بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں پاکستانی فورسز کا مختلف علاقوں میں آپریشن کے دوران سو زائد سے افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کردیا ۔
جبکہ صوبائی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ سو مشکوک افراد کو گرفتار کرکے کئی گھروں سے چھوٹے ، بڑے ہتھیار برآمد کئے ہیں ۔ تاہم انہوں نے اس دوران میڈیا کو کوئی شواہد فراہم نہیں کئے ۔
صوبائی حکومت کے مطابق آج رات تک کوئٹہ میں انٹرنیٹ بحال کیجائے گا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیاکہ بلوچستان بھر میں حالات کو کنٹرول میں ہیں ۔ تاہم نوشکی سمیت کئی علاقوں میں صورتحال بدستور کشیدہ اور مواصلاتی نظام بند ہے ۔
واضح رہے کہ 31 جنوری کو بلوچستان کے ساحلی شہروں کوئٹہ، گوادر، پسنی، دالبندین، خاران اور نوشکی سمیت بلوچستان کے بارہ مختلف شہروں میں بیک وقت حکومتی اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کا آغاز کیا گیا۔ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ان تمام حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہیں آپریشن ہیروف کے دوسرے مرحلے کا حصہ قرار دیا۔














































