چودہ سال سے جبری لاپتہ بیٹے کا انتظار کرنے والی اماں حوری انتقال کرگئیں

38

اماں ہوری نے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے کوئٹہ اور اسلام آباد میں دھرنے دیے اور مسلسل احتجاج ریکارڈ کیا۔

7 اگست 2012 کو کوئٹہ سے جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے گل محمد مری ولد بہار خان مری کی والدہ، اماں حوری اپنے لاپتہ بیٹے کے انتظار میں دنیا سے رخصت ہوگئیں۔

اماں حوری نے بیٹے کی بازیابی کے لیے کوئٹہ اور اسلام آباد میں دھرنے دیے اور کمیشن و عدالتوں میں چودہ سال سے اپنے لاپتہ بیٹے کا مقدمہ لڑتی رہیں، لیکن ان کا بیٹا برسوں بعد بھی منظرِ عام پر نہ آسکا۔

انکے بیٹے گل محمد مری کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا۔

اماں حوری کے انتقال پر بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ وہ مزاحمت کی علامت تھیں وہ ماں جو 2012 میں اپنے بیٹے کے جبری گمشدہ ہونے کے بعد کبھی نہیں رکی، بیوگی کے تیس سے زائد برس اور مسلسل درد کے باوجود وہ سڑکوں، کیمپوں اور احتجاجوں میں اپنے بیٹے کی تلاش میں نکلتی رہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاٹھی چارج، دھمکیاں، بھوک اور تھکن سب جھیل کر بھی وہ پیچھے نہ ہٹیں، بلوچ راجی مچّی میں تشدد دیکھنے کے بعد 2023 میں وہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے ساتھ کیمپ میں بیٹھیں اور جلسے کے لیے دالبندین تک سفر کیا، چودہ برس تک وہ ہر دعا میں اپنے بیٹے کا نام پکارتی رہیں، حتیٰ کہ 2025 میں اسلام آباد پہنچ کر بھی انصاف کی طلب گار تھیں۔

بی وائی سی نے کہا کہ آج اماں حوری انتظار کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوگئیں، وہ اپنے بیٹے کو آخری بار گلے لگائے بغیر، اس کا سراغ پائے بغیر چلی گئیں۔ مگر ان کی جدوجہد آج بھی زندہ ہے، ہر اُس ماں میں جو تصویر اٹھائے کھڑی ہے، ہر اُس آواز میں جو سچ اور انصاف مانگتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اماں حوری ہاری نہیں وہ ویسے ہی رخصت ہوئیں جیسے زندہ رہیں محبت، صبر اور مزاحمت کے ساتھ اللہ کرے ان کا دل اب سکون پائے اور ان کا بیٹا جانے کہ اس کی ماں نے آخری سانس تک اس کا نام نہیں چھوڑا۔

آخر میں تنظیم نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام جبری گمشدہ افراد کو فوراً اور محفوظ طور پر رہا کیا جائے، تاکہ ماؤں کا یہ طویل اور دردناک انتظار ختم ہوسکے۔