کراچی، بلوچستان: پاکستانی فورسز نے مزید 15 بلوچوں کو جبری طور پر لاپتہ کردیا

16

بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ کراچی اور بلوچستان سے مزید پندرہ افراد کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق لیاری کے علاقے کلری سے تعلق رکھنے والے نوجوان کاشف بلوچ کو 18 فروری کی رات دو بجے پاکستانی فورسز نے ان کے گھر سے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔

یاد رہے کہ کاشف بلوچ کو اس سے قبل گزشتہ سال جولائی میں صدر کے علاقے میں ان کی دکان سے بھی فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا تھا۔ چند ماہ بعد انہیں رہا کردیا گیا تھا، تاہم گزشتہ رات انہیں دوسری بار لاپتہ کردیا گیا۔

ادھر گزشتہ شب لیاری میں پولیس اور سندھ رینجرز نے مختلف گھروں پر چھاپے مار کر 13 افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ رہائشیوں کے مطابق چاکیواڑہ، بغدادی اور کلری کے علاقوں سے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، تاہم فوری طور پر ان کے نام معلوم نہیں ہوسکے۔

علاوہ ازیں گوادر کی تحصیل جیونی سے سترہ سالہ طالب علم عبداللہ ولد عبدالحمید کو بھی پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔