی شب اعجاز بلوچ کے بڑے بھائی نواز بلوچ ولد عبدالغفور کو تربت سے کولواہ آتے ہوئے لوکل گاڑی سے اتار کر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
نوشکی سے پاکستانی فورسز نے مختلف اوقات میں سات افراد کو جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔
نوشکی کے علاقے قاضی آباد سے تعلق رکھنے والے عبدالقدیر بلوچ کو 30 جنوری کو دوپہر تقریباً تین بجے کوئٹہ کے علاقے لیاقت پارک سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
ذرائع کے مطابق عبدالقدیر بلوچ ولد ذوالفقار بلوچ پیشے کے اعتبار سے ڈیزل پمپ چلاتے ہیں۔ وہ اپنے کاروباری امور کے سلسلے میں کوئٹہ آئے تھے جہاں سے انہیں حراست میں لیا گیا۔
مزید برآں ظفر اللہ ولد عمر شاہ سکنہ قاضی آباد، محمود ولد حاجی نور احمد سکنہ کلی بدل کاریز 6 فروری کو ان گھروں پر چھاپوں کے دوران جبری لاپتہ کردیا۔
طالب علم عبدالحق ولد غلام نبی سکنہ کلی جمال آباد، طالب علم کامران بلوچ ولد حاجی محمد حسن سکنہ کلی جمال آباد کو 11 فروری کی شام ان کے گھروں سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
جبکہ شاہ زمان ولد عبداللہ سکنہ کلی جمال آباد، نصیر احمد ولد عبداللہ سکنہ کلی جمال آباد کو 12 فروری کی رات ان کے گھروں پر چھاپوں کے دوران جبری لاپتہ کردیا گیا۔
















































