شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد شہریوں کو کمرہ کی فراہمی سے انکار کیا جارہا ہے، شہریوں کی شکایت۔
کراچی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر کے مختلف ہوٹلوں اور رہائشی مقامات پر بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے آنے والے شہریوں کو کمرہ فراہم کرنے سے انکار کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
شہریوں کے مطابق یہ صورتحال گزشتہ چند دنوں میں تشویش ناک حد تک بڑھ گئی ہے، متعدد افراد نے شکایت کی ہے کہ جب وہ کراچی کے ہوٹلز میں کمرہ لینے گئے تو ان کا شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد اسٹاف نے معذرت کرلی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ایک پختون شہری کو بھی اسی بنیاد پر کمرہ دینے سے روکا گیا، اور ہوٹل حکام نے مؤقف اپنایا کہ فوجی اداروں نے انہیں بلوچستان سے آنے والے افراد کو کمرہ دینے سے منع کیا ہے۔
اگرچہ سیکورٹی حکام کی جانب سے اس نوع کی ہدایات کی سرکاری سطح پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی، تاہم متعدد ہوٹل مالکان نے اور اسٹاف نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں حالیہ واقعات کے بعد کراچی کی سیکورٹی سخت کرنے کے لئے انہیں اضافی احتیاطی اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔
بعض ہوٹل انتظامیہ نے یہ بھی بتایا کہ ماضی میں صرف شناخت کی تصدیق اور متعلقہ حکام سے رابطے کی ہدایات دی گئی تھیں، لیکن اب کئی ہوٹلوں کو واضح طور پر کمرے فراہم نہ کرنے کا کہا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کاروبار، روزگار اور علاج معالجے کے لیے روزانہ ہزاروں بلوچ شہری کراچی کا رخ کرتے ہیں، جہاں قیام کے لیے زیادہ تر ہوٹلز اور رینٹڈ رہائش پر انحصار کیا جاتا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ حالیہ پابندیوں کے باعث انہیں شدید ذہنی و معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
بلوچستان کے شہریوں نے متعلقہ حکام اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتِ حال کا فوری نوٹس لیں اور کراچی آنے والے مسافروں کے لیے باوقار اور محفوظ رہائش کے حق کو یقینی بنائیں۔



















































