بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ آج بروز پیر کوئٹہ پریس کے سامنے 6081ویں روز میں داخل ہوگیا۔
اس دوران مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی، انہوں جبری گمشدگیوں کی فوری خاتمہ اور تنویر احمد اور بشیراحمد سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔
آج تنویر احمد اور بشیر احمد کے والدہ بی بی شاہدہ اور دادی نے احتجاج میں شرکت کی، اور کوئٹہ کی سردی اور بارش کے باوجود بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
بی بی شاہدہ نے کہا کہ ان کے بیٹے 17 سالہ تنویر احمد اور 15 سالہ بشیراحمد ولد شبیراحمد کو 3 فروری کی رات ان کے گھر واقع کلی بنگلزئی، سریاب کسٹم کوئٹہ سے ایف سی اور دیگر ملکی اداروں کے اہلکاروں نے ان کے سامنے سے حراست میں لینے کے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا، اور انہیں ان کے بیٹوں کے خیریت بارے کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کیا جارہا ہے، جس کی وجہ سے ان کا خاندان شدید کرب و اذیت کے شکار ہے
انہوں نے کہا کہ انکا شوہر فوت ہوچکا ہے، وہ ایک بے سہارا عورت ہے، ان کے یہ دو بیٹے انکا سہارا ہے، جس کی گرفتاری کے بعد وہ شدید پریشانی میں مبتلا ہوا ہے، اور اس پریشانی کی وجہ سے وہ دو دنوں سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ آکر اپنی احتجاج ریکارڈ کرارہے ہیں، ان کے اس احتجاج کا مقصد بھی یہ ہے، اعلی حکام ان کی فریاد کو سنیں، اور ان کے بیٹوں کی بازیابی کو یقینی بنا کر انہیں کرب و اذیت سے نجات دلائیں
وی بی ایم پی کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ تنویر احمد اور بشیراحمد کے والدہ شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہے، اور احتجاجی کیمپ میں ایک دو دفعہ بےہوش بھی ہوا ہے، جس کی وجہ سے ہمیں خدشہ ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کی جدائی کی اذیت کی وجہ سے اپنی ذہنی توازن کہی کھو نہ بیٹھیں، اسلیے ہم حکومت اور ریاستی اداروں کے سربراہوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تنویر احمد اور بشیراحمد کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنانے میں اپنی کردار ادا کرکے ان کے والدہ بی بی شاہدہ کو ذہنی کرب و اذیت سے نجات دلائیں۔

















































